کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ کوئی بیمار (اونٹوں والا) کسی صحت مند (اونٹوں والے) کے پاس نہ آئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے اس بیمار کے اختلاط کو اس کی بیماری کا سبب بنا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14234
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔“
حدیث نمبر: 14235
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى، وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَةَ " قَالَ: فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیماری متعدی نہیں ہوتی اور صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہے اور کوئی الو منحوس نہیں ہے“، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے کہا: ان اونٹوں کی کیا حالت ہے جو ہرن کی مانند تندرست ہوتے ہیں، تو خارش زدہ اونٹ ان سے مل کر ان کو بھی خارشی کر دیتا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پہلے کو بیماری کس نے لگائی ہے؟“ تو زہری کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے مجھے بیان کیا کہ وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے“۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا آپ ہمیں بیان نہیں کرتے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ ”بیماری متعدی نہیں ہوتی اور صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہوتا اور کوئی الو منحوس نہیں ہوتا“، اس نے کہا: میں نے تمہیں بیان نہیں کیا، زہری کہتے ہیں کہ ابوسلمہ نے مجھے کہا کہ اس نے بیان کیا تھا، میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، وہ دوسری حدیث بھول گئے۔
حدیث نمبر: 14236
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا عَدْوَى "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ مُرَاجَعَةَ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ، وَقَوْلَ أَبِي سَلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”بیماری متعدی نہیں ہوتی“، ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔“
حدیث نمبر: 14237
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى " فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَرَأَيْتَ الْإِبِلَ تَكُونُ فِي الرِّمَالِ أَمْثَالَ الظِّبَاءِ فَيَأْتِيهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا جَمِيعًا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیماری متعدی نہیں ہوتی۔“ تو ایک دیہاتی کھڑا ہوا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا صحت مند اونٹوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو ہرن کے مانند ہوتے ہیں، پھر ان کے ساتھ خارشی اونٹ آتا ہے تو وہ سارے خارش زدہ ہو جاتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”پہلے کو بیماری کس نے لگائی تھی؟“
حدیث نمبر: 14238
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَسَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ " فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ الدَّوْسِيُّ: فَإِنَّكَ كُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى " قَالَ: فَأَنْكَرَ ذَلِكَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ الْحَارِثُ: بَلَى قَدْ كُنْتَ تُخْبِرُنَا ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَمَارَى هُوَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ حَتَّى إِذَا اشْتَدَّ مِرَاؤُهُمَا فَغَضِبَ أَبُو هُرَيْرَةَ عِنْدَ ذَلِكَ فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ: هَلْ تَدْرِي مَاذَا قُلْتُ؟ فَقَالَ الْحَارِثُ: لَا، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَإِنْ قُلْتُ أَبَيْتُ، يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنِّي لَمْ أُحَدِّثْ كَمَا تَقُولُ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: ثُمَّ أَقَامَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى الَّذِي يُخْبِرُنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: " لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ " وَتَرَكَ مَا كَانَ يُخْبِرُنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: " لَا عَدْوَى "، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا كَانَ يُخْبِرُنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا عَدْوَى " أَمْ مَا شَأْنُهُ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أُبْلِ عَلَيْهِ كَلِمَةً نَسِيَهَا بَعْدَ أَنْ كَانَ يُحَدِّثُنَاهَا مَرَّةً عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ إِنْكَارِهِ مَا كَانَ ⦗٣٥٤⦘ يُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: " لَا عَدْوَى "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيِّ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ عَنْ شُعَيْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تندرست کے نزدیک مریض کو نہ لایا جائے“، تو حارث بن ابی ذباب دوسی نے آپ سے کہا کہ آپ ہی تو رسول اللہ ﷺ سے یہ بیان کرتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو حارث بن ابی ذباب نے کہا: کیوں نہیں! تم ہی تو بیان کرتے ہو رسول اللہ ﷺ سے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حارث کا جھگڑا بڑھ گیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ غصے میں آگئے اور حبشی زبان میں بات کی، پھر حارث بن ابی ذباب سے کہنے لگے کہ میں نے کیا کہا تھا؟ تو حارث نے کہا: مجھے یاد نہیں، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں جیسے تم بیان کرتے ہی ہو ویسے میں نے نہیں کہا۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر ہمیں رسول اللہ ﷺ سے بیان فرمایا کہ ”مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔“ لیکن «لَا عَدْوَىٰ» ”بیماری متعدی نہیں ہوتی“ والا قول جو وہ نبی ﷺ سے بیان فرماتے تھے چھوڑ دیا، تو ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے علم نہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کلمے کو بھول گئے ہیں، یعنی «لَا عَدْوَىٰ» یا ان کی کیا حالت ہے؟ لیکن بعد میں میں نے اس کی پروا نہیں کی جو وہ کلمہ بھول گئے، وہ بعض اوقات بغیر انکار کے رسول اللہ ﷺ سے بیان کر دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 14239
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا يَحِلُّ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ وَلْيَحِلَّ الْمُصِحُّ حَيْثُ شَاءَ " قِيلَ: مَا بَالُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " إِنَّهُ أَذًى ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور نہ ہی مریض کو تندرست کے پاس لانا جائز ہے تاکہ تندرست جہاں چاہے رہے“، کہا گیا: اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تکلیف ہے“۔
حدیث نمبر: 14240
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرُوعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا يَحِلُّ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ، وَلْيَحِلَّ الْمُصِحُّ حَيْثُ شَاءَ " فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَلِمَ ذَلِكَ؟ قَالَ: " لِأَنَّهُ أَذًى "، هَذَا غَرِيبٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِنْ كَانَ الرَّقَاشِيُّ حَفِظَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیماری متعدی نہیں ہوتی، اور کوئی الو منحوس نہیں اور صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہوتا اور مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے تاکہ تندرست جہاں چاہے رہے۔“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ کیوں؟ فرمایا: ”یہ تکلیف ہے۔“
حدیث نمبر: 14241
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ أَوِ السَّقَمَ رِجْزٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ، ثُمَّ بَقِيَ بَعْدُ بِالْأَرْضِ فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الْأُخْرَى، فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا يَقْدَمَنَّ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَقَعَ بِأَرْضٍ وَهُوَ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّهُ الْفِرَارُ مِنْهُ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً یہ یعنی طاعون کوئی بیماری یا عذاب ہے، جو تم سے پہلی قوموں کو دیا گیا، اس کے بعد زمین پر باقی رہا، تو ایک چلا جاتا ہے تو دوسرا آ جاتا ہے، جو اس کے بارے میں کسی زمین میں سنے تو اس کی طرف نہ جائے اور جس علاقہ میں یہ بیماری شروع ہو جائے اس سے نہ بھاگے۔“
حدیث نمبر: 14242
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَرَجَعَ بِالنَّاسِ مِنْ سَرْغَ فَلَقِيَهُ أُمَرَاؤُهُ عَلَى الْأَجْنَادِ فَلَقِيَهُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ ⦗٣٥٥⦘ الْجَرَّاحِ، وَأَصْحَابُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَقَدْ وَقَعَ الْوَجَعُ بِالشَّامِ، فَقَالَ عُمَرُ: اجْمَعْ لِيَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، فَجَمَعْتُهُمْ لَهُ فَاسْتَشَارَهُمْ فَاخْتَلَفُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ارْجِعْ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمْهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا هُوَ قَدَرُ اللهِ وَقَدْ خَرَجْتَ لِأَمْرٍ فَلَا تَرْجِعْ عَنْهُ فَأَمَرَهُمْ فَخَرَجُوا عَنْهُ ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِيَ الْأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ فَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلَافِهِمْ فَأَمَرَهُمْ فَخَرَجُوا عَنْهُ ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ فَاجْتَمَعَ رَأْيُهُمْ عَلَى أَنْ يَرْجِعَ بِالنَّاسِ فَأَذَّنَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصَبِّحٌ عَلَى ظَهْرٍ فَأَصْبَحُوا عَلَيْهِ فَإِنِّي مَاضٍ لِمَا أَرَى فَانْظُرُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ فَامْضُوا لَهُ فَأَصْبَحَ قَالَ: فَرَكِبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: إِنِّي أَرْجِعُ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُخَالِفَهُ: أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللهِ؟ فَغَضِبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَالَ: لَوْ غَيْرُكَ قَالَ هَذَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ، نَعَمْ، أَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللهِ إِلَى قَدَرِ اللهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا هَبَطَ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ وَاحِدَةٌ جَدْبَةٌ وَالْأُخْرَى خَصِبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَى الْجَدْبَةَ رَعَاهَا بِقَدَرِ اللهِ، وَإِنْ رَعَى الْخَصْبَةَ رَعَاهَا بِقَدَرِ اللهِ؟ قَالَ: ثُمَّ خَلَا بِأَبِي عُبَيْدَةَ فَتَرَاجَعَا سَاعَةً، فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ فَجَاءَ وَالْقَوْمُ يَخْتَلِفُونَ فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي فِي هَذَا عِلْمًا، فَقَالَ عُمَرُ: مَا هُوَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّكُمُ الْفِرَارُ مِنْهُ "، فَحَمِدَ اللهَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَجَعَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجِعُوا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَا: إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّمَا رَجَعَ مِنْ سَرْغَ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، جب وہ شام کی جانب گئے تو لوگ سرغ سے واپس آرہے تھے، ان کے امراء سردار جو لشکروں پر مقرر تھے وہ بھی ملے۔ ابوعبیدہ بن جراح اور ان کے ساتھی بھی کہ شام میں بیماری پھیل گئی ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اولین کو جمع کرنے کا حکم دیا، میں نے سب کو جمع کردیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا۔ بعض نے کہا: وباء والی جگہ نہیں جانا چاہیے واپس پلٹ جاؤ۔ بعض نے کہا: اب کسی غرض سے وہاں جا رہے ہیں، واپس نہیں پلٹنا چاہیے، یہ اللہ کی تقدیر ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا تو حکم فرمایا، وہ چلے گئے، پھر کہا: انصار کو بلاؤ، میں نے ان کو بلایا، ان سے مشورہ طلب کیا تو وہ بھی مہاجرین کی طرح مختلف ہوگئے، بعض نے کچھ کہا اور بعض نے کچھ کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو بھی حکم دیا، وہ بھی چلے گئے۔ پھر کہا کہ فتح کے وقت ہجرت کرنے والے مہاجرین میں سے کوئی بزرگ ہو تو اس کو بلاؤ۔ میں نے ان کو بلایا تو ان کی رائے متفق تھی کہ واپس پلٹ جاؤ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کروا دیا کہ اپنی سواریوں پر رہنا، وہ اپنی سواریوں پر رہے۔ فرمانے لگے: جو میں کروں دیکھتے رہنا جس کا حکم دوں کردینا۔ وہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کی پھر سوار ہوئے، پھر لوگوں سے کہنے لگے میں واپس جا رہا ہوں تو ابوعبیدہ کہنے لگے اور وہ ان کی مخالفت کو بھی ناپسند کرتے تھے، کیا اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو غصہ آگیا اور فرمانے لگے: اگر تیرے علاوہ کوئی دوسرا ہوتا اے ابو عبیدہ! میں اللہ کی تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف بھاگ رہا ہوں، اگر دو وادیاں ہوں، ایک خشک سالی کا شکار اور دوسری سرسبز و شاداب، اگر اس نے خشک وادی میں اپنے جانور کو چھوڑا تو یہ بھی اللہ کی تقدیر ہے اور اگر وہ اپنے جانور سرسبز و شاداب وادی میں چھوڑے تو یہ بھی اللہ کی تقدیر ہے۔
کہتے ہیں: پھر ابوعبیدہ چلے گئے، واپسی کے تھوڑی دیر بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی آگئے، وہ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے حاضر نہ تھے؟ وہ آئے تو لوگ اختلاف کر رہے تھے۔ فرمانے لگے: اس بارے میں میرے پاس علم ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ فرمانے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”جب تم کسی زمین میں وباء کا سنو تو وہاں مت جاؤ اور جب وباء پھیل جائے اور تم اس زمین میں ہو تو وہاں سے بھاگ کر نہ نکلو“ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور خود بھی واپس ہوئے اور لوگوں کو بھی لوٹنے کا حکم فرمایا۔
(ب) عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما دونوں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سرغ نامی جگہ سے واپس ہوئے۔
