السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما خص به من زيادة الوعك لزيادة الأجر ولم يذكره أبو العباس رحمه الله باب: اجر میں اضافے کے لیے آپ ﷺ کے ساتھ بخار کی شدت کے خاص ہونے کا بیان اور اسے ابوالعباس رحمہ اللہ نے ذکر نہیں کیا
حدیث نمبر: 13416
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُورٍ الدَّهَّانُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ تُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا قَالَ: " أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ " قَالَ: قُلْتُ: لِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ قَالَ: " نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذَى مَرَضٍ، فَمَا سِوَاهُ، إِلَّا حَطَّ اللهُ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا "، ⦗١١٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ کو بخار تھا۔ میں نے آپ ﷺ کو چھوا تو میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کو تو بہت زیادہ بخار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، مجھے تمہارے دو آدمیوں جتنا بخار ہوتا ہے۔“ میں نے کہا: آپ ﷺ کا اجر بھی دو گنا ہوگا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! زمین پر کوئی بھی مسلمان نہیں ہے کہ اس کو کوئی تکلیف آئے یا بیماری مگر اللہ تعالیٰ اس کے گناہ مٹا دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔“