حدیث نمبر: 12166
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَجَّاجُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَى الضَّوْءَ سَبْعَ سِنِينَ، وَلَا يَرَى شَيْئًا، وَثَمَانِ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا " وَفِي رِوَايَةِ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ: " سَبْعًا يَرَى الضَّوْءَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ، وَثَمَانِيًا يُوحَى إِلَيْهِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ. قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَإِلَى مِثْلِ هَذَا ذَهَبَ الْحَسَنُ فِي قَدْرِ مَا كَانَ يُوحَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، فَعَلَى هَذَا التَّفْصِيلِ يَكُونُ إِسْلَامُ عَلِيٍّ بَعْدَ السِّنِينَ السَّبْعِ، وَهُوَ بَعْدَمَا أُوحِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَكُونُ مُقَامُهُ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْوَحْيِ ثَمَانِ سِنِينَ، فَيَكُونُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى قَوْلِ مَنْ قَالَ: قُتِلَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ مِنْ مُهَاجَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ أَسْلَمَ ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، كَمَا رُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، إِلَّا أَنَّ الرِّوَايَاتِ الْمَشْهُورَةَ فِي مُقَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْوَحْيِ تَدُلُّ عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں پندرہ سال ٹھہرے، وہ آواز سنتے تھے اور روشنی دیکھتے تھے، سات سال کی عمر میں اور آٹھویں برس آپ ﷺ پر وحی کی گئی اور مدینہ میں آپ ﷺ دس سال ٹھہرے۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی کی طرف حسن گئے ہیں کہ جس وقت نبی ﷺ پر مکہ میں وحی نازل کی گئی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اسلام سات سال بعد کا ہے، پس نبی ﷺ کا مکہ میں ٹھہرنا وحی کے بعد آٹھ سال کا عرصہ ہے اور مدینہ میں دس سال ہے، حجاج بن منہال کی روایت میں سات سال ہے، وہ روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے، آپ ﷺ آٹھ سال کے تھے، جب آپ ﷺ کی طرف وحی کی گئی اور مدینہ میں آپ ﷺ نے دس سال قیام کیا۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ نے مکہ میں آپ ﷺ پر وحی سے اندازہ لگایا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سات سال کی عمر کے بعد مسلمان ہوئے (یعنی جب اسلام لائے تو عمر سات سال سے زیادہ تھی) اور یہ آپ ﷺ پر وحی کے بعد ہے، مکہ میں وحی کے بعد آٹھ سال رہے تو اس لحاظ سے ان کے قول کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عمر شہادت کے وقت تریسٹھ برس تھی تو اس کا آغاز ہجرت نبوی کے چالیسویں سال سے ہے)، جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کی عمر پندرہ سال تھی، نبی ﷺ کے مکہ قیام اور وحی کے بعد مشہور روایات کافی تعداد میں ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12166
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 3547
تخریج حدیث «بخاري 3547۔ مسلم 2237»