کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ جب ان میں خلوتِ صحیحہ ہو چکی ہو تو ان میں سے کسی ایک کے اسلام لانے سے ان کے درمیان نکاح اس وقت تک فسخ نہیں ہوتا جب تک کہ پیچھے رہ جانے والے کے اسلام لانے سے قبل عورت کی عدت پوری نہ ہو جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قُرَيْشٍ وَأَهْلِ الْمَغَازِي وَغَيْرِهِمْ، عَنْ عَدَدٍ قَبْلَهُمْ أَنَّ " أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَسْلَمَ بِمَرْوَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَاهِرٌ عَلَيْهَا، فَكَانَتْ بِظُهُورِهِ وَإِسْلَامُ أَهْلِهَا دَارَ إِسْلَامٍ، وَامْرَأَتُهُ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ كَافِرَةٌ بِمَكَّةَ، وَمَكَّةُ يَوْمَئِذٍ دَارُ حَرْبٍ، ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْهَا يَدَعُوهَا إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَخَذَتْ بِلِحْيَتِهِ، وَقَالَتْ: اقْتُلُوا الشَّيْخَ الضَّالَّ، وَأَقَامَتْ أَيَّامًا قَبْلَ أَنْ تُسْلِمَ، ثُمَّ أَسْلَمَتْ، وَبَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَثَبَتَا عَلَى النِّكَاحِ، وَأَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَأَسْلَمَ أَكْثَرُ أَهْلِهَا، وَصَارَتْ دَارَ إِسْلَامٍ، وَأَسْلَمَتِ امْرَأَةُ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ، وَامْرَأَةُ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَهَرَبَ زَوْجَاهُمَا نَاحِيَةَ الْيَمَنِ مِنْ طَرِيقِ الْيَمَنِ كَافِرَيْنِ إِلَى بَلَدِ كُفْرٍ، ثُمَّ جَاءَا فَأَسْلَمَا بَعْدَ مُدَّةٍ وَشَهِدَ صَفْوَانُ حُنَيْنًا كَافِرًا، فَدَخَلَ دَارَ الْإِسْلَامِ بَعْدَ هَرَبِهِ مِنْهَا، وَخَرَجَ مِنْهَا كَافِرًا فَاسْتَقَرَّا ⦗٣٠٢⦘ عَلَى النِّكَاحِ، وَكَانَ ذَلِكَ كُلُّهُ وَنِسَاؤُهُمْ مَدْخُولٌ بِهِنَّ لَمْ تَنْقَضِ عِدَدُهُنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
قریش کے اہل علم اور اہل مغازی فرماتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان پر غلبہ پا لیا اور وہ دار السلام میں تھے اور ان کی بیوی ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا مکہ یعنی دار الحرب میں تھی، پھر ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے مکہ آکر اس کو اسلام کی دعوت دی، لیکن اس نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑی اور کہنے لگی: اس گمراہ بوڑھے کو قتل کر دو۔ پھر وہ کئی دن تک اسلام نہ لائی، پھر وہ اسلام لائی اور نبی ﷺ کی بیعت کی تو آپ ﷺ نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کو اس نکاح میں ثابت رکھا اور ہمیں خبر دی گئی کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو بہت سارے لوگ مسلمان ہو گئے اور مکہ دار السلام بن گیا، عکرمہ اور صفوان رضی اللہ عنہما کی بیویاں بھی اسلام لائیں اور ان کے شوہر یمن کی طرف کفر کی حالت میں بھاگ گئے، پھر ایک مدت کے بعد دونوں مسلمان ہوئے اور صفوان رضی اللہ عنہ حنین کے موقع پر کفر کی حالت میں حاضر ہوئے اور اپنے بھاگنے کے بعد دار السلام میں داخل ہوئے اور کفر کی حالت میں ہی گئے تھے، وہ اسی نکاح پر باقی رہے، ان تمام کی عورتیں مدخول بہا تھیں اور ان کی عدتیں ختم نہ ہوئی تھیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُزَكِّي، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ نِسَاءَكُنَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمْنَ بِأَرْضِهِنَّ، وَهُنَّ غَيْرُ مُهَاجِرَاتٍ، وَأَزْوَاجُهُنَّ حِينَ أَسْلَمْنَ كُفَّارٌ مِنْهُمُ ابْنَةُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَكَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَهَرَبَ زَوْجُهَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ مِنَ الْإِسْلَامِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ عَمِّهِ وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ بِرِدَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانًا لِصَفْوَانَ، وَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَنْ يَقْدَمَ عَلَيْهِ، فَإِنْ رَضِيَ أَمْرًا قَبِلَهُ، وَإِلَّا سَيَّرَهُ شَهْرَيْنِ، فَلَمَّا قَدِمَ صَفْوَانُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ نَادَاهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي