حدیث نمبر: 12458
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ ⦗٤١٥⦘ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَرِثُ الْكَافِرَ، وَأَنَّ الْكَافِرَ لَا يَرِثُ الْمُسْلِمَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے یہ بات پہنچی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہ بنے اور نہ کافر مسلمان کا وارث بنے۔“
حدیث نمبر: 12459
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ قِسْطٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَقِيتُ عَمِّي وَمَعَهُ رَايَةٌ فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَآخُذَ مَالَهُ " لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ، وَقَدْ حَمَلَ هَذَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَلَى أَنَّهُ نَكَحَهَا مُعْتَقِدًا لِإِبَاحَتِهِ، فَصَارَ بِهِ مُرْتَدًّا وَجَبَ قَتْلُهُ وَأَخْذُ مَالِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُمَا عَنْ مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ، فَقَالَا: لِبَيْتِ الْمَالِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِيَانِ أَنَّهُ فَيْءٌ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن براء اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے میرے چچا ملے اور ان کے پاس تلوار تھی، میں نے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایسے آدمی کی طرف بھیجا ہے کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے، کہ ”میں اس کو قتل کر دوں اور اس کا مال لے لوں۔“
اور ہمارے بعض اصحاب نے اسے اس پر محمول کیا ہے کہ اس نے اس عورت سے اس کو مباح سمجھ کر نکاح کیا تھا، پس وہ مرتد ہو گیا، اس کا قتل واجب تھا اور اس کا مال قبضے میں لے لیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بیان کیا گیا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف لکھا اور مرتد کی میراث کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: ”بیت المال کے لیے ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: دونوں کی مراد تھی کہ وہ فئی ہے۔
اور ہمارے بعض اصحاب نے اسے اس پر محمول کیا ہے کہ اس نے اس عورت سے اس کو مباح سمجھ کر نکاح کیا تھا، پس وہ مرتد ہو گیا، اس کا قتل واجب تھا اور اس کا مال قبضے میں لے لیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بیان کیا گیا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف لکھا اور مرتد کی میراث کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: ”بیت المال کے لیے ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: دونوں کی مراد تھی کہ وہ فئی ہے۔
حدیث نمبر: 12460
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " قَضَى فِي مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ أَنَّهُ لِأَهْلِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرَاوِيهِ عَنِ الْحَكَمِ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَرَوَاهُ أَيْضًا شَرِيكٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ أَيْضًا مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
حجاج بن ارطاۃ نے حکم سے نقل کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مرتد کی میراث کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وہ مسلمانوں میں سے اس کے اہل کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 12461
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أُتِيَ بِالْمُسْتَوْرِدِ الْعِجْلِيِّ فَقَتَلَهُ وَجَعَلَ مِيرَاثَهُ لِأَهْلِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَعْطَاهُ النَّصَارَى بِجِيفَتِهِ ثَلَاثِينَ أَلْفًا، فَأَبَى أَنْ يَبِيعَهُمْ إِيَّاهُ وَأَحْرَقَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعمرو شیبانی سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس مستورد عجلی کو لایا گیا، آپ نے اسے قتل کیا اور اس کی وراثت اس کے مسلمان اہل و عیال میں بانٹ دی۔ عیسائیوں نے اس کی لاش لینے کے لیے تیس ہزار دیے، لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو بیچنے سے انکار کر دیا اور اسے جلا دیا۔
حدیث نمبر: 12462
