کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حالتِ جنابت میں جب کوئی شخص دوسری بیوی کے پاس جانے یا دوبارہ ہم بستری کرنے کا ارادہ کرے تو وضو کر لے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ وَإِنْ كَانَ مِمَّا لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس بارے میں ایک حدیث روایت کی گئی ہے، اگرچہ وہ ان روایات میں سے ہے جن جیسی (روایت) ثابت نہیں ہوتی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ وَزَادَ فِيهِ: " فَإِنَّهُ أَنْشَطُ لِلْعَوْدِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے پھر دوبارہ آنے کا ارادہ ہو تو وہ وضو کرے۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَدَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ الدَّيْرَعَاقُولِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمُ الْعَوْدَ فَلْيَتَوَضَّأْ فَإِنَّهُ أَنْشَطُ لَهُ "، إِنْ كَانَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَرَادَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَهَذَا إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ وَلَعَلَّهُ لَمْ يَقِفْ عَلَى إِسْنَادِهِ وَلَعَلَّهُ أَرَادَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جب تم میں سے کوئی دوبارہ اپنی بیوی کے پاس آنا چاہے تو وہ وضو کر لے، یہ اس کو زیادہ چست کرنے والا ہے۔“
اگر امام شافعی رحمہ اللہ کی مراد یہ حدیث ہے تو اس کی سند صحیح ہے، شاید انہیں اس کی سند کا علم نہ ہوا ہو۔
اگر امام شافعی رحمہ اللہ کی مراد یہ حدیث ہے تو اس کی سند صحیح ہے، شاید انہیں اس کی سند کا علم نہ ہوا ہو۔
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا الْمُسَيِّبُ يَعْنِي ابْنَ وَاضِحٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَيْتَ أَهْلَكَ، ثُمَّ أَرَدْتَ أَنْ تَعُودَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ "، كَذَا رَوَاهُ الْمُسَيِّبُ بْنُ وَاضِحٍ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنی بیوی کے پاس آؤ اور دوبارہ جانے کا ارادہ ہو تو نماز کے وضو کی طرح وضو کرو۔“
مسیب بن واضح نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور یہ محفوظ نہیں ہے۔
مسیب بن واضح نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور یہ محفوظ نہیں ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْمُسْتَهِلِّ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، فَأَرَادَ أَنْ يَعُودَ، فَلْيَغْسِلْ فَرْجَهُ "، هَذَا أَصَحُّ وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ كِفَايَةٌ وَقَدْ رُوِيَ فِي الْغُسْلِ بَيْنَ ذَلِكَ حَدِيثٌ لَيْسَ بِقَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے اور دوبارہ لوٹنے کا ارادہ ہو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لے۔“
یہ زیادہ صحیح ہے، اور لیث بن ابی سلیم قابلِ حجت نہیں ہیں، اور ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث کافی ہے، اور دونوں (مجامعتوں) کے درمیان غسل کرنے کے بارے میں ایک حدیث روایت کی گئی ہے جو قوی نہیں ہے۔
یہ زیادہ صحیح ہے، اور لیث بن ابی سلیم قابلِ حجت نہیں ہیں، اور ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث کافی ہے، اور دونوں (مجامعتوں) کے درمیان غسل کرنے کے بارے میں ایک حدیث روایت کی گئی ہے جو قوی نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا ⦗٣١٢⦘ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى، عَنْ أَبِي رَافِعٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ جَمَعَ، فَاغْتَسَلَ عِنْدَ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُسْلًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا جَعَلْتَهُ غُسْلًا وَاحِدًا؟ قَالَ: " هَذَا أَزْكَى وَأَطْهَرُ وَأَطْيَبُ "، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اکٹھے اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے تو ہر ایک کے پاس غسل کیا، تو میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے ایک کیوں نہ کیا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ زیادہ صاف، زیادہ پاکیزہ اور زیادہ عمدہ ہے۔“