السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: المملوك والمرأة يرضخ لهما ولا يسهم باب: غلام اور عورت کو مالِ غنیمت میں سے کچھ انعام دیا جائے گا لیکن ان کا باقاعدہ حصہ مقرر نہیں کیا جائے گا
حدیث نمبر: 12912
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الْعَنَزِيُّ، أنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي سُؤَالِهِ وَفِي جَوَابِهِ قَالَ: وَسَأَلْتُ عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ: هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرَا الْبَأْسَ؟ قَالَ: " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْعَدُوِّ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ يَزِيدَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: " وَأَمَّا السَّهْمُ، فَلَمْ يُضْرَبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ ".حافظ ثناء اللہ
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال تحریر کر کے بھیجا، اس نے اس کے سوال اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے جواب ذکر کیے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تو نے سوال کیا ہے عورت اور غلام کے بارے میں کہ کیا ان کے لیے حصہ ہے جب وہ لڑائی میں شریک ہوں؟ ان کے لیے مقررہ حصہ نہیں ہے مگر ان کو دشمن کی غنیمت سے کچھ انعام دیا جائے گا۔“