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّهُ أُتِيَ بِمُسْتَوْرِدٍ الْعِجْلِيِّ وَقَدِ ارْتَدَّ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ فَأَبَى "، قَالَ: " فَقَتَلَهُ، وَجَعَلَ مِيرَاثَهُ بَيْنَ وَرَثَتِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " ⦗٤١٦⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ يَزْعُمُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْكُمْ أَنَّهُ غَلَطٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: فَقُلْتُ لَهُ، يَعْنِي لِلَّذِي يُنَاظِرُهُ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْكُمْ مَنْ يَزْعُمُ أَنَّ الْحُفَّاظَ لَمْ يَحْفَظُوا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَقَسَمَ مَالَهُ بَيْنَ وَرَثَتِهِ الْمُسْلِمِينَ، وَنَخَافُ أَنْ يَكُونَ الَّذِي زَادَ هَذَا غَلَطَ؟ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَرَأْتُ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ ضَعَّفَ الْحَدِيثَ الَّذِي رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ مِيرَاثَ الْمُرْتَدِّ لِوَرَثَتِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِيَتْ قِصَّةُ الْمُسْتَوْرِدِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَلِيٍّ وَلَيْسَ فِيهَا هَذِهِ اللَّفْظَةُ، وَإِنَّمَا فِيهَا أَنَّهُ لَمْ يَعْرِضْ لِمَالِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوعمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس مستورد عجلی کو لایا گیا، وہ مرتد ہو گیا تھا، آپ نے اس پر اسلام پیش کیا، اس نے انکار کر دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا اور اس کی میراث اس کے مسلمان رشتہ داروں کو دے دی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تم میں سے بعض اہل حدیث خیال کرتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: میں نے اسے کہا: جس کا موقف یہ ہے، کیا تو نے اہل حدیث سے سنا ہے؟ جو میں گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یاد نہیں رکھا کہ آپ نے اس کا مال ان کے مسلمان ورثاء کے درمیان تقسیم کر دیا ہو اور ہم ڈرتے ہیں کہ جس نے یہ زیادتی (اضافہ) کی وہ غلط ہو۔
امام احمد رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، جس میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ مرتد کی میراث اس کے مسلمان ورثاء کے لیے ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تم میں سے بعض اہل حدیث خیال کرتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: میں نے اسے کہا: جس کا موقف یہ ہے، کیا تو نے اہل حدیث سے سنا ہے؟ جو میں گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یاد نہیں رکھا کہ آپ نے اس کا مال ان کے مسلمان ورثاء کے درمیان تقسیم کر دیا ہو اور ہم ڈرتے ہیں کہ جس نے یہ زیادتی (اضافہ) کی وہ غلط ہو۔
امام احمد رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، جس میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ مرتد کی میراث اس کے مسلمان ورثاء کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 12463
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ ابْنِ عَبِيدِ بْنِ الْأَبْرَصِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسًا حِينَ أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عِجْلٍ يُقَالُ لَهُ الْمَسْتَوْرِدُ، كَانَ مُسْلِمًا فَتَنَصَّرَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا ذَاكَ؟ " فَقَالَ: وَجَدْتُ دِينَهُمْ خَيْرًا مِنْ دِينِكُمْ، قَالَ: " وَمَا دِينُكَ؟ " قَالَ: دِينُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَأَنَا عَلَى دِينِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَلَكِنْ مَا تَقُولُ فِي عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؟ " فَقَالَ كَلِمَةً خَفِيَتْ عَلَيَّ لَمْ أَفْهَمْهَا، فَزَعَمَ الْقَوْمُ أَنَّهُ قَالَ أَنَّهُ رَبُّهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " اقْتُلُوهُ، فَتَوَطَّأَهُ الْقَوْمُ حَتَّى مَاتَ "، قَالَ: فَجَاءَ أَهْلُ الْحِيرَةِ فَأَعْطَوا يَعْنِي بِجِيفَتِهِ اثْنَى عَشَرَ أَلْفًا، فَأَبَى عَلَيْهِمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ بِالنَّارِ، وَلَمْ يَعْرِضْ لِمَالِهِ وَرَوَاهُ أَيْضًا الشَّعْبِيُّ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دُونَ ذِكْرِ الْمَالِ. ثُمَّ قَدْ جَعَلَهُ الشَّافِعِيُّ لِخَصْمِهِ ثَابِتًا، وَاعْتَذَرَ فِي تَرْكِهِ قَوْلَهُ بِظَاهِرِ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ "، كَمَا تَرَكُوا بِهِ قَوْلَ مُعَاذٍ وَمُعَاوِيَةَ وَغَيْرِهِمَا