حدیث نمبر: 14358
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟ " قَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ فَالْتَمِسْ شَيْئًا"، قَالَ: وَاللهِ مَا أَجِدُ شَيْئًا قَالَ: " الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟ " قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ. قَالَ: " وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس آکر ایک عورت نے اپنا نفس آپ ﷺ کے لیے ہبہ کردیا اور وہ بہت زیادہ دیر کھڑی رہی، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر آپ کو ضرورت نہیں ہے تو میرا نکاح (اس سے) کردیں،“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”حق مہر دینے کے لیے تیرے پاس کیا ہے؟“ اس شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میری یہ چادر ہے۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو نے چادر دے دی تو تیرے پاس کچھ نہ بچے گا، کچھ اور تلاش کرو۔“ اس نے عرض کیا: ”میرے پاس کچھ نہیں ہے،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ملے۔“ تلاش کے باوجود کچھ نہ ملا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے قرآن یاد ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”فلاں فلاں سورت یاد ہے،“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے اس قرآن کے عوض کردیا۔“ ابو حازم کی روایت میں ہے: ”اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 14359
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ ⦗٣٨٦⦘ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كُنْتُ فِي الْقَوْمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّهَا وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ، فَقَامَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا ثُمَّ قَامَتِ الثَّالِثَةُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَاذْهَبْ فَاطْلُبْ "، فَذَهَبَ فَطَلَبَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا قَالَ: " اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " قَالَ: فَذَهَبَ فَطَلَبَ، فَقَالَ: لَمْ أَجِدْ شَيْئًا، قَالَ: " هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟ " قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا قَالَ: " اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "، لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوحازم نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں لوگوں کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس تھا کہ ایک عورت کھڑی ہوئی، اس نے کہا: میں نے اپنے نفس کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، آپ ﷺ کی رائے کو ایک شخص نے دیکھا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا نکاح (اس سے) کر دیں، لیکن آپ ﷺ نے کچھ جواب نہ دیا، پھر عورت نے کھڑے ہو کر کہا: میں نے اپنے نفس کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، آپ ﷺ نے اس کو دیکھا، پھر اس شخص نے کہا: آپ میرا نکاح کر دیں، پھر تیسری مرتبہ وہ عورت کھڑی ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص سے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ تلاش کرو۔“ لیکن تلاش کے باوجود اس کو کچھ نہ ملا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی تلاش کرو۔“ پھر وہ شخص گیا تو آکر کہنے لگا: مجھے کچھ بھی نہیں ملا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تجھے قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: فلاں فلاں سورت یاد ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جا میں نے تیرا نکاح اس قرآن کے عوض کر دیا جو تیرے پاس ہے۔“
حدیث نمبر: 14360
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، وَمُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ: " مَهْيَمْ أَوْ مَهْ؟ "، فَقَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً قَالَ: " عَلَى كَمْ؟ " قَالَ: عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: " بَارَكَ اللهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کے نشانات دیکھے تو پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کتنے حق مہر کے عوض؟“ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض، آپ ﷺ نے فرمایا: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ» ”اللہ تجھے برکت دے، ولیمہ کرو چاہے ایک بکری ہی سہی۔“
حدیث نمبر: 14361
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَاشَةَ الْعُرْسِ وَسَأَلَهُ فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، ⦗٣٨٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک انصاری عورت سے کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض شادی کی۔ جب نبی ﷺ نے شادی کی خوشی دیکھی تو پوچھا، عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”میں نے ایک کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض ایک عورت سے شادی کی ہے۔“
حدیث نمبر: 14362
