کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: لقمہ گرنے پر اسے اٹھا لینے، پیالے کو صاف کرنے، اور چاٹنے کے بعد رومال سے ہاتھ صاف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14617
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةٌ مِنْ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ مَا أَصَابَهَا مِنَ الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلَا يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أِيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اٹھا کر صاف کر کے کھا لے، شیطان کے لیے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ رومال سے صاف کرنے سے پہلے چاٹ لے یا چٹوا دے؛ کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کس کھانے میں برکت ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14617
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 2033»
حدیث نمبر: 14618
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنا أَبُو دَاوُدَ، أنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ وَقَالَ: " إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ "، وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الصَّحْفَةَ وَقَالَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي فِي أِيِّ طَعَامِهِ يُبَارَكُ لَهُ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کھانا کھاتے تو اپنی تین انگلیوں کو چاٹ لیتے اور فرماتے: ”جب تمہارا لقمہ گر جائے تو وہ صاف کر کے اس کو کھا لے اور شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔“ اور ہمیں حکم دیتے کہ ہم پلیٹ کو صاف کریں اور فرماتے: ”تم میں سے کوئی جانتا نہیں ہے کہ کس کھانے میں برکت ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14618
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 2034»