أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَشْرَكَ الْإِخْوَةَ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ مَعَ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ فِي الثُّلُثِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: قَضَيْتَ فِي هَذَا عَامَ أَوَّلَ بِغَيْرِ هَذَا، قَالَ: " كَيْفَ قَضَيْتُ؟ " قَالَ: جَعَلْتَهُ لِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ، وَلَمْ تَجْعَلْ لِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ شَيْئًا، قَالَ: " تِلْكَ عَلَى مَا قَضَيْنَا، وَهَذَا عَلَى مَا قَضَيْنَا ".
حافظ ثناء اللہ
حکم بن مسعود ثقفی فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، آپ رضی اللہ عنہ نے حقیقی بھائی کو اخیافی بھائی کے ساتھ ثلث میں شریک کیا۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: آپ نے پچھلے سال اس بارے میں اس کے علاوہ فیصلہ کیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیسے فیصلہ کیا تھا؟ اس نے کہا: آپ نے اخیافی بھائی کے لیے حصہ مقرر کیا تھا اور حقیقی بھائی کے لیے نہ کیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ فیصلہ وہاں تھا اور یہ فیصلہ اس (موقع محل) پر ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنا عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ وَهْبٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عُمَرَ، بِنَحْوِهِ. وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَا: فِي إِسْنَادِهِ مَسْعُودُ بْنُ الْحَكَمِ، ⦗٤١٨⦘ قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ: هَذَا خَطَأٌ، إِنَّمَا هُوَ الْحَكَمُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: وَمَسْعُودُ بْنُ الْحَكَمِ زُرَقِيٌّ، وَالَّذِي رَوَى عَنْهُ وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ إِنَّمَا هُوَ الْحَكَمُ بْنُ مَسْعُودٍ ثَقَفِيٌّ.
حافظ ثناء اللہ
پچھلی حدیث کی طرح ہے۔
سفیان بن عیینہ اور عبدالرزاق نے اسے معمر سے روایت کیا اور اس کی سند میں مسعود بن حکم کہا۔ یعقوب بن سفیان کہتے ہیں: یہ غلطی ہے، وہ تو حکم بن مسعود ہیں۔ انہوں نے کہا: مسعود بن حکم زُرَقی ہیں اور جن سے وہب بن منبہ نے روایت کی ہے وہ حکم بن مسعود ثقفی ہیں۔
سفیان بن عیینہ اور عبدالرزاق نے اسے معمر سے روایت کیا اور اس کی سند میں مسعود بن حکم کہا۔ یعقوب بن سفیان کہتے ہیں: یہ غلطی ہے، وہ تو حکم بن مسعود ہیں۔ انہوں نے کہا: مسعود بن حکم زُرَقی ہیں اور جن سے وہب بن منبہ نے روایت کی ہے وہ حکم بن مسعود ثقفی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْمَرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ قَالَ: قَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَابْنَتَهَا وَإِخْوَتَهَا لِأُمِّهَا وَإِخْوَتَهَا لِأَبِيهَا وَأُمِّهَا، فَشَرَّكَ بَيْنَ الْإِخَوَةِ لِلْأُمِّ وَبَيْنَ الْإِخَوَةِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ، جَعَلَ الثُّلُثَ بَيْنَهُمْ سَوَاءً، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّكَ لَمْ تُشَرِّكْ بَيْنَهُمْ عَامَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: " تِلْكَ عَلَى مَا قَضَيْنَا يَوْمَئِذٍ، وَهَذِهِ عَلَى مَا قَضَيْنَا الْيَوْمَ " لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ: هَذَا خَطَأٌ؛ إِنَّمَا هُوَ الْحَكَمُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَبِمَعْنَاهُ قَالَ الْبُخَارِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
مسعود بن حکم ثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کے بارے میں فیصلہ کیا جس نے خاوند، بیٹی، اخیافی بہن بھائی اور حقیقی بہن بھائی چھوڑے تھے۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اخیافی اور حقیقی بہن بھائیوں کو «ثُلُث» ”ایک تہائی“ میں برابر شریک رکھا۔ ایک آدمی نے کہا: اے امیر المومنین! آپ نے فلاں فلاں سال انہیں شریک نہ کیا تھا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ اس وقت کا فیصلہ تھا اور آج یہ فیصلہ ہے۔
یعقوب بن سفیان کہتے ہیں: یہ غلطی ہے، وہ تو حکم بن مسعود ہیں، اور امام بخاری نے بھی اسی معنی کی بات کہی ہے۔
یعقوب بن سفیان کہتے ہیں: یہ غلطی ہے، وہ تو حکم بن مسعود ہیں، اور امام بخاری نے بھی اسی معنی کی بات کہی ہے۔
، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنا عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ " أَنَّ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ زُرَقِيٌّ، وَالَّذِي رَوَى عَنْهُ وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ إِنَّمَا هُوَ الْحَكَمُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمرو بن علقمہ کہتے ہیں کہ مسعود بن حکم زُرَقی ہیں اور جن سے وہب بن منبہ نے روایت کی ہے وہ حکم بن مسعود ثقفی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ " أَشْرَكَ بَيْنَ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ وَبَيْنَ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ فِي الثُّلُثِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حقیقی اور اخیافی بھائیوں کو ثلث میں شریک کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " شَرَّكَ بَيْنَ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ وَالْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ فِي الثُّلُثِ، وَأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يُشَرِّكْ بَيْنَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو مجلز سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اخیافی اور حقیقی بھائیوں کو ثلث میں شریک کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کو شریک نہ کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وُهَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي الْمُشَرَّكَةِ قَالَ: " هَبُوا أَبَاهُمْ كَانَ حِمَارًا، مَا زَادَهُمُ الْأَبُ إِلَّا قُرْبًا، وَأَشْرَكَ بَيْنَهُمْ فِي الثُّلُثِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے شریکوں کے بارے میں کہا: فرض کر لو کہ ان کا باپ گدھا تھا، باپ نے ان کو قربت ہی میں زیادہ کیا ہے، اور ان کو ثلث میں شریک کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ ⦗٤١٩⦘ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ، أنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللهِ، وَزَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، أَنَّهُمْ قَالُوا: " لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ السُّدُسُ "، وَأَشْرِكُوا بَيْنَ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ وَالْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ فِي الثُّلُثِ، وَقَالُوا: " مَا زَادَهُمُ الْأَبُ إِلَّا قُرْبًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر، عبداللہ اور زید رضی اللہ عنہم نے کہا: خاوند کے لیے نصف، ماں کے لیے سدس اور انہوں نے حقیقی بھائیوں اور اخیافی بھائیوں کو ثلث میں شریک کیا اور انہوں نے کہا: باپ نے ان کو قربت میں زیادہ کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي أُمٍّ وَزَوْجٍ وَإِخْوَةٍ لِأُمٍّ وَإِخْوَةٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ: " لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ السُّدُسُ، وَشَرِّكَا بَيْنَ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ وَبَيْنَ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ فِي الثُّلُثِ، ذَكَرُهُمْ وَأُنْثَاهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ "، وَقَالَا: " مَا زَادَهُمُ الْأَبُ إِلَّا قُرْبًا ".
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ماں، خاوند، اخیافی اور حقیقی بھائیوں میں زوج کے لیے نصف، ماں کے لیے سدس ہے اور ان دونوں نے اخیافی اور حقیقی بھائیوں کو ثلث میں شریک کیا، اس میں ان کے مذکر اور مؤنث برابر ہیں اور فرمایا: باپ نے ان کو قربت ہی میں زیادہ کیا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعَبْدَ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " أَشْرَكَا بَيْنَهُمْ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بِخِلَافِ هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر اور عبداللہ رضی اللہ عنہما نے دونوں کو شریک کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: أَتَيْنَا عَبْدَ اللهِ فِي زَوْجٍ وَأُمٍّ وَأَخَوَيْنِ لِأُمٍّ وَأَخٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ، فَقَالَ: " قَدْ تَكَامَلَتِ السِّهَامُ، وَلَمْ يُعْطِ الْأَخَ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
ہزیل بن شرحبیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس زوج، ماں، دو اخیافی بھائیوں اور ایک حقیقی بھائی کے بارے میں آئے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: حصے مکمل ہو چکے ہیں اور حقیقی بھائی کو کچھ نہ دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ الْهُزَيْلِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَإِخْوَتَهَا لِأَبِيهَا وَأُمِّهَا وَإِخْوَتَهَا لِأُمِّهَا، قَالَ: " لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ السُّدُسُ، وَلِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ الثُّلُثُ تَكْمِلَةَ السِّهَامِ "، وَلَمْ يَجْعَلْ لِإِخْوَتِهَا لِأَبِيهَا وَأُمِّهَا شَيْئًا.