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مُهَاجِرًا فَآخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: لِي امْرَأَتَانِ فَانْظُرْ أَيَّتَهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ حَتَّى أُطَلِّقَهَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا تَزَوَّجْهَا، وَلِي مَالٌ فَنِصْفُهُ لَكَ، فَقَالَ بَارَكَ اللهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ فَدَلُّوهُ قَالَ: فَلَمْ يَرْجِعْ يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَاءَ بِأَشْيَاءَ، ثُمَّ فَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ وَعَلَيْهِ وَضَرُ صُفْرَةٍ فَقَالَ لَهُ: " مَهْيَمْ؟ "، فَقَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: " عَلَى كَمْ؟ " قَالَ: عَلَى نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ قَالَ: وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ: " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ "، قَالَ: وَحَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَصَابَ شَيْئًا مِنْ سَمْنٍ وَأَقِطٍ رَبِحَهُ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے آئے تو نبی ﷺ نے ان کو سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کا بھائی بنا دیا، تو سعد رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے کہا: میری دو بیویاں ہیں جو آپ کو پسند ہو میں طلاق دے دیتا ہوں، عدت گزرنے کے بعد شادی کر لینا اور میرا نصف مال آپ کے لیے ہے، تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: «بَارَكَ اللهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ» ”اللہ تعالیٰ آپ کے اہل و عیال اور مال میں برکت دے، آپ مجھے بازار کا راستہ بتائیں“، تو انہوں نے بتا دیا، وہ کچھ اشیاء لے کر ہی واپس پلٹے، پھر نبی ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض یا کہا: گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض۔ فرمایا: ”ولیمہ کرو چاہے ایک بکری ہی سہی۔“
(ب) حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی اس طرح روایت فرماتے ہیں کہ جو بھی انہوں نے گھی یا پنیر خریدا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو نفع ہی دیا۔
(ب) حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی اس طرح روایت فرماتے ہیں کہ جو بھی انہوں نے گھی یا پنیر خریدا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو نفع ہی دیا۔
حدیث نمبر: 14363
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: تَزَوَّجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض شادی کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 14364
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَازَ ذَلِكَ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ دُونَ قَوْلِهِ: فَجَازَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک انصاری عورت سے کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض شادی کی، وہ جائز تھی۔
حدیث نمبر: 14365
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " قُوِّمَتْ يَعْنِي النَّوَاةَ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ وَثُلُثًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ گٹھلی تین درہم اور ایک تہائی کے برابر ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 14366
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رَاشِدٍ، ثنا عَبَّاسٌ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، أَنَّ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قُوِّمَتْ خَمْسَ دَرَاهِمَ " وَهَذَا أَشْبَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک انصاری عورت سے ایک کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض شادی کی، جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔
حدیث نمبر: 14367
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: " قَوْلُهُ نَوَاةٌ يَعْنِي خَمْسَةَ دَرَاهِمَ قَالَ: وَخَمْسَةُ دَرَاهِمَ تُسَمَّى نَوَاةَ ذَهَبٍ، كَمَا تُسَمَّى الْأَرْبَعُونَ أُوقِيَّةً، وَكَمَا تُسَمَّى الْعِشْرُونَ نَشًّا ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ «نَوَاةٌ» ”نواۃ“ یعنی پانچ درہم، پانچ درہموں کو «نَوَاةٌ مِنْ ذَهَبٍ» ”نواۃ من ذہب“ سے تعبیر کر دیا، جیسے ٤٠ کو «أُوقِيَّةٌ» ”اوقیہ“ کہہ دیتے ہیں اور ٢٠ کا نام «نَشٌّ» ”نش“ رکھ دیتے ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ٤٠ اوقیہ کو «نَشٌّ» ”نش“ کہتے ہیں اور «نَوَاةٌ» ”نواۃ“ پانچ کو کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14368
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ الْأَيَّامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى نَهَانَا عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَقَدْ مَضَتِ الدَّلَالَةُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ حَرَّمَ نِكَاحَ الْمُتْعَةِ بَعْدَ الرُّخْصَةِ، وَالنَّسْخُ إِنَّمَا وَرَدَ بِإِبْطَالِ الْأَجَلِ لَا قَدْرَ مَا كَانُوا عَلَيْهِ يَنْكِحُونَ مِنَ الصَّدَاقِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک مٹھی کھجور اور آٹے کے عوض متعہ کر لیتے تھے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عمرو بن حریث کے معاملے میں اس سے منع فرما دیا۔