تَسْيِيرِهِ، ثُمَّ رُجُوعِهِ قَالَ: وَخَرَجَ صَفْوَانُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ كَافِرٌ وَشَهِدَ حُنَيْنًا وَالطَّائِفَ، وَهُوَ كَافِرٌ، وَامْرَأَتُهُ مُسْلِمَةٌ، " فَلَمْ يُفَرِّقْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ حَتَّى أَسْلَمَ صَفْوَانُ وَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ امْرَأَتُهُ بِذَلِكَ النِّكَاحِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ بَيْنَ إِسْلَامِ صَفْوَانَ وَإِسْلَامِ امْرَأَتِهِ نَحْوٌ مِنْ شَهْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں عورتیں بغیر ہجرت کیے اپنے علاقے میں مسلمان ہو گئیں اور ان کے خاوند اس وقت غیر مسلم تھے جیسے ولید بن مغیرہ کی بیٹی جو صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی، یہ مکہ فتح کے دن اسلام لائی اور صفوان بن امیہ (اسلام سے) بھاگ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے چچا کے بیٹے وہب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر بطورِ امان کی علامت دے کر بھیجا، اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں اسلام کی اور اپنے پاس آنے کی دعوت دی کہ اگر وہ کسی بات پر راضی ہو جائیں تو اسے قبول کر لیں، ورنہ آپ ﷺ انہیں دو ماہ تک چلنے پھرنے کی مہلت دیں گے، اور جب صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی چادر لے کر آئے اور آواز دی، (راوی نے) حدیث ذکر کی، یعنی ان کا چلنا پھرنا اور واپس آنا کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین و طائف میں کفر کی حالت میں گئے اور ان کی بیوی مسلمان تھی تو رسول اللہ ﷺ نے میاں، بیوی کے درمیان تفریق نہیں ڈالی، پھر صفوان رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے تو ان کی بیوی اس نکاح میں باقی رہی، ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صفوان رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے اسلام میں تقریباً ایک ماہ کا فاصلہ ہے۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أُمَّ حَكِيمٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَكَانَتْ تَحْتَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ أَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ، وَهَرَبَ زَوْجُهَا عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ مِنَ الْإِسْلَامِ حَتَّى قَدِمَ الْيَمَنَ، فَارْتَحَلَتْ أُمُّ حَكِيمٍ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَيْهِ بِالْيَمَنِ وَدَعَتْهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَسْلَمَ وَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَ عَلَيْهِ فَرَحًا، وَمَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ حَتَّى بَايَعَهُ فَثَبَتَا عَلَى نِكَاحِهِمَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام حکیم بنت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا اور ان کے خاوند یمن کی طرف بھاگ گئے تو ام حکیم رضی اللہ عنہا نے یمن جا کر انہیں اسلام کی دعوت دی تو وہ مسلمان ہو گئے، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عام الفتح کے موقع پر آئے تو رسول اللہ ﷺ انہیں خوشی سے ملے، آپ ﷺ پر چادر بھی نہ تھی، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ان سے بیعت لی، تو آپ ﷺ نے ان دونوں (میاں، بیوی) رضی اللہ عنہما کو اسی نکاح میں باقی رکھا۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: " لَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ امْرَأَةً هَاجَرَتْ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَزَوْجُهَا كَافِرٌ مُقِيمٌ بِدَارِ الْكُفْرِ، إِلَّا فَرَّقَتْ هِجْرَتُهَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا، إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ زَوْجُهَا مُهَاجِرًا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، وَأَنَّهُ لَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ امْرَأَةً فُرِّقَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا إِذَا قَدِمَ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے کسی ایسی عورت کی خبر نہیں ملی جس نے اللہ اور رسول ﷺ کی طرف ہجرت کی ہو اور اس کا کافر خاوند دار الکفر میں مقیم رہا ہو، مگر اس کی ہجرت نے اسے اس کے خاوند سے جدا کر دیا، لیکن اگر عدت کے ختم ہونے