کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے کہا: اس (بچے) کے اسلام کی صحت کا حکم لگایا جائے گا
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو ⦗٣٣٩⦘ خَلِيفَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ غُلَامًا مِنَ الْيَهُودِ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَعَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَنَظَرَ الْغُلَامُ إِلَى أَبِيهِ فَقَالَ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ، فَأَسْلَمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی ﷺ کی خدمت کرتا تھا، وہ بیمار ہو گیا تو نبی ﷺ اس کی عیادت کے لیے گئے، رسول اللہ ﷺ اس کے سر کے پاس بیٹھ گئے، بچے نے اپنے باپ کی طرف دیکھا تو اس نے کہا: ابوالقاسم کی اطاعت کرو، وہ مسلمان ہو گیا، رسول اللہ ﷺ جب وہاں سے نکلے تو فرما رہے تھے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری وجہ سے اس کو آگ سے بچا لیا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ أَخْبَرَنِي قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ، رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُ: " أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ " قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ وَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو حمزہ انصار کے ایک آدمی نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا کہ سب سے پہلے جس نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ کہتے ہیں: میں نے ابراہیم رحمہ اللہ کے سامنے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور کہا: وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْبَزَّازُ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَطَاءٍ الْمَقْدِسِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّامِيُّ، عَنِ النَّجِيبِ بْنِ السَّرِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ: " سَبَقْتُهُمُ إِلَى الْإِسْلَامِ قُدْمًا غُلَامًا مَا بَلَغْتُ أَوَانَ حُلُمِي " لَيْسَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ قُدْمًا، وَهَذَا شَائِعٌ فِيمَا بَيْنَ النَّاسِ مِنْ قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ إِلَيْنَا بِإِسْنَادٍ يُحْتَجُّ بِمِثْلِهِ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي سِنِّهِ يَوْمَ أَسْلَمَ.
حافظ ثناء اللہ
نجیب بن سری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان میں سے اسلام کی طرف سبقت لے جانے والا ہوں حالانکہ میں بچہ تھا، میں ابھی بلوغت کو نہ پہنچا تھا۔
اہل علم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کی عمر میں اختلاف کیا ہے۔
اہل علم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کی عمر میں اختلاف کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: " أَسْلَمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تو ان کی عمر آٹھ سال تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ " أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَسْلَمَ وَهُوَ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسحاق کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تو ان کی عمر دس سال تھی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ فِي الْمَغَازِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا يُونُسُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ قَالَ: أُرَاهُ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " أَسْلَمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تو ان کی عمر دس برس تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣٤٠⦘ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ الْوَلِيدِ يَقُولُ: سَمِعْتُ شَرِيكًا يَقُولُ: " أَسْلَمَ عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ إِحْدَى عَشْرَةَ سَنَةً ".
حافظ ثناء اللہ
حسین بن ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے شریک رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گیارہ سال کی عمر میں مسلمان ہوئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو بِشْرٍ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَغَيْرِهِ " وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ آمَنَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ أَوْ سِتَّ عَشْرَةَ " لَفْظُ حَدِيثِهِمَا، وَفِي حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ قَالَ: عَنِ الْحَسَنِ وَغَيْرِ وَاحِدٍ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ بَعْدَ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، أَوْ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں اور وہ پندرہ یا سولہ برس کے تھے۔
دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں اور وہ اس وقت پندرہ یا سولہ برس کے تھے۔
دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں اور وہ اس وقت پندرہ یا سولہ برس کے تھے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَفَعَ الرَّايَةَ إِلَى عَلِيٍّ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً " قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَوَقْعَةُ بَدْرٍ كَانَتْ بَعْدَمَا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ بِسَنَةٍ وَنِصْفِ سَنَةٍ، وَاخْتَلَفُوا فِي قَدْرِ مُقَامِهِ بِمَكَّةَ بَعْدَمَا بُعِثَ، فَقِيلَ: عَشْرًا، وَقِيلَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَقِيلَ: خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَإِنْ كَانَ عَشْرًا وَصَحَّ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ ابْنَ عِشْرِينَ سَنَةً يَوْمَ بَدْرٍ رَجَعَ سِنُّهُ يَوْمَ أَسْلَمَ إِلَى قَرِيبٍ مِمَّا قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَإِنْ كَانَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ أَوْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَإِلَى أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَاخْتَلَفُوا فِي سِنِّ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ قُتِلَ، فَقِيلَ: خَمْسٌ وَسِتُّونَ سَنَةً، وَقِيلَ: ثَلَاثٌ وَسِتُّونَ، وَقِيلَ: أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ، وَأَشْهَرُهُ ثَلَاثٌ وَسِتُّونَ، عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ مِنْ مُهَاجَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَرْجِعُ سِنُّهُ يَوْمَ أَسْلَمَ عَلَى قَوْلِ مَنْ قَالَ: مَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَشْرًا، إِلَى ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَعَلَى قَوْلِ مَنْ قَالَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ، إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، فَفِي أَكْثَرِ الرِّوَايَاتِ كَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَلَغَ مِنَ السِّنِّ حِينَ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْرًا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ احْتَلَمَ فِيهِ، وَمَا رُوِيَ مِنَ الشِّعْرِ مُحْتَمِلٌ لِلتَّأْوِيلِ مَعَ ضَعْفِ إِسْنَادِهِ، عَلَى أَنَّ الْحُكْمَ بِصِحَّةِ قَوْلِ الْبِالِغِ دُونَ الصَّبِيِّ الْمُمَيِّزِ وَقَعَ شِرْعَةً بَعْدَ إِسْلَامِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَإِسْلَامُهُ كَانَ مَحْكُومًا بِصِحَّتِهِ، إِمَّا لِأَنَّهُ بَقِيَ حَتَّى وَصَفَ الْإِسْلَامَ بَعْدَ بُلُوِغِهِ، أَوْ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاطَبَهُ بِالدُّعَاءِ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَغَيْرُهُ مِنَ الصِّبْيَانِ غَيْرُ مُخَاطَبٍ، أَوْ لِأَنَّ قَوْلَ الصَّبِيِّ الْمُمَيِّزِ إِذْ ذَاكَ كَانَ مَحْكُومًا بِصِحَّتِهِ قَبْلَ وُرُودِ الشَّرْعِ بِغَيْرِهِ، أَوْ كَانَ قَدِ احْتَلَمَ فَصَارَ بَالِغًا بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. ⦗٣٤١⦘ هَذَا وَقَدْ ذَهَبَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ فِي رِوَايَةِ قَتَادَةَ إِلَى أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَسْلَمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، أَوْ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً، كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا اور وہ اس وقت بیس برس کے تھے۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ آنے کے ایک سال یا نصف سال بعد غزوہ بدر واقع ہوا اور انہوں نے مکہ میں بعثت کے بعد کی مدت کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ کہا گیا ہے: دس برس اور یہ بھی کہا گیا ہے: تیرہ برس اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پندرہ برس۔ اگر مکہ میں دس برس مدت تھی تو صحیح ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوہ بدر کے وقت بیس برس کے تھے، تو ان کے اسلام لانے کی عمر اس کے قریب ہوگی جو عروہ نے بیان کی۔ اگر مکہ کی مدت تیرہ یا پندرہ برس ہے تو یہ کم ہی صحیح ہے۔
انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت ان کی عمر میں اختلاف کیا ہے۔ کہا گیا ہے: پینسٹھ سال اور یہ بھی کہا گیا ہے: تریسٹھ سال اور اس سے کم بھی بیان کی گئی ہے اور مشہور یہ ہے کہ تریسٹھ سال۔ اگر ہجرتِ رسول کے چالیسویں سال کو بنیاد بنایا جائے تو ان کی یہ عمر اس قول کے لحاظ سے ہے، جس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں دس سے تیرہ سال رہے اور اگر اس قول کو بنیاد بنایا جائے جس نے کہا: تیرہ سال سے دس سال تک تو یہ اکثر روایات میں ہے، جس میں آپ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جس میں احتمال ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ بالغ تھے اور جو اشعار میں منقول ہے ان کی اسناد ضعیف ہیں؛ بالغ ہونے کا صحیح حکم جو ممیز بچے سے الگ ہے، شرعاً سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اسلام کے بعد ہے، ان کا اسلام لانا ان کے صحیح ہونے کا حکم ہے۔ چونکہ باقیوں کے لیے اسلام سے متصف ہونا، بلوغت کے بعد ہے یا نبی ﷺ نے انہیں مخاطب کر کے اسلام کی دعوت دی ہے، جبکہ باقی بچے مخاطب نہیں ہیں، یا پھر ممیز بچے کا قول تب اس پر صحت کا حکم ہوگا، اس کے علاوہ شرع کے وارد ہونے سے پہلے یا جب وہ محتلم ہو گیا تو وہ بالغ ہو جائے گا۔
قتادہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی عمر پندرہ سال یا سولہ تھی۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ آنے کے ایک سال یا نصف سال بعد غزوہ بدر واقع ہوا اور انہوں نے مکہ میں بعثت کے بعد کی مدت کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ کہا گیا ہے: دس برس اور یہ بھی کہا گیا ہے: تیرہ برس اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پندرہ برس۔ اگر مکہ میں دس برس مدت تھی تو صحیح ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوہ بدر کے وقت بیس برس کے تھے، تو ان کے اسلام لانے کی عمر اس کے قریب ہوگی جو عروہ نے بیان کی۔ اگر مکہ کی مدت تیرہ یا پندرہ برس ہے تو یہ کم ہی صحیح ہے۔
انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت ان کی عمر میں اختلاف کیا ہے۔ کہا گیا ہے: پینسٹھ سال اور یہ بھی کہا گیا ہے: تریسٹھ سال اور اس سے کم بھی بیان کی گئی ہے اور مشہور یہ ہے کہ تریسٹھ سال۔ اگر ہجرتِ رسول کے چالیسویں سال کو بنیاد بنایا جائے تو ان کی یہ عمر اس قول کے لحاظ سے ہے، جس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں دس سے تیرہ سال رہے اور اگر اس قول کو بنیاد بنایا جائے جس نے کہا: تیرہ سال سے دس سال تک تو یہ اکثر روایات میں ہے، جس میں آپ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جس میں احتمال ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ بالغ تھے اور جو اشعار میں منقول ہے ان کی اسناد ضعیف ہیں؛ بالغ ہونے کا صحیح حکم جو ممیز بچے سے الگ ہے، شرعاً سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اسلام کے بعد ہے، ان کا اسلام لانا ان کے صحیح ہونے کا حکم ہے۔ چونکہ باقیوں کے لیے اسلام سے متصف ہونا، بلوغت کے بعد ہے یا نبی ﷺ نے انہیں مخاطب کر کے اسلام کی دعوت دی ہے، جبکہ باقی بچے مخاطب نہیں ہیں، یا پھر ممیز بچے کا قول تب اس پر صحت کا حکم ہوگا، اس کے علاوہ شرع کے وارد ہونے سے پہلے یا جب وہ محتلم ہو گیا تو وہ بالغ ہو جائے گا۔
قتادہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی عمر پندرہ سال یا سولہ تھی۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَجَّاجُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَى الضَّوْءَ سَبْعَ سِنِينَ، وَلَا يَرَى شَيْئًا، وَثَمَانِ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا " وَفِي رِوَايَةِ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ: " سَبْعًا يَرَى الضَّوْءَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ، وَثَمَانِيًا يُوحَى إِلَيْهِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ. قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَإِلَى مِثْلِ هَذَا ذَهَبَ الْحَسَنُ فِي قَدْرِ مَا كَانَ يُوحَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، فَعَلَى هَذَا التَّفْصِيلِ يَكُونُ إِسْلَامُ عَلِيٍّ بَعْدَ السِّنِينَ السَّبْعِ، وَهُوَ بَعْدَمَا أُوحِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَكُونُ مُقَامُهُ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْوَحْيِ ثَمَانِ سِنِينَ، فَيَكُونُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى قَوْلِ مَنْ قَالَ: قُتِلَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ مِنْ مُهَاجَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ أَسْلَمَ ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، كَمَا رُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، إِلَّا أَنَّ الرِّوَايَاتِ الْمَشْهُورَةَ فِي مُقَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْوَحْيِ تَدُلُّ عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں پندرہ سال ٹھہرے، وہ آواز سنتے تھے اور روشنی دیکھتے تھے، سات سال کی عمر میں اور آٹھویں برس آپ ﷺ پر وحی کی گئی اور مدینہ میں آپ ﷺ دس سال ٹھہرے۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی کی طرف حسن گئے ہیں کہ جس وقت