کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عورت کا مہر روک لینے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِنْ أَعْظَمِ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللهِ رَجُلٌ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا طَلَّقَهَا وَذَهَبَ بِمَهْرِهَا وَرَجُلٌ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا فَذَهَبَ بِأُجْرَتِهِ وَآخَرُ يَقْتُلُ دَابَّةً عَبَثًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص عورت سے شادی کرنے اور اپنی حاجت پوری کرلینے کے بعد اسے طلاق دے دے اور اس کا مہر بھی لے جائے، اور ایسا شخص جس نے کسی سے کام کروایا اور اس کی اجرت لے گیا، اور وہ شخص جس نے کسی کی سواری کو فضول میں قتل کر دیا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُصَيْنِ بْنِ الْقَاسِمِ الْقَصَّاصُ، مَوْلَى قُرَيْشٍ قَالَ: سَمِعْتُ السَّكَنَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " حُبُّ الْأَنْصَارِ إِيمَانٌ، وَبُغْضُهُمْ كُفْرٌ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى صَدَاقٍ وَلَا يُرِيدُ أَنْ يُعْطِيَهَا فَهُوَ زَانٍ " ⦗٣٩٥⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ عَنِ السَّكَنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَرُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ عَنْ صُهَيْبٍ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انصار سے محبت ایمان ہے اور انصار سے بغض کفر ہے اور وہ شخص جو عورت سے شادی حق مہر پر کرتا ہے لیکن ادا کرنے کا ارادہ نہیں ہے تو یہ زانی ہے۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ قَالَ: سَمِعْتُ صُهَيْبَ بْنَ سِنَانٍ، يُحَدِّثُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَصْدَقَ امْرَأَةً صَدَاقًا وَاللهُ يَعْلَمُ مِنْهُ أَنَّهُ لَا يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَيْهَا فَغَرَّهَا بِاللهِ وَاسْتَحَلَّ فَرْجَهَا بِالْبَاطِلِ لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ زَانٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جس نے عورت کو حق مہر دینے کا ارادہ ظاہر کیا اور اللہ جانتا ہے کہ وہ حقیقت میں حق مہر ادا نہیں کرنا چاہتا، تو اس نے اسے اللہ کے نام پر دھوکا دیا اور باطل طریقے سے شرمگاہ کو حلال کیا، وہ قیامت کے دن زانی ہونے کی حالت میں اللہ سے ملاقات کرے گا۔“