(ب) محمد بن رافع کی حدیث میں گزر چکا کہ نبی ﷺ نے متعہ کی رخصت کے بعد نکاحِ متعہ کو حرام قرار دے دیا، یہ حرمت اجل کے متعین کرنے کی وجہ سے ہوئی، لیکن وہ نکاح جو حق مہر ادا کر کے کیے جاتے ہیں وہ نہیں۔
(ب) محمد بن رافع کی حدیث میں گزر چکا کہ نبی ﷺ نے متعہ کی رخصت کے بعد نکاحِ متعہ کو حرام قرار دے دیا، یہ حرمت اجل کے متعین کرنے کی وجہ سے ہوئی، لیکن وہ نکاح جو حق مہر ادا کر کے کیے جاتے ہیں وہ نہیں۔
حدیث نمبر: 14369
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَعِمْرَانُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَجَمَاعَةٌ، قَالُوا: ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ " كُنَّا نَنْكِحَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَبْضَةِ مِنَ الطَّعَامِ " هَذَا هُوَ الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ إِلَّا أَنَّهُ أَتَى بِهِ بِهَذَا اللَّفْظِ وَيَعْقُوبُ بْنُ عَطَاءٍ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے عہد میں ایک مٹھی کھانے کے عوض نکاح کر لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 14370
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا صَالِحُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى مِلْءِ كَفٍّ مِنْ طَعَامٍ لَكَانَ ذَلِكَ صَدَاقًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص عورت سے نکاح ایک مٹھی بھر کھانے کے عوض کرے تو یہ حق مہر ہوگا۔“
حدیث نمبر: 14371
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُبَشِّرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مُوسَى بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْطَى فِي صَدَاقٍ مِلْءَ كَفَّيْهِ بُرًّا أَوْ تَمْرًا أَوْ سَوِيقًا أَوْ دَقِيقًا فَقَدِ اسْتَحَلَّ " رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ جِبْرِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایک درہم حق مہر دینا جائز خیال کیا اس کے لیے نکاح کرنا جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 14372
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا ⦗٣٩٠⦘ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَةُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَنْبَسَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَبِي لَبِيبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اسْتَحَلَّ بِدِرْهَمٍ فَقَدِ اسْتَحَلَّ " يَعْنِي النِّكَاحَ وَرَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ وَكِيعٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيبَةَ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابی لبیبہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایک درہم حق مہر دینا جائز خیال کیا اس کے لیے نکاح کرنا جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 14373
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيِّ ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ أَيْ نِكَاحَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو فزارہ کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے ایک عورت سے دو جوتوں کے عوض شادی کی ہے، تو نبی ﷺ نے اس کے نکاح کو جائز رکھا۔
حدیث نمبر: 14374
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ فَزَارَةَ جِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَزَوَّجْتُ عَلَى نَعْلَيْنِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ " فَأَجَازَهُ " عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تَكَلَّمُوا فِيهِ وَمَعَ ضَعْفِهِ رَوَى عَنْهُ الْأَئِمَّةُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بنو فزارہ کی ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس نے دو جوتوں کے عوض شادی کی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اپنے نفس اور مال سے دو جوتوں کے عوض پر راضی ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے اس کو بھی جائز رکھا۔
حدیث نمبر: 14375
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الطَّائِفِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا الْعَلَائِقُ بَيْنَهُمْ؟ قَالَ: " مَا تَرَاضَى عَلَيْهِ أَهْلُوهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن بیلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنی بیواؤں کے نکاح کرو۔“ کہنے لگے: کتنے حق مہر کے عوض؟ فرمایا: ”جتنے پر ان کے گھر والے آپس میں رضامند ہو جائیں۔“
حدیث نمبر: 14376
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ⦗٣٩١⦘ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، وَأَبِي مُعَاوِيَةَ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الطَّائِفِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ هَذَا مُنْقَطِعٌ وَقَدْ قِيلَ: عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ..