سے پہلے خاوند ہجرت کر کے آ جائے تو جدائی نہ ہوگی اور ہمیں یہ اطلاع نہیں ملی کہ جب خاوند عدت کے اندر آ گیا تو پھر میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالی گئی ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أنبأ هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: وَقَالَ عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى مَنْزِلَتَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ كَانَ مُشْرِكِي الْعَرَبِ أَهْلُ حَرْبٍ يُقَاتِلُهُمْ، وَيُقَاتِلُونَهُ، وَمُشْرِكِي أَهْلِ عَهْدٍ لَا يُقَاتِلُهُمْ، وَلَا يُقَاتِلُونَهُ، وَكَانَ إِذَا هَاجَرَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَرْبِ لَمْ تُخْطَبْ حَتَّى تَحِيضَ وَتَطْهُرَ، فَإِذَا تَطَهَّرَتْ حَلَّ لَهَا النِّكَاحُ، فَإِنْ هَاجَرَ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تُنْكَحَ رُدَّتْ إِلَيْهِ "، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الدَّارَ لَمْ تَكُنْ تُفَرِّقُ بَيْنَهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اور مومنوں کے لیے مشرکین کی دو قسمیں تھیں: ایک تو وہ مشرک جو مسلمانوں سے لڑائی کرتے اور مسلمان ان کے خلاف جہاد کرتے، دوسرے وہ مشرک جن سے معاہدہ تھا، نہ وہ مسلمانوں کے خلاف لڑتے اور نہ ہی مسلمان ان کے خلاف لڑتے۔ جب حربی مشرک کی عورتوں میں سے کوئی ہجرت کر کے آئے تو ایک حیض کے بعد طہر میں اس سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس کا خاوند نکاح سے پہلے ہجرت کر کے آ جائے تو اس کی طرف لوٹا دی جائے گی۔ اس حدیث میں دلالت ہے کہ دار تفریق کا باعث نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَهْرَانِيُّ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَدَّ ابْنَتَهُ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بَعْدَ سَنَتَيْنِ بِنِكَاحِهَا الْأَوَّلِ "، ⦗٣٠٤⦘ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابی العاص رضی اللہ عنہ کے پہلے نکاح میں دو سال کے بعد لوٹا دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو نَصْرٍ مَنْصُورُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُفَسِّرُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةُ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: فَحَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " رَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ابْنَتَهُ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَلَى النِّكَاحِ الْأَوَّلِ بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ. لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ خَالِدٍ، وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ لَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ، وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ الْفَضْلِ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَهَذَا لِأَنَّ بِإِسْلَامِهَا ثُمَّ بِهِجْرَتِهَا إِلَى الْمَدِينَةِ، وَامْتِنَاعِ أَبِي الْعَاصِ مِنَ الْإِسْلَامِ لَمْ يَتَوَقَّفْ نِكَاحُهَا عَلَى انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ التَّحْرِيمِ لِِلْمُسْلِمَاتِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ بَعْدَ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ، ثُمَّ بَعْدَ نُزُولِهَا تَوَقَّفَ نِكَاحُهَا عَلَى انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا، فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى أَخَذَ أَبُو بَصِيرٍ وَغَيْرُهُ أَبَا الْعَاصِ أَسِيرًا وَبَعَثَ بِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَأَجَارَتْهُ زَيْنَبُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَكَّةَ وَرَدَّ مَا كَانَ عِنْدَهُ مِنَ الْوَدَائِعِ وَأَظْهَرَ إِسْلَامَهُ فَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ تَوَقُّفِ نِكَاحِهَا عَلَى انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ وَبَيْنَ إِسْلَامِهِ إِلَّا الْيَسِيرُ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص کے پہلے نکاح میں چھ برس کے بعد لوٹا دیا۔ یونس کی روایت میں ہے کہ پہلے نکاح میں چھ برس کے بعد کوئی نیا کام (نکاحِ جدید) نہیں ہوا۔ یہ اس لیے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے اسلام لانے، پھر مدینہ کی طرف ہجرت کرنے اور ابو العاص کے اسلام سے رکے رہنے کی وجہ سے ان کا نکاح عدت کے ختم ہونے پر موقوف نہ ہوا، یہاں تک کہ صلحِ حدیبیہ کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ مسلمان عورتیں مشرکوں پر حرام ہیں: ﴿لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 10]، اس آیت کے نزول کے بعد ان کا نکاح عدت کے ختم ہونے پر موقوف ہو گیا؛ تھوڑی مدت ہی گزری تھی کہ ابو بصیر وغیرہ نے ابو العاص کو قیدی بنا کر مدینہ روانہ کر دیا تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے انہیں پناہ دے دی۔ پھر انہوں نے مکہ لوٹ کر تمام امانتیں واپس کیں اور اپنے اسلام کا اظہار کر دیا، تو ان کے نکاح کے عدت کے ختم ہونے پر موقوف ہونے اور ان کے اسلام لانے کے درمیان تھوڑا ہی وقفہ تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْحَجَّاجُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَدَّ ابْنَتَهُ إِلَى أَبِي الْعَاصِ بِمَهْرٍ جَدِيدٍ وَنِكَاحٍ جَدِيدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو نئے حق مہر اور نئے نکاح کے ساتھ واپس کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ هَذَا لَا يَثْبُتُ، وَحَجَّاجٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَالصَّوَابُ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ⦗٣٠٥⦘ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَنْهُ الْبُخَارِيَّ رَحِمَهُ اللهُ، فَقَالَ: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَصَحُّ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،⦗٣٠٦⦘ وَحَكَى أَبُو عُبَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ أَنَّ حَجَّاجًا لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَمْرٍو، وَأَنَّهُ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَرْزَمِيِّ، عَنْ عَمْرٍو، فَهَذَا وَجْهٌ لَا يَعْبَأُ بِهِ أَحَدٌ يَدْرِي مَا الْحَدِيثُ.
حافظ ثناء اللہ
امام ابو الحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ (روایت) ثابت نہیں ہے، اور حجاج سے حجت نہیں لی جاتی، درست سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔
امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس باب میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث عمرو بن شعیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
ابو عبید نے یحییٰ بن سعید قطان سے نقل کیا ہے کہ حجاج نے یہ روایت عمرو سے نہیں سنی، بلکہ یہ محمد بن عبداللہ عرزمی کی عمرو سے روایت ہے، لہٰذا یہ ایسی سند ہے جس کی طرف حدیث کو سمجھنے والا کوئی شخص توجہ نہیں دیتا۔
امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس باب میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث عمرو بن شعیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
ابو عبید نے یحییٰ بن سعید قطان سے نقل کیا ہے کہ حجاج نے یہ روایت عمرو سے نہیں سنی، بلکہ یہ محمد بن عبداللہ عرزمی کی عمرو سے روایت ہے، لہٰذا یہ ایسی سند ہے جس کی طرف حدیث کو سمجھنے والا کوئی شخص توجہ نہیں دیتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَوَّجَتْ فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ مَعَهَا وَعَلِمَتْ بِإِسْلَامِي مَعَهَا، فَنَزَعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک عورت نے اسلام قبول کرنے کے بعد شادی کرلی، اس عورت کا خاوند آیا کہ: ”اے اللہ کے رسول! میں بھی ان کے ساتھ اسلام لایا تھا، یہ میرے اسلام لانے کو جانتی بھی ہے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے دوسرے سے لے کر پہلے خاوند کو واپس کردی۔
وَحَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ الدَّقَّاقُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَبْدِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ ⦗٣٠٧⦘ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَمَّةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ أَسْلَمَتْ وَهَاجَرَتْ وَتَزُوِّجَتْ وَقَدْ كَانَ زَوْجُهَا أَسْلَمَ قَبْلَهَا، فَرَدَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن حارث کی پھوپھی نے اسلام لانے کے بعد ہجرت کر کے شادی کر لی۔ اس کا خاوند اس سے پہلے اسلام قبول کر چکا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے پہلے خاوند کی طرف واپس کر دیا۔