کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ دھوکہ کھانے والا (شوہر)، مہر اور بچوں کی قیمت اس شخص سے وصول کرے گا جس نے اسے دھوکہ دیا۔
حدیث نمبر: 14252
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فِي الْقَدِيمِ قَضَى عُمَرُ، وَعَلِيٌّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي الْمَغْرُورِ يَرْجِعُ بِالْمَهْرِ عَلَى مَنْ غَرَّهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے (اپنے) قدیم (قول) میں فرمایا: ”سیدنا عمر، سیدنا علی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم نے دھوکا کھائے ہوئے (شوہر) کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا کہ وہ مہر (کی رقم) اس شخص سے واپس لے گا جس نے اسے دھوکا دیا۔“
حدیث نمبر: 14252
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً وَبِهَا جُنُونٌ أَوْ جُذَامٌ أَوْ بَرَصٌ وَمَسَّهَا فَلَهُا صَدَاقُهَا وَذَلِكَ لِزَوْجِهَا غُرْمٌ عَلَى وَلِيِّهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس شخص نے کسی عورت سے شادی کی، وہ مجنون، کوڑھی یا برص کی بیماری میں مبتلا تھی، اس نے مجامعت بھی کرلی تو اس کے ذمہ مہر ہے اور یہ عورت کے ولی پر ڈالا جائے گا۔
حدیث نمبر: 14253
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْوَضِينِ: إِنَّ أَخَوَيْنِ تَزَوَّجَا أُخْتَيْنِ فَأُهْدِيَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا إِلَى أَخِي زَوْجِهَا فَأَصَابَهَا، فَقَضَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِصَدَاقٍ، وَجَعَلَهُ يَرْجِعُ بِهِ عَلَى الَّذِي غَرَّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوالوضی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو بھائیوں کی شادی دو بہنوں سے ہو گئی، ان دونوں عورتوں کو دونوں بھائیوں کی جانب سے تحفے بھی ملے اور ان سے مجامعت بھی کی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ہر ایک کے ذمے حقِ مہر ڈال دیا اور فرمایا کہ دھوکا دینے والا شخص یہ ادا کرے گا۔
حدیث نمبر: 14254
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ، أَوْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " قَضَى أَحَدُهُمَا فِي أَمَةٍ غَرَّتْ بِنَفْسِهَا رَجُلًا فَذَكَرَتْ أَنَّهَا حُرَّةٌ فَوَلَدَتْ أَوْلَادًا فَقَضَى أَنْ يُفْدِي وَلَدَهُ بِمِثْلِهِمْ "، قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: وَذَلِكَ يَرْجِعُ إِلَى الْقِيمَةِ لِأَنَّ الْعَبْدَ لَا يُؤْتَى بِمِثْلِهِ وَلَا نَحْوِهِ، فَلِذَلِكَ يُرْجَعُ إِلَى الْقِيمَةِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَمَنْ قَالَ لَا يَرْجِعُ بِالْمَهْرِ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ فِي الْجَدِيدِ احْتَجَّ بِمَا رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِذًا جَعَلَ لَهَا الصَّدَاقَ بِالْمَسِيسِ فِي النِّكَاحِ الْفَاسِدِ بِكُلِّ حَالٍ وَلَمْ يَرُدَّهُ بِهِ عَلَيْهَا وَهِيَ الَّتِي غَرَّتْهُ لَا غَيْرُهَا كَانَ فِي النِّكَاحِ الصَّحِيحِ الَّذِي لِلزَّوْجِ فِيهِ الْخِيَارُ أَوْلَى أَنْ يَكُونَ لِلْمَرْأَةِ وَإِذَا كَانَ لِلْمَرْأَةِ لَمْ يَجُزْ أَنْ تَكُونَ هِيَ الْآخِذَةُ لَهُ وَيُغَرِّمُهُ وَلِيُّهَا، قَالَ: وَقَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الَّتِي نُكِحَتْ فِي عِدَّتِهَا إِنْ أُصِيبَتْ فَلَهَا الْمَهْرُ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ كَانَ يَقُولُ هُوَ فِي بَيْتِ الْمَالِ ثُمَّ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ مَسْرُوقٌ: رَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ قَوْلِهِ فِي الصَّدَاقِ وَجَعَلَهُ لَهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فیصلہ ایسی لونڈی کے بارے میں فرمایا جس نے کسی کو دھوکا دیا کہ وہ آزاد ہے اور اس کی اولاد بھی ہوگئی کہ اس کے مثل بچے فدیہ دیے جائیں، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قیمت ادا کی جائے؛ کیونکہ غلام اس جیسا یا اس کی مثل ادا نہیں کیا جا سکتا، اس لیے قیمت ہی ادا کی جائے گی۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے کہا کہ حق مہر واپس نہ کیا جائے گا، یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا جوید قول ہے۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: ”جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، اگر اس سے مجامعت کر لی تو اس کے عوض حق مہر ادا کرنا ہے“۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب نکاح فاسد میں مجامعت کی وجہ سے حق مہر ہے، جو اس کو واپس نہ کیا جائے گا، یہ اس عورت کے ذمہ ہے جس نے اس کو دھوکا دیا، اس کے علاوہ کسی دوسرے کے ذمہ نہ ہوگا، حالانکہ نکاح صحیح میں خاوند کو اختیار ہوتا ہے کہ یہ حق مہر عورت کے لیے ہے تو اس سے لینا درست نہیں، لیکن چٹی ولی پر ڈالی جائے گی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ جس عورت سے عدت کے اندر صحبت کی گئی اس کے لیے حق مہر ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ حق مہر بیت المال میں جمع کروا دیں، بعد میں اس سے رجوع کر لیا، مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صداق والے قول سے رجوع فرما لیا تھا؛ کیونکہ یہ اس کی شرمگاہ کو حلال سمجھنے کے عوض تھا جو عورت کو مل گیا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے کہا کہ حق مہر واپس نہ کیا جائے گا، یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا جوید قول ہے۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: ”جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، اگر اس سے مجامعت کر لی تو اس کے عوض حق مہر ادا کرنا ہے“۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب نکاح فاسد میں مجامعت کی وجہ سے حق مہر ہے، جو اس کو واپس نہ کیا جائے گا، یہ اس عورت کے ذمہ ہے جس نے اس کو دھوکا دیا، اس کے علاوہ کسی دوسرے کے ذمہ نہ ہوگا، حالانکہ نکاح صحیح میں خاوند کو اختیار ہوتا ہے کہ یہ حق مہر عورت کے لیے ہے تو اس سے لینا درست نہیں، لیکن چٹی ولی پر ڈالی جائے گی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ جس عورت سے عدت کے اندر صحبت کی گئی اس کے لیے حق مہر ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ حق مہر بیت المال میں جمع کروا دیں، بعد میں اس سے رجوع کر لیا، مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صداق والے قول سے رجوع فرما لیا تھا؛ کیونکہ یہ اس کی شرمگاہ کو حلال سمجھنے کے عوض تھا جو عورت کو مل گیا۔