حافظ ثناء اللہ
خالی۔
حدیث نمبر: 14377
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو زُنَيْجٌ، ثنا هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حَجَّاجٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
خالی۔
حدیث نمبر: 14378
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْكِحُوا الْأَيَامَى " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا الْعَلَائِقُ؟ قَالَ: " مَا تَرَاضَى عَلَيْهِ أَهْلُوهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنی عورتوں کی شادی کرو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! کتنے حق مہر کے عوض؟ فرمایا: ”جتنے پر ان کے گھر والے رضامند ہو جائیں۔“
حدیث نمبر: 14379
وَقَدْ قِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " مَا تَرَاضَى عَلَيْهِ الْأَهْلُونَ وَلَوْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ " أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُنِيرٍ الْمَطِيرِيُّ، ثنا الرَّمَادِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَهُوَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، فَذَكَرَهُ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ رَحِمَهُ اللهُ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ضَعِيفٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ ضَعِيفٌ وَالضَّعْفُ عَلَى حَدِيثِهِمَا بَيِّنٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ قَالَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ مِنْ مُزَكِّي الْأَخْبَارِ، وَلِلْحَدِيثِ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جتنے پر ان کے گھر والے راضی ہو جائیں، اگرچہ پیلو کے درخت کی شاخ ہی کیوں نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 14380
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا أَبُو هَارُونَ الْعَبْدِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَدَاقِ النِّسَاءِ فَقَالَ: " هُوَ مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ أَهْلُوهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جتنے پر ان کے گھر والے رضامند ہو جائیں، اگرچہ پیلو کے درخت کی شاخ ہی کیوں نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 14381
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، وَشَرِيكٌ، عَنْ أَبِي هَارُونَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ شَرِيكٌ: رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ جُنَاحٌ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِقَلِيلٍ أَوْ كَثِيرٍ مِنْ مَالِهِ إِذَا تَرَاضَوْا وَأَشْهِدُوا " ⦗٣٩٢⦘ أَبُو هَارُونَ الْعَبْدِيُّ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَرْفُوعًا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَلَغَنَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فِي ثَلَاثِ قَبَضَاتِ زَبِيبٍ مَهْرٌ.
حافظ ثناء اللہ
شریک مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انسان پر گناہ نہیں ہے کہ وہ تھوڑے یا زیادہ مال کے عوض شادی کرے، جب وہ آپس میں رضامند ہوں اور گواہ بنا لیں۔“
«قَالَ الشَّافِعِيُّ» ”امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا:“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تین مٹھی منقہ کے عوض یعنی حق مہر نکاح کرے۔
«قَالَ الشَّافِعِيُّ» ”امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا:“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تین مٹھی منقہ کے عوض یعنی حق مہر نکاح کرے۔
حدیث نمبر: 14382
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " إِنْ رَضِيَتْ بِسِوَاكِ أَرَاكٍ فَهُوَ لَهَا مَهْرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر عورت پیلو کی مسواک کے حق مہر پر بھی راضی ہو جائے۔
حدیث نمبر: 14383
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي رَوَاهُ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ، الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْكِحُ النِّسَاءَ إِلَّا كُفُؤٌ وَلَا يُزَوِّجُهُنَّ إِلَّا الْأَوْلِيَاءُ وَلَا مَهْرَ دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " أَخْبَرَنَاه أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِبَّانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنِ عِيسَى بْنِ سِكِّينٍ الْبَلَدِيُّ ثنا زَكَرِيَّا بْنُ الْحَكَمِ الرَّسْعَنِيُّ ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ ثنا مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں کا نکاح کفو سے کیا جائے اور ان کے نکاح ورثاء کریں اور دس درہم سے کم مہر نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 14384
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُطِيقِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ جَحْدَرٌ ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا مُبَشِّرٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا صَدَاقَ دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ: مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ وَهَذَا مُنْكَرٌ لَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ قَالَ عَلِيُّ بْنُ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ أَحَادِيثُهُ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ وَلَمْ يَأْتِ بِهِ عَنِ الْحَجَّاجِ غَيْرُ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَلَبِيِّ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى تَرْكِهِ، وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ يَرْمِيهِ بِوَضْعِ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دس درہم سے کم مہر نہ ہونا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 14385
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَدْنَى مَا يُسْتَحَلُّ بِهِ الْفَرْجُ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سب سے کم حق مہر جس کے ذریعے شرمگاہوں کو حلال کیا جاتا ہے وہ دس درہم ہیں۔
حدیث نمبر: 14386
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَيَّاطُ ثنا سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " لَا صَدَاقَ دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”دس درہموں سے کم حق مہر نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 14387
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ رَوَوْا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فيه شَيْئًا لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ لَوْ لَمْ يُخَالِفْهُ غَيْرُهُ أَنَّهُ " لَا يَكُونُ مَهْرٌ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول کوئی چیز بھی اس کی مثل ثابت نہیں ہے، اگر کوئی دوسرا اس کی مخالفت نہ کرے کہ دس درہموں سے کم حق مہر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 14388
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا ابن نُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْبَصِيرِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ يَعْنِي الثَّوْرِيَّ: حَدِيثُ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " لَا مَهْرَ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " فَقَالَ سُفْيَانُ: دَاوُدُ مَا زَالَ هَذَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ قُلْتُ: إِنَّ شُعْبَةَ رَوَى عَنْهُ فَضَرَبَ جَبْهَتَهُ وَقَالَ: دَاوُدُ دَاوُدُ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ دس درہموں سے کم حق مہر نہیں ہے۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: داؤد، داؤد؟ اور وہ اس کا انکار ہی کرتے رہے، میں نے کہا: شعبہ رحمہ اللہ ان سے نقل فرماتے ہیں، تو انہوں نے اپنی پیشانی پر مارا اور کہا: داؤد، داؤد؟
حدیث نمبر: 14389
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَيَّارٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: لَقَّنَ غِيَاثُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دَاوُدَ الْأَوْدِيَّ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا يَكُونُ مَهْرٌ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " فَصَارَ حَدِيثًا.
