السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الجنب يتوضأ، كلما أراد إتيان واحدة أو أراد العود باب: حالتِ جنابت میں جب کوئی شخص دوسری بیوی کے پاس جانے یا دوبارہ ہم بستری کرنے کا ارادہ کرے تو وضو کر لے۔
حدیث نمبر: 14090
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْمُسْتَهِلِّ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، فَأَرَادَ أَنْ يَعُودَ، فَلْيَغْسِلْ فَرْجَهُ "، هَذَا أَصَحُّ وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ كِفَايَةٌ وَقَدْ رُوِيَ فِي الْغُسْلِ بَيْنَ ذَلِكَ حَدِيثٌ لَيْسَ بِقَوِيٍّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے اور دوبارہ لوٹنے کا ارادہ ہو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لے۔“
یہ زیادہ صحیح ہے، اور لیث بن ابی سلیم قابلِ حجت نہیں ہیں، اور ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث کافی ہے، اور دونوں (مجامعتوں) کے درمیان غسل کرنے کے بارے میں ایک حدیث روایت کی گئی ہے جو قوی نہیں ہے۔