السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: الرجل يدعى إلى الوليمة وفيها المعصية نهاهم فإن نحوا ذلك عنه وإلا لم يجب باب: اس شخص کا بیان جسے ولیمے کی دعوت دی جائے اور اس میں کوئی گناہ کا کام ہو، تو وہ انہیں اس سے منع کرے، پھر اگر وہ اس کام کو اس سے دور کر دیں تو ٹھیک، ورنہ وہ دعوت قبول نہ کرے۔
حدیث نمبر: 14551
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْإِيَادِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْمُطَّوِعِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَيْرٍ أَخِي عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا عُمِلَ بِالْخَطِيئَةِ فِي الْأَرْضِ كَانَ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا كَمَنْ غَابَ عَنْهَا، وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب زمین پر نافرمانی کی جائے تو موجود آدمی، جس نے اس کو ناپسند کیا، وہ ایسے ہے جیسے اس وقت موجود نہ تھا، لیکن جو غائب تھا پھر بھی اس نافرمانی کو پسند کرتا ہے، تو وہ ایسے ہے جیسے اس وقت موجود تھا۔“