کہتے ہیں: پھر ابوعبیدہ چلے گئے، واپسی کے تھوڑی دیر بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی آگئے، وہ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے حاضر نہ تھے؟ وہ آئے تو لوگ اختلاف کر رہے تھے۔ فرمانے لگے: اس بارے میں میرے پاس علم ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ فرمانے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”جب تم کسی زمین میں وباء کا سنو تو وہاں مت جاؤ اور جب وباء پھیل جائے اور تم اس زمین میں ہو تو وہاں سے بھاگ کر نہ نکلو“ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور خود بھی واپس ہوئے اور لوگوں کو بھی لوٹنے کا حکم فرمایا۔
(ب) عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما دونوں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سرغ نامی جگہ سے واپس ہوئے۔
حدیث نمبر: 14243
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ: " هَلْ تَكُونُ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " مَا أَلْوَانُهَا؟ " قَالَ: حُمْرٌ قَالَ: " هَلْ فِيهَا أَوْرَقُ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " بِمَ ذَاكَ؟ " قَالَ: ذَاكَ عِرْقٌ نَزَعَهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَعَلَّ ابْنَكَ نَزَعَهُ عِرْقٌ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا، اس نے کہا: میری بیوی نے سیاہ بچہ جنم دیا ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”ان کی رنگت کیا ہے؟“ اس نے کہا: سرخ، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا ان میں خاکستری رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیوں؟“ اس نے کہا: شاید کسی رگ نے اس کو کھینچا ہو تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید اس کو کسی رگ نے کھینچا ہو۔“
حدیث نمبر: 14244
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَارْجِعْ "،.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شرید اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ثقیف کے وفد میں ایک کوڑھی شخص تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی جانب پیغام بھیجا: ”تم جاؤ، ہم نے تیری بیعت لے لی ہے۔“
حدیث نمبر: 14245
أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَيْنَا فِي بَابِ الْكَفَاءَةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ فِرَارَكَ مِنَ الْأَسَدِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”کوڑھی سے اس طرح بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔“
حدیث نمبر: 14246
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، وَأَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ قَالَا: أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ، وَاتَّقُوا الْمَجْذُومَ كَمَا يُتَّقَى الْأَسَدُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی الو منحوس ہے اور نہ ہی صفر کا مہینہ منحوس ہے، کوڑھی سے بچو جیسے شیر سے بچا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 14247
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُحِدُّوا النَّظَرَ إِلَيْهِمْ "، يَعْنِي الْمَجْذُومِينَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان کی جانب گھور کر نہ دیکھو، یعنی کوڑھی کی جانب۔“
حدیث نمبر: 14248
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَيْهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان کی طرف نظر جماکر نہ دیکھو۔“
حدیث نمبر: 14249
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمَجَاذِيمِ "، وَقِيلَ عَنْهَا عَنْ أَبِيهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کوڑھیوں کی جانب نظر جما کر نہ دیکھو۔“
حدیث نمبر: 14250
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَوَضَعَهَا مَعَهُ فِي قَصْعَةٍ، فَقَالَ: " كُلْ بِسْمِ اللهِ، وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑ کر پلیٹ میں رکھا اور فرمایا: ”«بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ کھاؤ اور اللہ پر توکل کرو۔“
حدیث نمبر: 14251
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ ثَلَاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَى، أَرَادَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا، فَأَتَى الْأَبْرَصَ فَقَالَ: أِيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: لَوْنٌ حَسَنٌ وَجِلْدٌ حَسَنٌ، فَقَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ، قَالَ: فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ قَذَرُهُ وَأُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں تین شخص تھے: 1 پھلبہری والا، 2 گنجا، 3 نابینا۔ اللہ نے ان کی آزمائش کا ارادہ کیا تو ان کی جانب ایک فرشتہ بھیجا، وہ برص والے کے پاس آیا اور کہا: تجھے کون سی چیز اچھی لگتی ہے؟ اس نے کہا: اچھی رنگت اور اچھی جلد، کیونکہ لوگ مجھے اچھا نہیں خیال کرتے۔ تو فرشتے نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا تو بیماری ختم ہو گئی اور اس کو اچھی جلد اور رنگت مل گئی، پھر طویل حدیث ذکر کی۔“