کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”سوائے اس کے جو پہلے گزر چکا“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13925
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ ⦗٢٦٤⦘ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ الرَّضَاعِ: " كَانَ أَكْبَرُ وَلَدِ الرَّجُلِ يُخَلَّفُ عَلَى امْرَأَةِ أَبِيهِ وَكَانَ الرَّجُلُ يَجْمَعُ بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ، فَنَهَى اللهُ تَعَالَى عَنْ أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَجْمَعُ فِي عُمْرِهِ بَيْنَ أُخْتَيْنِ أَوْ يَنْكِحُ مَا نَكَحَ أَبُوهُ، إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَبْلَ عِلْمِهِمْ بِتَحْرِيمِهِ لَيْسَ أَنَّهُ أَقَرَّ فِي أَيْدِيهِمْ مَا كَانُوا قَدْ جَمَعُوا بَيْنَهُ قَبْلَ الْإِسْلَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ کتاب الرضاع میں فرماتے ہیں کہ کسی شخص کا بڑا بیٹا اپنے والد کی وفات کے بعد (اس کا نائب ہوتا بیوی کے لیے) یعنی اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیتا اور ایک انسان دو بہنوں کو ایک نکاح میں رکھ لیتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع کر دیا کہ کوئی شخص اپنی زندگی میں دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرے یا اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرے، لیکن جو جاہلیت میں ان کے حرام ہونے کے علم سے پہلے ہو چکا، لیکن اب وہ بھی دو بہنوں کو ایک جگہ جمع نہ کریں جنہوں نے اسلام سے پہلے کر لیا تھا۔
حدیث نمبر: 13926
وَأَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْهُذَيْلِ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ: إِنَّمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ} [النساء: ٢٢] " يَعْنِي فِي نِسَاءِ الْآبَاءِ، لِأَنَّ الْعَرَبَ كَانُوا يَنْكِحُونَ نِسَاءَ الْآبَاءِ، ثُمَّ حَرَّمَ النَّسَبَ وَالصِّهْرَ، وَلَمْ يَقُلْ: إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ لِأَنَّ الْعَرَبَ، كَانَتْ لَا تَنْكِحُ النَّسَبَ وَالصِّهْرَ، وَقَالَ فِي الْأُخْتَيْنِ: {إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ} [النساء: ٢٢] لِأَنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَهُمَا فَحَرَّمَ جَمْعَهُمَا جَمِيعًا إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ قَبْلَ التَّحْرِيمِ {إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: ٢٣] لِمَا كَانَ مِنْ جِمَاعِ الْأُخْتَيْنِ قَبْلَ التَّحْرِيمِ ".
حافظ ثناء اللہ
مقاتل بن عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿مَا قَدْ سَلَفَ﴾ [سورة النساء: 22] یعنی باپوں کی عورتوں کے بارے میں کہ لوگ باپوں کی عورتوں سے شادی کر لیتے تھے، لیکن یہ پہلے ہو چکا۔ اس لیے کہ عرب لوگ نسب و سسرال میں نکاح نہ کرتے تھے اور دو بہنوں کے متعلق فرمایا کہ وہ ان کو ایک ہی مرد اپنے نکاح میں جمع کر لیتا تو ان کے جمع کرنے کی حرمت بیان کی گئی۔ لیکن جو تحریم سے پہلے ہو چکا ﴿إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾ [سورة النساء: 23] ”اللہ معاف کرنے والے ہیں“ یعنی دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے کو جو حرمت سے پہلے تھا۔
حدیث نمبر: 13927
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: " كَانَ إِذَا تُوُفِّيَ الرَّجُلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَمَدَ حَمِيمُ الْمَيِّتِ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَأَلْقَى عَلَيْهَا ثَوْبًا، فَيَرِثُ نِكَاحَهَا فَيَكُونُ هُوَ أَحَقُّ بِهَا، فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو قَيْسِ بْنُ الْأَسْلَتِ عَمَدَ ابْنُهُ قَيْسٌ إِلَى امْرَأَةِ أَبِيهِ، فَتَزَوَّجَهَا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَأَنْزَلَ اللهُ فِي قَيْسٍ: {وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ} [النساء: ٢٢] قَبْلَ التَّحْرِيمِ حَتَّى ذَكَرَ تَحْرِيمَ الْأُمَّهَاتِ وَالْبَنَاتِ حَتَّى ذَكَرَ: {وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ} [النساء: ٢٣] قَبْلَ التَّحْرِيمِ {إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: ٢٣] فِيمَا مَضَى قَبْلَ التَّحْرِيمِ ".
حافظ ثناء اللہ
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب جاہلیت میں کوئی آدمی فوت ہو جاتا تو میت کے ورثاء اس کی بیوی کا قصد کرتے اور اس پر کپڑا ڈال کر اس کے نکاح کے وارث بن جاتے اور یہ شخص اس کا زیادہ حق دار ہوتا۔ جب ابو قیس بن اسلت رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان کے بیٹے نے اپنے والد کی بیوی کا ارادہ کیا، اس سے نکاح تو کر لیا، لیکن ابھی مجامعت نہ کی تھی، اس بی بی نے نبی ﷺ سے تذکرہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے قیس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ﴾ [سورة النساء: 22] ”تم اپنے باپوں کی بیویوں سے نکاح نہ کرو مگر جو ہو چکا۔“ حرمت سے پہلے پھر ماؤں اور بیٹیوں کی حرمت ذکر کی گئی: ﴿وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ﴾ [سورة النساء: 23] ”یہ کہ نہ تم جمع کرو دو بہنوں کو مگر جو ہو چکا، حرمت سے قبل۔“ ﴿إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ [سورة النساء: 23] ”یقیناً اللہ معاف کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ جو حرمت سے پہلے ہو چکا۔