حافظ ثناء اللہ
شعبی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حق مہر دس درہم سے کم نہ ہو، تو یہ حدیث بن گئی۔
حدیث نمبر: 14390
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: غِيَاثٌ كَذَّابٌ لَيْسَ بِثِقَةٍ وَلَا مَأْمُونٍ، قَالَ أَبُو الْفَضْلِ: هُوَ غِيَاثُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ قَالَ: وَسَمِعْتُ يَحْيَى يَقُولُ: دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ لَيْسَ بِشَيْءٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو الفضل غیاث بن ابراہیم بصری فرماتے ہیں: میں نے یحییٰ کو فرماتے ہوئے سنا کہ داؤد «لَا شَيْءَ» ”کچھ بھی نہیں“ کے درجے میں ہے۔
حدیث نمبر: 14391
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٌّ أَنْبَأَ السَّاجِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُثَنَّى، يَقُولُ: مَا سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، وَلَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ، شَيْئًا قَطُّ وَبِمَعْنَاهُ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ⦗٣٩٤⦘ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایت کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 14392
أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الصَّدَاقُ مَا تَرَاضَى بِهِ الزَّوْجَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حق مہر وہ ہے جس پر میاں بیوی راضی ہوجائیں۔“
حدیث نمبر: 14393
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ قَالَ: بُشِّرَ رَجُلٌ بِجَارِيَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ: هَبْهَا لِي فَذُكِرَ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَقَالَ: " لَمْ تَحِلَّ الْمَوْهُوبَةُ لِأَحَدٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ أَصْدَقَهَا سَوْطًا فَمَا فَوْقَهُ جَازَ " وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: " وَلَوْ أَصْدَقَهَا سَوْطًا أُحِلَّتْ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن قسیط رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو ایک لونڈی کی خوشخبری دی گئی تو اس مرد نے کہا: اپنا نفس میرے لیے ہبہ کر دو۔ اس کا تذکرہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے سامنے ہوا تو وہ فرمانے لگے: ”نبی ﷺ کے بعد کسی کے لیے اپنا نفس ہبہ کرنا درست نہیں ہے۔“ اگر مرد عورت کو کوڑا یا اس سے بھی کم حقِ مہر دے دے تو وہ جائز ہے، اور دوسری جگہ پر ہے کہ اگر ایک کوڑا حقِ مہر دے دے تو وہ اس کے لیے حلال ہے۔
حدیث نمبر: 14394
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي يَحْيَى قَالَ: سَأَلْتُ رَبِيعَةَ كَمْ أَقَلُّ الصَّدَاقِ؟ فَقَالَ: " مَا تَرَاضَى بِهِ الْأَهْلُونَ "، قُلْتُ: وَإِنْ كَانَ دِرْهَمًا؟ قَالَ: " وَإِنْ كَانَ نِصْفَ دِرْهَمٍ " قُلْتُ: وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ؟ قَالَ: " وَلَوْ كَانَ قَبْضَةً مِنْ حِنْطَةٍ أَوْ حَبَّةَ حِنْطَةٍ وَاللهُ أَعْلَمُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ربیعہ رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ حق مہر کتنا کم ہونا چاہیے؟ فرماتے ہیں: جتنے پر گھر والے راضی ہو جائیں، میں نے کہا: اگرچہ ایک درہم ہی ہو۔ فرمانے لگے: اگرچہ نصف درہم ہی کیوں نہ ہو۔ میں نے کہا: اگر اس سے بھی کم ہو؟ فرماتے ہیں: اگرچہ ایک مٹھی گندم یا گندم کے دانے ہی کیوں نہ ہوں۔