کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول جس کا گمان ہے کہ لونڈی کی موجودگی میں آزاد عورت سے نکاح کرنا لونڈی کو طلاق دینے کے مترادف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " نِكَاحُ الْحُرَّةِ عَلَى الْأَمَةِ طَلَاقُ الْأَمَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لونڈی کے ہوتے ہوئے آزاد عورت سے نکاح کرنا لونڈی کی طلاق ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: " هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمَيْتَةِ تَضْطَرُّ إِلَيْهَا، فَإِذَا أَغْنَاكَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا فَاسْتَغْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مردار کے مرتبہ میں ہے جس کی جانب مجبور ہوا گیا، جب اللہ آپ کو اس سے مستغنی کر دے تو آپ بھی بے پرواہی کریں، مستغنی ہو جائیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: " إِذَا تَزَوَّجَ الْحُرُّ عَلَى الْأَمَةِ، فَهُوَ طَلَاقُ الْأَمَةِ هُوَ كَصَاحِبِ الْمَيْتَةِ يَأْكُلُ مِنْهَا مَا اضْطُرَّ إِلَيْهَا فَإِذَا اسْتَغْنَى عَنْهَا فَلْيُمْسِكْ "، نَحْنُ إِنَّمَا نَقُولُ بِمَا رُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عَلِيٍّ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آپ لونڈی کے ہوتے ہوئے آزاد عورت سے نکاح کریں تو یہ لونڈی کی طلاق ہے، یہ مردار کی مانند ہے جس کو مجبوری کے وقت کھایا جاتا ہے۔ جب وہ اس سے مستغنی ہو جائے تو رک جائے۔ ہم تو اس مسئلہ میں وہی کہتے ہیں جو ہم نے سیدنا علی اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