السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من لم يورث ابن الأخ مع الجد شيئا باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے دادا کے ساتھ بھتیجے کو کوئی وراثت نہیں دی
حدیث نمبر: 12320
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗٣٧٩⦘ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " مَا وَرَّثَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَخًا لِأُمٍّ، وَلَا ابْنَ أَخٍ، مَعَ جَدٍّ شَيْئًا ".حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگوں میں سے کوئی بھی اخیافی بھائی کو اور بھتیجے کو دادے کے ساتھ وارث نہ بناتا تھا۔