کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور شوہر دار عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں) سوائے ان کے جو تمہاری ملکِ یمین میں آ جائیں“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13954
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ جَيْشًا إِلَى أَوْطَاسٍ، فَلَقَوْا عَدُوًّا، فَقَاتَلُوهُمْ، فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا، فَكَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ، إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤] أَيْ فَهُنَّ لَكُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَوَارِيرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کے دن اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا، جنہوں نے دشمن سے لڑ کر غلبہ حاصل کر کے لونڈیاں پائیں، تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کے مشرک خاوندوں کے موجود ہونے کی وجہ سے ان سے مجامعت میں حرج محسوس کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] ”کہ یہ ان کے لیے عدت کے ختم ہو جانے کے بعد حلال ہیں۔“
حدیث نمبر: 13955
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ قَالَ: " كُلُّ ذَاتِ زَوْجٍ إِتْيَانُهَا زِنًا إِلَّا مَا سَبَيْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] ہر خاوند والی عورت سے مجامعت کرنا زنا ہے سوائے لونڈی کے۔
حدیث نمبر: 13956
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ قَالَ: " هُنَّ السَّبَايَا اللَّاتِي لَهُنَّ أَزْوَاجٌ لَا بَأْسَ بِمُجَامَعَتِهِنَّ إِذَا اسْتُبْرِئْنَ "، ⦗٢٧٢⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لونڈیوں سے استبراءِ رحم کے بعد مجامعت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اگرچہ ان کے خاوند موجود ہوں۔
حدیث نمبر: 13957
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِثْلَهُ، وَرَوَى الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
حدیث نمبر: 13958
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: " وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ هُنَّ ذَوَاتُ الْأَزْوَاجِ، وَيَرْجِعُ ذَلِكَ إِلَى أَنَّ اللهَ حَرَّمَ الزِّنَا "، وَاسْتَدَلَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي أَنَّ ذَوَاتِ الْأَزْوَاجِ مِنَ الْإِمَاءِ يَحْرُمْنَ عَلَى غَيْرِ أَزْوَاجِهِنَّ، وَأَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ فِي قَوْلِهِ {إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤] مَقْصُورٌ عَلَى السَّبَايَا، بِأَنَّ السُّنَّةَ دَلَّتْ عَلَى أَنَّ الْمَمْلُوكَةَ غَيْرَ الْمَسْبِيَّةِ، إِذَا بِيعَتْ أَوْ أُعْتِقَتْ لَمْ يَكُنْ بَيْعُهَا طَلَاقًا، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ بَرِيرَةَ حِينَ عَتَقَتْ فِي الْمُقَامِ مَعَ زَوْجِهَا وَفِرَاقِهِ، وَقَدْ زَالَ مِلْكُ بَرِيرَةَ بِأَنْ بِيعَتْ، فَأُعْتِقَتْ فَكَانَ زَوَالُهُ لِمَعْنَيَيْنِ وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ فُرْقَةً قَالَ: فَإِذَا لَمْ يَحِلَّ فَرْجُ ذَوَاتِ الزَّوْجِ بِزَوَالِ الْمِلْكِ، فَهِيَ إِذَا لَمْ تُبَعْ لَمْ تَحِلَّ بِمِلْكِ يَمِينٍ حَتَّى يُطَلِّقَهَا زَوْجُهَا قَالَ فِي الْقَدِيمِ: وَمِمَّنْ قَالَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تعالى عَنْهُمْ، قَالُوا: نِكَاحُ الزَّوْجِ بَعْدَ الشِّرَاءِ ثَابِتٌ قَالَ: وَمِمَّنْ قَالَ بَيْعُ الْأَمَةِ طَلَاقُهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَأَّنَهُمْ قَاسُوهَا عَلَى الْمَسْبِيَّةِ، وَحَدِيثُ بَرِيرَةَ يَمْنَعُ مِنْ هَذَا الْقِيَاسِ، ثُمَّ الْإِجْمَاعُ أَنَّ مَنْ زَوَّجَ أَمَتَهُ لَمْ يَمْلِكْ وَطْئَهَا وَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، وَهَذَا مَعْنَى قَوْلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ﴾ [سورة النساء: 24] سے مراد خاوندوں والی لونڈیاں ہیں۔
