قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ: وَنَهَى عَنْ طَعَامِ الْفَجْأَةِ، وَلَقَدْ فَاجَأَ أَبُو الدَّرْدَاءِ عَلَى طَعَامِهِ، فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهِ وَكَانَ ذَلِكَ لَهُ خَاصًّا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَنَا لَا أَحْفَظُ حَدِيثَ النَّهْيِ عَنْ طَعَامِ الْفَجْأَةِ هَكَذَا مِنْ وَجْهٍ يَثْبُتُ مِثْلُهُ وَالَّذِي أَحْفَظُهُ مِمَّا فِي بَعْضِ مَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو العباس نے کہا: ”اور آپ ﷺ نے اچانک (بغیر دعوت کے) کھانے پر پہنچ جانے سے منع فرمایا، اور سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ اچانک آپ ﷺ کے کھانے پر آ پہنچے تو آپ ﷺ نے انہیں کھانے کا حکم دیا، اور یہ آپ ﷺ کے لیے خاص تھا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجھے اچانک کھانے پر پہنچنے کی ممانعت والی حدیث اس طرح کسی ایسی سند سے یاد نہیں جس جیسی (سند) ثابت ہوتی ہو، اور جو مجھے یاد ہے وہ ان روایات میں سے ہے جو اس کے کچھ معنی میں ہیں۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجھے اچانک کھانے پر پہنچنے کی ممانعت والی حدیث اس طرح کسی ایسی سند سے یاد نہیں جس جیسی (سند) ثابت ہوتی ہو، اور جو مجھے یاد ہے وہ ان روایات میں سے ہے جو اس کے کچھ معنی میں ہیں۔“
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ، فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا " وَهَذَا وَرَدَ فِي الرَّجُلِ يَدْخُلُ عَلَى آخَرَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ يَأْكُلُ لِيَأْكُلَ مَعَهُ، وَقَدْ رُوِيَ حَدِيثٌ بِنَفْيِ التَّخْصِيصِ الَّذِي تَوَهَّمَهُ أَبُو الْعَبَّاسِ فِي طَعَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ أَبِي الدَّرْدَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس کو دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہ کی، اس نے اللہ اور رسول کی نافرمانی کی ہے اور جو کوئی بغیر دعوت کے داخل ہو گیا وہ چور بن کر گیا اور ڈاکو بن کر نکلا۔“
یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو کسی دوسرے کے پاس یہ جانتے ہوئے جاتا ہے کہ وہ کھانا کھا رہا ہے تاکہ اس کے ساتھ کھائے، اور ایک حدیث ایسی بھی روایت کی گئی ہے جو اس خصوصیت کی نفی کرتی ہے جس کا ابو العباس کو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے قصے میں نبی ﷺ کے کھانے کے بارے میں وہم ہوا۔
یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو کسی دوسرے کے پاس یہ جانتے ہوئے جاتا ہے کہ وہ کھانا کھا رہا ہے تاکہ اس کے ساتھ کھائے، اور ایک حدیث ایسی بھی روایت کی گئی ہے جو اس خصوصیت کی نفی کرتی ہے جس کا ابو العباس کو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے قصے میں نبی ﷺ کے کھانے کے بارے میں وہم ہوا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْعُكْبَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا مِنْ شِعْبِ الْجَبَلِ، وَقَدْ قَضَى حَاجَتَهُ وَبَيْنَ أَيْدِينَا تَمْرٌ عَلَى تُرْسٍ أَوْ جَحْفَةٍ، فَدَعَوْنَاهُ إِلَيْهِ، فَأَكَلَ مَعَنَا وَمَا مَسَّ مَاءً " أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.
حافظ ثناء اللہ
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی ﷺ شعب جبل کی طرف گئے، آپ ﷺ نے قضائے حاجت کی اور ہماری لوہے یا چمڑے کی ڈھال پر کھجوریں پڑی ہوئی تھیں۔ ہم نے آپ ﷺ کو دعوت دی۔ آپ ﷺ نے ہمارے ساتھ کھایا اور پانی کو ہاتھ نہ لگایا۔
وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يَأْكُلُونَ تَمْرًا عَلَى تُرْسٍ قَالَ: " فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ جَاءَ مِنَ الْغَائِطِ، فَقُلْنَا: هَلُمَّ فَقَعَدَ فَأَكَلَ مَعَنَا مِنَ التَّمْرِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ وہ لوگ ایک ڈھال پر کھجوریں کھا رہے تھے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے گزرے، آپ ﷺ قضائے حاجت سے آئے تھے، ہم نے عرض کیا: تشریف لائیے، تو آپ ﷺ بیٹھ گئے اور ہمارے ساتھ کھجوریں کھائیں اور پانی کو ہاتھ نہ لگایا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، نا مُسَدَّدٌ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ السَّكَنِ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ، دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُهْ تَأْكُلْ، فَقَالَ: " إِنِّي صَائِمٌ قَالَ: كُنَّا نَصُومُهُ، ثُمَّ تُرِكَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرُهُ، عَنْ يَحْيَى وَفِي هَذَا أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ وَكُلُّ ذَلِكَ يَنْفِي التَّخْصِيصَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس عاشورا والے دن آئے اور وہ کھا رہے تھے، انہوں نے کہا: اے ابو محمد! قریب ہو اور کھاؤ، تو انہوں نے کہا: میں روزہ دار ہوں، انہوں نے فرمایا کہ ہم بھی (اس دن کا) روزہ رکھتے تھے، پھر چھوڑ دیا گیا۔
اس بارے میں بہت سی روایات ہیں اور وہ سب اس خصوصیت کی نفی کرتی ہیں، واللہ اعلم۔
اس بارے میں بہت سی روایات ہیں اور وہ سب اس خصوصیت کی نفی کرتی ہیں، واللہ اعلم۔