کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ کوئی شخص خود اپنے ساتھ اس عورت کا نکاح نہیں کر سکتا جس کا وہ ولی ہو، جیسا کہ وہ خود سے کوئی ایسی چیز نہیں خرید سکتا جسے بیچنے کا وہ مجاز (وکیل یا ولی) ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ ⦗٢٣١⦘ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ الْحَكَمُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِأَرْبَعَةٍ وَلِيٍّ وَشَاهِدَيْنِ وَخَاطِبٍ " وَلَهُ شَاهِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نکاح چار کی موجودگی میں ہوگا: 1 ولی، 2 دو گواہ، 3 نکاح کرنے والا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقطع سند کے ساتھ اس کا ایک شاہد بھی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقطع سند کے ساتھ اس کا ایک شاہد بھی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ رَوْحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ التَّمِيمِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى الزُّبَيْرِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْمَاسَرْجِسِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِأَرْبَعٍ خَاطِبٍ وَوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْنِ " هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا وَالْمَشْهُورُ عَنْهُ مَوْقُوفٌ، وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نکاح چار کی موجودگی میں ہے: 1۔ نکاح کرنے والا، 2۔ ولی، 3۔ دو گواہ۔
یہ سند صحیح ہے، مگر قتادہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نہیں پایا۔ ایک دوسری ضعیف سند سے یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن ان سے مشہور موقوف ہے، اور ایک دوسری سند سے یہ نبی ﷺ سے بھی مروی ہے۔
یہ سند صحیح ہے، مگر قتادہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نہیں پایا۔ ایک دوسری ضعیف سند سے یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن ان سے مشہور موقوف ہے، اور ایک دوسری سند سے یہ نبی ﷺ سے بھی مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الصَّابُونِيُّ الْفَقِيهُ، بِنَيْسَابُورَ سَنَةَ ثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ الْجَرَّاحِ الْخُوَارِزْمِيُّ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُوسَى، ثنا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَخَاطِبٍ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ " وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا، وَمِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نکاح چار کی موجودگی میں ہوتا ہے: 1 ولی، 2 نکاح کرنے والا، 3 دو عادل گواہ۔“
یہ روایت ایک دوسری ضعیف سند سے ابوسلمہ کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بھی مروی ہے، اور ایک اور ضعیف سند سے ہشام بن عروہ عن ابیہ عن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مرفوعاً بھی مروی ہے۔
یہ روایت ایک دوسری ضعیف سند سے ابوسلمہ کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بھی مروی ہے، اور ایک اور ضعیف سند سے ہشام بن عروہ عن ابیہ عن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مرفوعاً بھی مروی ہے۔