کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ آزاد عورت کی موجودگی میں لونڈی سے نکاح نہیں کیا جائے گا البتہ لونڈی کی موجودگی میں آزاد عورت سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14001
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفِرَايِينِيُّ الرَّازِيُّ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْأَمَةُ عَلَى الْحُرَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ”آزاد عورت کے ہوتے ہوئے لونڈی سے شادی کی جائے۔“
حدیث نمبر: 14002
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ الْحَسَنَ يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْأَمَةُ عَلَى الْحُرَّةِ "، هَذَا مُرْسَلٌ إِلَّا أَنَّهُ فِي مَعْنَى الْكِتَابِ وَمَعَهُ قَوْلُ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ”آزاد عورت کے ہوتے ہوئے لونڈی سے شادی کی جائے۔“
حدیث نمبر: 14003
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ السَّوَّاقُ، ثنا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا تَزَوَّجَتِ الْحُرَّةُ عَلَى الْأَمَةِ قَسَمَ لَهَا يَوْمَيْنِ، وَلِلْأَمَةِ يَوْمًا، أَنَّ الْأَمَةَ لَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ عَلَى الْحُرَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
زر بن حبیش سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آزاد عورت سے شادی کی جائے لونڈی کے ہوتے ہوئے تو اس کے لیے باری کے دو دن مقرر کریں اور لونڈی کے لیے ایک دن، اور لونڈی کے لیے مناسب نہیں ہے کہ آزاد عورت کی موجودگی میں اس سے شادی کی جائے۔
حدیث نمبر: 14004
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا لَيْثٌ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: " لَا تُنْكَحُ الْأَمَةُ عَلَى الْحُرَّةِ، وَتُنْكَحُ الْحُرَّةُ عَلَى الْأَمَةِ، وَمَنْ وَجَدَ صَدَاقَ حُرَّةٍ، فَلَا يَنْكِحَنَّ أَمَةً أَبَدًا "، هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آزاد عورت کے ہوتے ہوئے لونڈی سے نکاح نہ کیا جائے، اور لونڈی کی موجودگی میں آزاد عورت سے نکاح ہو سکتا ہے، اور جو آزاد عورت کا حق مہر پائے وہ کبھی بھی لونڈی سے شادی نہ کرے۔
حدیث نمبر: 14005
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سُئِلَا عَنْ رَجُلٍ كَانَ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ، فَأَرَادَ أَنْ يَنْكِحَ عَلَيْهَا أَمَةً فَكَرِهَا لَهُ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ کو خبر ملی کہ سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دونوں سے ایسے شخص کے متعلق سوال ہوا جس کے نکاح میں آزاد عورت تھی، وہ لونڈی سے شادی کا متمنی تھا تو انہوں نے ان دونوں کو جمع کرنے کو ناپسند کیا۔
حدیث نمبر: 14006
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ حُرَّةً وَأَمَةً فِي عُقْدَةٍ قَالَ: " يُفَرَّقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَمَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت اشعث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رحمہ اللہ ایک شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس نے ایک نکاح میں آزاد اور لونڈی کو رکھا ہوا تھا کہ آزاد اور لونڈی میں تفریق کی جائے۔
(ب) حضرت حسن رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس نے دو عورتوں سے ایک مرتبہ میں نکاح کیا اور اس کی تین بیویاں تھیں، فرماتے ہیں: اس ایک اور ان دو کے درمیان تفریق پیدا کی جائے اور جب وہ تین سے ایک مرتبہ ہی نکاح کرتا ہے تو اس ایک اور ان تین کے درمیان تفریق کی جائے۔
(ب) حضرت حسن رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس نے دو عورتوں سے ایک مرتبہ میں نکاح کیا اور اس کی تین بیویاں تھیں، فرماتے ہیں: اس ایک اور ان دو کے درمیان تفریق پیدا کی جائے اور جب وہ تین سے ایک مرتبہ ہی نکاح کرتا ہے تو اس ایک اور ان تین کے درمیان تفریق کی جائے۔