فِي تَوْرِيثِ الْمُسْلِمِ مِنَ الْيَهُودِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عبید بن ابرص فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، جب بنی عجل کے ایک آدمی مستورد کو لایا گیا، وہ مسلمان تھا، پھر یہودی ہو گیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: میں نے ان کا دین تمہارے دین سے بہتر پایا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تیرا دین کیا ہے، اس نے کہا: عیسیٰ (علیہ السلام) والا دین، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر ہوں، لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کیا کہتا ہے، اس نے ایسا کلمہ کہا جو مجھ سے مخفی رہا، میں اسے سمجھ نہ سکا، لوگوں نے خیال کیا کہ اس نے کہا ہے کہ وہ اس کے رب ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے قتل کر دو۔ لوگوں نے اسے روندنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا، پھر اہل حیرۃ کے لوگ آئے انہوں نے لاش کے بدلے بارہ ہزار دیے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا اور حکم دیا کہ اس کی لاش جلا دو اور اس کا مال بھی پیش نہ کیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس میں مال کا ذکر نہیں ہے۔ پھر شافعی (رحمہ اللہ) سے اس میں اختلاف ثابت ہے اور اس کے چھوڑنے میں عذر بیان کیا، اس کا قول بظاہر نبی ﷺ کا قول ہے کہ ”مسلمان کافر کا وارث نہ بنے اور نہ کافر مسلمان کا وارث بنے“ جیسا کہ انہوں نے معاذ اور معاویہ رضی اللہ عنہما کا قول کہ مسلمان کا یہودی کا وارث بننا بھی چھوڑ دیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس میں مال کا ذکر نہیں ہے۔ پھر شافعی (رحمہ اللہ) سے اس میں اختلاف ثابت ہے اور اس کے چھوڑنے میں عذر بیان کیا، اس کا قول بظاہر نبی ﷺ کا قول ہے کہ ”مسلمان کافر کا وارث نہ بنے اور نہ کافر مسلمان کا وارث بنے“ جیسا کہ انہوں نے معاذ اور معاویہ رضی اللہ عنہما کا قول کہ مسلمان کا یہودی کا وارث بننا بھی چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 12464
وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ قَالَ: أُتِيَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فِي رَجُلٍ قَدْ مَاتَ عَلَى ⦗٤١٧⦘ غَيْرِ الْإِسْلَامِ وَتَرَكَ ابْنَهُ مُسْلِمًا، فَوَرَّثَهُ مِنْهُ مُعَاذٌ وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْإِسْلَامُ يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ " كَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ.
حافظ ثناء اللہ
ابواسود کہتے ہیں: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جو اسلام کے علاوہ (کسی اور دین پر) فوت ہوا تھا اور اس کا بیٹا مسلمان تھا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اسے وارث بنایا اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اسلام زیادہ کرتا ہے، کم نہیں کرتا۔“
حدیث نمبر: 12465
وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي حَكِيمٍ الْوَاسِطِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ أَخَوَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، يَهُودِيٌّ وَمُسْلِمٌ، فَوَرَّثَ الْمُسْلِمَ مِنْهُمَا وَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ، أَنَّ مُعَاذًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْإِسْلَامُ يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ "، فَوَرَّثَ الْمُسْلِمَ وَإِنْ صَحَّ الْخَبَرُ فَتَأْوِيلُهُ غَيْرُ مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ، إِنَّمَا أَرَادَ أَنَّ الْإِسْلَامَ فِي زِيَادَةٍ وَلَا يَنْقُصُ بِالرِّدَّةِ، وَهَذَا رَجُلٌ مَجْهُولٌ، فَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ دو آدمی اپنا جھگڑا یحییٰ بن یعمر کی طرف لے کر گئے، ایک یہودی اور ایک مسلمان۔ یحییٰ نے مسلمان کو وارث بنا دیا اور کہا: مجھے ابواسود نے بیان کیا کہ ان کو ایک آدمی نے بیان کیا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: «الْإِسْلَامُ يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ» ”اسلام زیادہ کرتا ہے، کم نہیں کرتا۔“ پس انہوں نے مسلمان کو وارث بنا دیا۔
حدیث نمبر: 12466
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " إِذَا ارْتَدَّ الْمُرْتَدُّ وَرِثَهُ وَلَدُهُ " هَذَا مُنْقَطِعٌ، الْقَاسِمُ لَمْ يُدْرِكْ جَدَّهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مرتد ہو جائے تو اس کی اولاد اس کی وارث ہوگی۔