حدیث نمبر: 12165
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَفَعَ الرَّايَةَ إِلَى عَلِيٍّ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً " قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَوَقْعَةُ بَدْرٍ كَانَتْ بَعْدَمَا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ بِسَنَةٍ وَنِصْفِ سَنَةٍ، وَاخْتَلَفُوا فِي قَدْرِ مُقَامِهِ بِمَكَّةَ بَعْدَمَا بُعِثَ، فَقِيلَ: عَشْرًا، وَقِيلَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَقِيلَ: خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَإِنْ كَانَ عَشْرًا وَصَحَّ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ ابْنَ عِشْرِينَ سَنَةً يَوْمَ بَدْرٍ رَجَعَ سِنُّهُ يَوْمَ أَسْلَمَ إِلَى قَرِيبٍ مِمَّا قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَإِنْ كَانَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ أَوْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَإِلَى أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَاخْتَلَفُوا فِي سِنِّ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ قُتِلَ، فَقِيلَ: خَمْسٌ وَسِتُّونَ سَنَةً، وَقِيلَ: ثَلَاثٌ وَسِتُّونَ، وَقِيلَ: أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ، وَأَشْهَرُهُ ثَلَاثٌ وَسِتُّونَ، عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ مِنْ مُهَاجَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَرْجِعُ سِنُّهُ يَوْمَ أَسْلَمَ عَلَى قَوْلِ مَنْ قَالَ: مَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَشْرًا، إِلَى ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَعَلَى قَوْلِ مَنْ قَالَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ، إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، فَفِي أَكْثَرِ الرِّوَايَاتِ كَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَلَغَ مِنَ السِّنِّ حِينَ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْرًا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ احْتَلَمَ فِيهِ، وَمَا رُوِيَ مِنَ الشِّعْرِ مُحْتَمِلٌ لِلتَّأْوِيلِ مَعَ ضَعْفِ إِسْنَادِهِ، عَلَى أَنَّ الْحُكْمَ بِصِحَّةِ قَوْلِ الْبِالِغِ دُونَ الصَّبِيِّ الْمُمَيِّزِ وَقَعَ شِرْعَةً بَعْدَ إِسْلَامِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَإِسْلَامُهُ كَانَ مَحْكُومًا بِصِحَّتِهِ، إِمَّا لِأَنَّهُ بَقِيَ حَتَّى وَصَفَ الْإِسْلَامَ بَعْدَ بُلُوِغِهِ، أَوْ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاطَبَهُ بِالدُّعَاءِ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَغَيْرُهُ مِنَ الصِّبْيَانِ غَيْرُ مُخَاطَبٍ، أَوْ لِأَنَّ قَوْلَ الصَّبِيِّ الْمُمَيِّزِ إِذْ ذَاكَ كَانَ مَحْكُومًا بِصِحَّتِهِ قَبْلَ وُرُودِ الشَّرْعِ بِغَيْرِهِ، أَوْ كَانَ قَدِ احْتَلَمَ فَصَارَ بَالِغًا بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. ⦗٣٤١⦘ هَذَا وَقَدْ ذَهَبَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ فِي رِوَايَةِ قَتَادَةَ إِلَى أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَسْلَمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، أَوْ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً، كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا اور وہ اس وقت بیس برس کے تھے۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ آنے کے ایک سال یا نصف سال بعد غزوہ بدر واقع ہوا اور انہوں نے مکہ میں بعثت کے بعد کی مدت کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ کہا گیا ہے: دس برس اور یہ بھی کہا گیا ہے: تیرہ برس اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پندرہ برس۔ اگر مکہ میں دس برس مدت تھی تو صحیح ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوہ بدر کے وقت بیس برس کے تھے، تو ان کے اسلام لانے کی عمر اس کے قریب ہوگی جو عروہ نے بیان کی۔ اگر مکہ کی مدت تیرہ یا پندرہ برس ہے تو یہ کم ہی صحیح ہے۔
انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت ان کی عمر میں اختلاف کیا ہے۔ کہا گیا ہے: پینسٹھ سال اور یہ بھی کہا گیا ہے: تریسٹھ سال اور اس سے کم بھی بیان کی گئی ہے اور مشہور یہ ہے کہ تریسٹھ سال۔ اگر ہجرتِ رسول کے چالیسویں سال کو بنیاد بنایا جائے تو ان کی یہ عمر اس قول کے لحاظ سے ہے، جس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں دس سے تیرہ سال رہے اور اگر اس قول کو بنیاد بنایا جائے جس نے کہا: تیرہ سال سے دس سال تک تو یہ اکثر روایات میں ہے، جس میں آپ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جس میں احتمال ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ بالغ تھے اور جو اشعار میں منقول ہے ان کی اسناد ضعیف ہیں؛ بالغ ہونے کا صحیح حکم جو ممیز بچے سے الگ ہے، شرعاً سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اسلام کے بعد ہے، ان کا اسلام لانا ان کے صحیح ہونے کا حکم ہے۔ چونکہ باقیوں کے لیے اسلام سے متصف ہونا، بلوغت کے بعد ہے یا نبی ﷺ نے انہیں مخاطب کر کے اسلام کی دعوت دی ہے، جبکہ باقی بچے مخاطب نہیں ہیں، یا پھر ممیز بچے کا قول تب اس پر صحت کا حکم ہوگا، اس کے علاوہ شرع کے وارد ہونے سے پہلے یا جب وہ محتلم ہو گیا تو وہ بالغ ہو جائے گا۔
قتادہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی عمر پندرہ سال یا سولہ تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12165
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ الحاكم 4562»