السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: الرجل يدعى إلى الوليمة وفيها المعصية نهاهم فإن نحوا ذلك عنه وإلا لم يجب باب: اس شخص کا بیان جسے ولیمے کی دعوت دی جائے اور اس میں کوئی گناہ کا کام ہو، تو وہ انہیں اس سے منع کرے، پھر اگر وہ اس کام کو اس سے دور کر دیں تو ٹھیک، ورنہ وہ دعوت قبول نہ کرے۔
حدیث نمبر: 14550
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، بِبَغْدَادَ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَطْعَمَيْنِ: " " الْجُلُوسُ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ، وَأَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُنْبَطِحٌ عَلَى بَطْنِهِ " "، قَالَ أَصْحَابُنَا: فَإِذَا أَجَابَ وَلَمْ يَعْلَمْ قَعَدَ وَلَمْ يُسَاعِدِ الْقَوْمَ عَلَى الْمَعْصِيَةِ وَلَمْ يَسْتَمِعْ إِلَى مَلَاهِيَهَا ثُمَّ يَخْرُجُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو قسم کے کھانے سے منع فرمایا ہے: ”ایسے دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا جس پر شراب کا دور ہو اور پیٹ کے بل لیٹ کر کھانے سے منع فرما دیا۔“
ہمارے حضرات کا کہنا ہے: اگر اس نے دعوت قبول کرلی اور وہ نہیں جانتا تو وہ بیٹھ جائے اور لوگوں کی نافرمانی میں مدد نہ کرے اور نہ ہی ان کی کھیل کی طرف دیکھے اور چلا جائے۔