السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الأب يزوج ابنه الصغير باب: اس بیان میں کہ باپ اپنے نابالغ بیٹے کا نکاح کر سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " زَوَّجَ ابْنًا لَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ وَابْنُهُ صَغِيرٌ يَوْمَئِذٍ " ⦗٢٣٢⦘ وَهَذَا مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّ أَخَاهُ أَوْجَبَ الْعَقْدَ وَابْنُ عُمَرَ قَبِلَهُ لِابْنِهِ الصَّغِيرِ، وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَالْحَسَنِ، وَالشَّعْبِيِّ وَالنَّخَعِيِّ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا: " إِذَا أَنْكَحَ الرَّجُلُ ابْنَهُ وَهُوَ كَارِهٌ فَلَا نِكَاحَ لَهُ، وَإِذَا زَوَّجَهُ وَهُوَ صَغِيرٌ جَازَ نِكَاحُهُ "، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: " الصَّدَاقُ عَلَى الِابْنِ الَّذِي أَنْكَحْتُمُوهُ "، وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا أَنْكَحَ الرَّجُلُ ابْنَهُ الصَّغِيرَ فَنِكَاحُهُ جَائِزٌ وَلَا طَلَاقَ لَهُ "، وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: " لَا يَجُوزُ لَهُ طَلَاقٌ، يَعْنِي عَلَى الْمَجْنُونِ ".سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے چھوٹے بچے کی شادی اپنی بھتیجی سے کر دی اور ان کا بیٹا اس وقت چھوٹا تھا۔ یہ محمول کیا جائے گا کہ ان کے بھائی نے نکاح کو ثابت کر دیا اور ان کے چچا نے ان کے بیٹے کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے بھی قبول کر لیا۔
(ب) سیدنا حسن رحمہ اللہ ضعیف سند سے نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب کوئی شخص اپنے بیٹے کی شادی کرے اور وہ اس کو ناپسند کرے تو کوئی نکاح نہیں ہے اور جب بچپن میں اس کا نکاح ہو جائے تو جائز ہے۔“
(ج) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حق مہر اس کے ذمہ ہے جس بچے کا تم نکاح کر رہے ہو۔
(د) سیدنا عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے چھوٹے بچے کی شادی کر دے تو اس کا نکاح جائز ہے اور کوئی طلاق نہیں۔
(ذ) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجنون (پاگل) کی طلاق جائز نہیں ہے۔