قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ} [النساء: 12].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ﴾ ”اور اگر کوئی مرد یا عورت ایسا ہو جس کی میراث لی جائے اور وہ کلالہ ہو (یعنی اس کے نہ ماں باپ ہوں نہ اولاد) اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے، پھر اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو وہ سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے۔“ [سورة النساء: 12]
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ قَانِفٍ، أَنَّ سَعْدًا كَانَ يَقْرَؤُهَا " وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ مِنْ أُمٍّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے تھے: ﴿وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ﴾ [سورة النساء: 12] ماں کی طرف سے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا رَوْحٌ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " أَلَا إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي أَوَّلِ سُورَةِ النِّسَاءِ فِي بَيَانِ الْفَرَائِضِ أَنْزَلَهَا اللهُ فِي الْوَلَدِ وَالْوَالِدِ، وَالْآيَةَ الثَّانِيَةَ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ أَنْزَلَهَا اللهُ فِي الزَّوْجِ وَالزَّوْجَةِ وَالْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ، وَالْآيَةَ الَّتِي خَتَمَ بِهَا سُورَةَ النِّسَاءِ أَنْزَلَهَا اللهُ فِي الْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ وَالْأَبِ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں کہا: خبردار! یہ آیت جو سورة النساء کے شروع میں ہے وہ فرائض کے بارے میں ہے، اس کو اولاد اور والدین کے بارے میں نازل کیا اور دوسری آیت جو سورة النساء میں ہے اسے اللہ تعالیٰ نے خاوند اور بیوی کے بارے میں نازل کیا اور اخیافی بھائی کے لیے، اور جو آیت سورة النساء کے آخر میں ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے حقیقی بھائی کے بارے میں نازل کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَلَّالِيُّ، ثنا أَبُو يَعْلَى، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " وَمِيرَاثُ الْإِخْوَةِ لِلْأُمِّ أَنَّهُمْ لَا يَرِثُونَ مَعَ الْوَلَدِ وَلَا مَعَ وَلَدِ الِابْنِ ذَكَرًا كَانَ أَوْ أُنْثَى شَيْئًا، وَلَا مَعَ الْأَبِ وَلَا مَعَ الْجَدِّ أَبِي الْأَبِ شَيْئًا، وَهُمْ فِي كُلِّ مَا سِوَى ذَلِكَ يُفْرَضُ لِلْوَاحِدِ مِنْهُمُ السُّدُسَ ذَكَرًا كَانَ أَوْ أُنْثَى، فَإِنْ كَانُوا اثْنَيْنِ فَصَاعِدًا ذُكُورًا أَوْ إِنَاثًا فُرِضَ لَهُمُ الثُّلُثُ يَقْتَسِمُونَهُ بِالسَّوَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اخیافی بھائی کی وراثت یہ ہے، وہ اولاد اور بیٹے کی اولاد، خواہ مذکر ہو یا مونث، کے ساتھ وارث نہیں بنیں گے اور نہ ہی باپ، دادا کے ساتھ، اور اس کے علاوہ ایک کے لیے سدس ہے، مذکر ہو یا مونث۔ پس اگر وہ ایک سے زائد ہوں، تو مذکر ہوں یا مونث، ثلث کے وارث ہوں گے اور برابر میں تقسیم کر لیں گے۔