نوٹ: اللہ نے زنا کو حرام قرار دیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاوندوں والی لونڈیاں بھی اپنے خاوندوں کے علاوہ دوسروں پر حرام ہیں اور یہ جو استثناء ہے ﴿إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] یہ صرف قیدی عورتوں کے ساتھ خاص ہے؛ کیونکہ غیر قیدی عورت جب اس کو فروخت یا آزاد کیا جائے تو اس کو فروخت کرنا اس کی طلاق نہیں ہوتی؛ کیونکہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو نبی ﷺ نے اپنے خاوند کے ساتھ رہنے یا جدا ہونے کا اختیار دیا جب وہ آزاد ہوئیں۔ بریرہ کی ملک زائل ہوئی، فروخت یا آزادی کی وجہ سے اس کا زائل ہونا دو طرح تھا، لیکن یہ جدائی نہ تھی۔ جب خاوند والی کی شرمگاہ ملک کے زائل ہونے کی وجہ سے حلال نہیں ہوئی یہ فروخت نہ کی گئی۔ یہ ملکیت بننے کی وجہ سے بھی حلال نہ ہوگی، جب تک اس کا خاوند طلاق نہ دے۔ یہ موقف سیدنا عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، عبدالرحمن بن عوف اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا تھا کہ فروخت ہونے کے بعد بھی خاوند کا نکاح باقی رہتا ہے۔
اور جو کہتے ہیں کہ لونڈی کو فروخت کر دینا اس کی طلاق ہے، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود، ابی بن کعب، عمران بن حصین، جابر بن عبداللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: انہوں نے قیدی عورت پر قیاس کیا ہے اور حدیثِ بریرہ اس قیاس کو روکتی ہے۔ پھر اجماع ہے کہ جس نے اپنی لونڈی کی شادی کر دی، وہ اس کی وطی کا مالک نہیں ہے اور یہ اس کی ہے جس کی ملکیت ہے۔
نوٹ: اللہ نے زنا کو حرام قرار دیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاوندوں والی لونڈیاں بھی اپنے خاوندوں کے علاوہ دوسروں پر حرام ہیں اور یہ جو استثناء ہے ﴿إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] یہ صرف قیدی عورتوں کے ساتھ خاص ہے؛ کیونکہ غیر قیدی عورت جب اس کو فروخت یا آزاد کیا جائے تو اس کو فروخت کرنا اس کی طلاق نہیں ہوتی؛ کیونکہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو نبی ﷺ نے اپنے خاوند کے ساتھ رہنے یا جدا ہونے کا اختیار دیا جب وہ آزاد ہوئیں۔ بریرہ کی ملک زائل ہوئی، فروخت یا آزادی کی وجہ سے اس کا زائل ہونا دو طرح تھا، لیکن یہ جدائی نہ تھی۔ جب خاوند والی کی شرمگاہ ملک کے زائل ہونے کی وجہ سے حلال نہیں ہوئی یہ فروخت نہ کی گئی۔ یہ ملکیت بننے کی وجہ سے بھی حلال نہ ہوگی، جب تک اس کا خاوند طلاق نہ دے۔ یہ موقف سیدنا عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، عبدالرحمن بن عوف اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا تھا کہ فروخت ہونے کے بعد بھی خاوند کا نکاح باقی رہتا ہے۔
اور جو کہتے ہیں کہ لونڈی کو فروخت کر دینا اس کی طلاق ہے، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود، ابی بن کعب، عمران بن حصین، جابر بن عبداللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: انہوں نے قیدی عورت پر قیاس کیا ہے اور حدیثِ بریرہ اس قیاس کو روکتی ہے۔ پھر اجماع ہے کہ جس نے اپنی لونڈی کی شادی کر دی، وہ اس کی وطی کا مالک نہیں ہے اور یہ اس کی ہے جس کی ملکیت ہے۔
حدیث نمبر: 13959
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَتْ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ، وَكَانَتْ إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ فَخُيِّرَتْ مِنْ زَوْجِهَا " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں تین سنتیں یا طریقے تھے، ان سنتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ آزادی کے بعد اختیار دی گئی۔