نبی ﷺ پر مکہ میں وحی نازل کی گئی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اسلام سات سال بعد کا ہے، پس نبی ﷺ کا مکہ میں ٹھہرنا وحی کے بعد آٹھ سال کا عرصہ ہے اور مدینہ میں دس سال ہے، حجاج بن منہال کی روایت میں سات سال ہے، وہ روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے، آپ ﷺ آٹھ سال کے تھے، جب آپ ﷺ کی طرف وحی کی گئی اور مدینہ میں آپ ﷺ نے دس سال قیام کیا۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ نے مکہ میں آپ ﷺ پر وحی سے اندازہ لگایا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سات سال کی عمر کے بعد مسلمان ہوئے (یعنی جب اسلام لائے تو عمر سات سال سے زیادہ تھی) اور یہ آپ ﷺ پر وحی کے بعد ہے، مکہ میں وحی کے بعد آٹھ سال رہے تو اس لحاظ سے ان کے قول کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عمر شہادت کے وقت تریسٹھ برس تھی تو اس کا آغاز ہجرت نبوی کے چالیسویں سال سے ہے)، جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کی عمر پندرہ سال تھی، نبی ﷺ کے مکہ قیام اور وحی کے بعد مشہور روایات کافی تعداد میں ہیں۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی کی طرف حسن گئے ہیں کہ جس وقت نبی ﷺ پر مکہ میں وحی نازل کی گئی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اسلام سات سال بعد کا ہے، پس نبی ﷺ کا مکہ میں ٹھہرنا وحی کے بعد آٹھ سال کا عرصہ ہے اور مدینہ میں دس سال ہے، حجاج بن منہال کی روایت میں سات سال ہے، وہ روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے، آپ ﷺ آٹھ سال کے تھے، جب آپ ﷺ کی طرف وحی کی گئی اور مدینہ میں آپ ﷺ نے دس سال قیام کیا۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ نے مکہ میں آپ ﷺ پر وحی سے اندازہ لگایا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سات سال کی عمر کے بعد مسلمان ہوئے (یعنی جب اسلام لائے تو عمر سات سال سے زیادہ تھی) اور یہ آپ ﷺ پر وحی کے بعد ہے، مکہ میں وحی کے بعد آٹھ سال رہے تو اس لحاظ سے ان کے قول کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عمر شہادت کے وقت تریسٹھ برس تھی تو اس کا آغاز ہجرت نبوی کے چالیسویں سال سے ہے)، جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کی عمر پندرہ سال تھی، نبی ﷺ کے مکہ قیام اور وحی کے بعد مشہور روایات کافی تعداد میں ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ. وَكَذَا رَوَاهُ رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مکہ میں دس سال ٹھہرے۔ آپ ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تھا اور مدینہ میں بھی دس سال آپ ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: " أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَعِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مکہ میں تیرہ سال ٹھہرے اور مدینہ میں دس سال اور جب فوت ہوئے تو تریسٹھ برس عمر تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبَزَّازُ الطَّابَرَانِيُّ بِهَا أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَطَرِ بْنِ الْفَضْلِ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، كِلَاهُمَا عَنْ رَوْحٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں تیرہ سال ٹھہرے اور جب فوت ہوئے تو تریسٹھ برس عمر تھی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الطَّابَرَانِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا هِشَامٌ، ثنا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " بُعِثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لِأَرْبَعِينَ سَنَةً، فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ يُوحَى إِلَيْهِ، ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ فَهَاجَرَ عَشْرَ سِنِينَ، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَطَرِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ رَوْحٍ. وَأَمَّا الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَدِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ فِي مَبْلَغِ سِنِّهِ يَوْمَ أَسْلَمَ عَنْ عُرْوَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو چالیس برس کی عمر میں نبوت ملی، آپ ﷺ مکہ میں تیرہ برس ٹھہرے۔ آپ پر وحی نازل ہوتی تھی۔ پھر ہجرت کا حکم ہوا۔ آپ ﷺ نے دس سال ہجرت میں گزارے اور فوت ہوئے تو اس وقت تریسٹھ برس عمر تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: " أَسْلَمَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تو ان کی عمر آٹھ برس تھی۔ ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے خبر دی کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ چھ سال کی عمر میں اسلام لائے، کسی غزوے میں پیچھے نہ رہے اور وفات کے وقت ساٹھ برس سے زائد عمر تھی۔