کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جسے ولیمے کی دعوت دی جائے اور اس میں کوئی گناہ کا کام ہو، تو وہ انہیں اس سے منع کرے، پھر اگر وہ اس کام کو اس سے دور کر دیں تو ٹھیک، ورنہ وہ دعوت قبول نہ کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، فِي قِصَّةِ الْبِدَايَةِ بِالْخُطْبَةِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی برائی کو دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے روکے، اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے منع کرے، اگر زبان سے منع کرنے کی طاقت بھی نہ ہو تو دل سے منع کرے، یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو ⦗٤٣٤⦘ الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ السَّائِبِ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ قَاصَّ الْأَجْنَادِ بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقْعُدْ عَلَى مَائِدَةٍ يُدَارُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِإِزَارٍ، وَمَنْ كَانَتْ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا تَدْخُلِ الْحَمَّامَ " وَرُوِيَ هَذَا مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب کا دور ہو، اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ تہبند پہن کر حمام میں داخل ہو، اور جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو وہ حمام میں داخل نہ ہو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، بِبَغْدَادَ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَطْعَمَيْنِ: " " الْجُلُوسُ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ، وَأَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُنْبَطِحٌ عَلَى بَطْنِهِ " "، قَالَ أَصْحَابُنَا: فَإِذَا أَجَابَ وَلَمْ يَعْلَمْ قَعَدَ وَلَمْ يُسَاعِدِ الْقَوْمَ عَلَى الْمَعْصِيَةِ وَلَمْ يَسْتَمِعْ إِلَى مَلَاهِيَهَا ثُمَّ يَخْرُجُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو قسم کے کھانے سے منع فرمایا ہے: ”ایسے دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا جس پر شراب کا دور ہو اور پیٹ کے بل لیٹ کر کھانے سے منع فرما دیا۔“
ہمارے حضرات کا کہنا ہے: اگر اس نے دعوت قبول کرلی اور وہ نہیں جانتا تو وہ بیٹھ جائے اور لوگوں کی نافرمانی میں مدد نہ کرے اور نہ ہی ان کی کھیل کی طرف دیکھے اور چلا جائے۔
ہمارے حضرات کا کہنا ہے: اگر اس نے دعوت قبول کرلی اور وہ نہیں جانتا تو وہ بیٹھ جائے اور لوگوں کی نافرمانی میں مدد نہ کرے اور نہ ہی ان کی کھیل کی طرف دیکھے اور چلا جائے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْإِيَادِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْمُطَّوِعِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَيْرٍ أَخِي عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا عُمِلَ بِالْخَطِيئَةِ فِي الْأَرْضِ كَانَ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا كَمَنْ غَابَ عَنْهَا، وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب زمین پر نافرمانی کی جائے تو موجود آدمی، جس نے اس کو ناپسند کیا، وہ ایسے ہے جیسے اس وقت موجود نہ تھا، لیکن جو غائب تھا پھر بھی اس نافرمانی کو پسند کرتا ہے، تو وہ ایسے ہے جیسے اس وقت موجود تھا۔“
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ أَشْعَبَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ: ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَعْدٍ مَوْلَى عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللهِ أَوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِذَا عُمِلَتْ فِي النَّاسِ خَطِيئَةٌ فَمَنْ رَضِيَهَا مِمَّنْ غَابَ عَنْهَا فَهُوَ كَمَنْ شَهِدَهَا، وَمَنْ كَرِهَهَا مِمَّنْ شَهِدَهَا فَهُوَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا "، وَرُوِيَ هَذَا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب لوگوں میں برائی عام ہو جائے، جس نے اپنی عدم موجودگی میں بھی اس کو پسند کیا وہ حاضر کی مانند ہے اور جس نے اس برائی کو اپنی موجودگی میں ناپسند کیا وہ غائب شخص کی مانند ہے۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ نَافِعُ بْنُ ⦗٤٣٥⦘ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ أَوِ ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنِ ابْنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَضَرَ مَعْصِيَةً فَكَرِهَهَا فَكَأَنَّمَا غَابَ عَنْهَا، وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَأَحَبَّهَا فَكَأَنَّهُ حَضَرَهَا "، وَفِي رِوَايَةِ الدَّارِمِيِّ: يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ. تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنی موجودگی میں ہوتی ہوئی برائی کو ناپسند کیا گویا کہ وہ اس سے غائب ہے اور جو برائی کے وقت موجود نہ تھا، لیکن اس نے برائی کو پسند کیا گویا کہ وہ حاضر تھا۔“