حافظ ثناء اللہ
ہزیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایسی عورت کے بارے میں فرمایا جس نے خاوند، ماں، حقیقی بھائیوں اور اخیافی بھائیوں کو چھوڑا ہو کہ زوج کے لیے نصف، ماں کے لیے سدس اور اخیافی بھائیوں کے لیے ثلث حصوں کو پورا کرنے والا ہے، اور حقیقی بھائیوں کے لیے کوئی حصہ نہ رکھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ، أنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُشَرَّكَةِ: " يَا ابْنَ أَخِي، تَكَامَلَتِ السِّهَامُ دُونَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے شراکت والوں کے بارے میں فرمایا: اے بھائی کے بیٹے! تیرے علاوہ حصے پورے ہو جائیں گے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ وَزَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ السُّدُسُ، وَلِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ الثُّلُثُ "، وَلَمْ يُشَرِّكَا بَيْنَ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ مَعَهُم، وَقَالَا: " همُّ عَصَبَةٍ إِنْ فَضَلَ شَيْءٌ كَانَ لَهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ شَيْءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ علی اور زید رضی اللہ عنہما نے کہا: زوج کے لیے نصف، ماں کے لیے سدس اور اخیافی بھائی کے لیے ثلث اور حقیقی بھائی کو اخیافی کے ساتھ شریک نہ کیا اور دونوں نے کہا: وہ عصبہ ہیں، اگر کوئی چیز بچ جائے تو ان کے لیے ہوگی اور اگر نہ بچے تو ان کے لیے کچھ نہ ہوگا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ زَيْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ لَا يُشَرِّكُ، كَانَ يَجْعَلُ الثُّلُثَ لِلْإِخْوَةِ لِلْأُمِّ دُونَ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ "، قَالَ هُشَيْمٌ: وَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: إِنَّ زَيْدًا كَانَ يُشَرِّكُ، قَالَ: فَإِنَّ الشَّعْبِيَّ حَدَّثَنَا هَكَذَا عَنْ زَيْدٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مِثْلَ قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ أَيْضًا، فَقَالَ: بَيْنِي وَبَيْنَكَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى قَالَ الشَّيْخُ: الرِّوَايَةُ الصَّحِيحَةُ فِي هَذَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَا مَضَى، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ يَنْفَرِدُ بِهَا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَالشَّعْبِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ أَعْلَمُ بِمَذْهَبِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَإِنْ لَمْ يَرَيَاهُ، مِنْ رِوَايَةِ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ وَإِنْ كَانَتْ مَوْصُولَةً، إِلَّا أَنَّ لِرِوَايَةِ أَبِي قَيْسٍ شَاهِدًا؛ فَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ ثُمَّ رَجَعَ عَنْهُ إِلَى مَا تَقَرَّرَ عِنْدَ الشَّعْبِيِّ وَالنَّخَعِيِّ مِنْ مَذْهَبِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ، كَمَا رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ شریک نہیں کرتے تھے، وہ حقیقی بھائیوں کے علاوہ صرف اخیافی بھائیوں کو ثلث دیتے تھے، ہیشم نے کہا: میں نے اس کا رد کیا، میں نے کہا: سیدنا زید رضی اللہ عنہ شریک کرتے تھے۔ اس نے کہا: شعبی نے ہمیں زید سے اسی طرح بیان کیا ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول جیسا کہتے تھے، میں نے پھر اس کا رد کیا تو اس نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان ابن ابی لیلیٰ (فیصلہ کرنے والے) ہیں۔
اس بارے میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے صحیح روایت وہی ہے جو گزر چکی، اور اس روایت کو بیان کرنے میں محمد بن سالم منفرد ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔
اس بارے میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے صحیح روایت وہی ہے جو گزر چکی، اور اس روایت کو بیان کرنے میں محمد بن سالم منفرد ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَعَلَ لِلْإخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ الثُّلُثَ، وَلَمْ يُشْرِكِ الْإِخْوَةَ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ مَعَهُمْ، وَقَالَ: " هُمْ عَصَبَةٌ، وَلَمْ يَفْضُلْ لَهُمْ شَيْءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اخیافی بھائی کے لیے ثلث بناتے تھے اور حقیقی بھائیوں کو شریک نہ کرتے تھے اور فرماتے: وہ عصبہ ہیں اور ان کے لیے کچھ نہ بچتا تھا۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ، فَقَالَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانُوا مِائَةً، أَكُنْتُمْ تَزِيدُونَ عَلَى الثُّلُثِ شَيْئًا؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَإِنِّي لَا أُنْقِصُهُمْ مِنْهُ شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اخیافی بھائیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ”تیرا کیا خیال ہے اگر وہ ایک سو ہوں تو ثلث سے زیادہ دو گے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ کہا: ”میں اس سے کم نہیں کروں گا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، أَخْبَرَنِي إِسْرَائِيلُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، أَنَّ عَلِيًّا وَأَبَا مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " كَانَا لَا يُشَرِّكَانِ " ⦗٤٢١⦘ وَرَوَاهُ أَيْضًا أَبُو مِجْلَزٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلًا، وَحَكِيمُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَوْصُولًا، فَهُوَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَشْهُورٌ.
حافظ ثناء اللہ
عامر سے روایت ہے کہ حضرت علی اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہما شریک نہ کرتے تھے۔