کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے دادا کے ساتھ بھتیجے کو کوئی وراثت نہیں دی
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ وَالْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلِيًّا وَعَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ " كَانَا لَا يُوَرِّثَانِ ابْنَ الْأَخِ مَعَ الْجَدِّ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم سے روایت ہے کہ سیدنا علی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما بھتیجے کو دادا کے ساتھ وارث نہ بناتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗٣٧٩⦘ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " مَا وَرَّثَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَخًا لِأُمٍّ، وَلَا ابْنَ أَخٍ، مَعَ جَدٍّ شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگوں میں سے کوئی بھی اخیافی بھائی کو اور بھتیجے کو دادے کے ساتھ وارث نہ بناتا تھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنا يَزِيدُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ يُنْزِلُ بَنِي الْأَخِ مَعَ الْجَدِّ مَنَازِلَ آبَائِهِمْ، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ غَيْرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے بیان کیا گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ دادا کے ساتھ بھتیجوں کو ان کے باپوں کے درجے میں رکھتے تھے، اور نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ان کے سوا کوئی ایسا نہیں کرتا تھا۔