کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دو بت پرست میاں بیوی کا بیان جن میں سے کوئی ایک اسلام لے آئے تو ان کے درمیان ہم بستری ممنوع ہے یہاں تک کہ پیچھے رہ جانے والا (دوسرا شریکِ حیات) بھی اسلام لے آئے۔
حدیث نمبر: 14061
لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے: ”نہ وہ (مومن عورتیں) ان (کافروں) کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لیے حلال ہیں۔“ [سورة الممتحنة: 10]
اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے: ”اور کافر عورتوں کی ناموس (نکاح) کو اپنے قبضے میں نہ رکھو۔“ [سورة الممتحنة: 10]
اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے: ”اور کافر عورتوں کی ناموس (نکاح) کو اپنے قبضے میں نہ رکھو۔“ [سورة الممتحنة: 10]
حدیث نمبر: 14061
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ خُرُوجِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ خَلْفَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ: فَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَرَخَتْ زَيْنَبُ أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَتْ: ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَى ابْنَتِهِ زَيْنَبَ، فَقَالَ: " أَيْ بُنَيَّةُ أَكْرِمِي مَثْوَاهُ، وَلَا يَخْلُصَنَّ إِلَيْكِ، فَإِنَّكِ لَا تَحِلِّينَ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق ابو العاص بن ربیع جو شرک کی حالت میں نکلے، ان کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا مدینہ میں تھیں، کہتے ہیں کہ یزید بن رومان عروہ سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے آواز لگائی: ”اے لوگو! میں نے ابو العاص بن ربیع کو پناہ دی ہے“، اس نے حدیث کو ذکر کیا ہے، پھر رسول اللہ ﷺ اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”اے بیٹی! تو اس کو اچھا ٹھکانا دے، لیکن یہ تمہارے اوپر داخل نہ ہو؛ کیونکہ تو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔“ [ضعیف]