السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: من قال: يحكم بصحة إسلامه باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے کہا: اس (بچے) کے اسلام کی صحت کا حکم لگایا جائے گا
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَجَّاجُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَى الضَّوْءَ سَبْعَ سِنِينَ، وَلَا يَرَى شَيْئًا، وَثَمَانِ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا " وَفِي رِوَايَةِ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ: " سَبْعًا يَرَى الضَّوْءَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ، وَثَمَانِيًا يُوحَى إِلَيْهِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ. قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَإِلَى مِثْلِ هَذَا ذَهَبَ الْحَسَنُ فِي قَدْرِ مَا كَانَ يُوحَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، فَعَلَى هَذَا التَّفْصِيلِ يَكُونُ إِسْلَامُ عَلِيٍّ بَعْدَ السِّنِينَ السَّبْعِ، وَهُوَ بَعْدَمَا أُوحِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَكُونُ مُقَامُهُ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْوَحْيِ ثَمَانِ سِنِينَ، فَيَكُونُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى قَوْلِ مَنْ قَالَ: قُتِلَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ مِنْ مُهَاجَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ أَسْلَمَ ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، كَمَا رُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، إِلَّا أَنَّ الرِّوَايَاتِ الْمَشْهُورَةَ فِي مُقَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْوَحْيِ تَدُلُّ عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں پندرہ سال ٹھہرے، سات سال تک آپ ﷺ آواز سنتے اور روشنی دیکھتے تھے اور کوئی چیز نہیں دیکھتے تھے، اور آٹھ سال آپ ﷺ پر وحی کی جاتی رہی اور مدینہ میں آپ ﷺ دس سال ٹھہرے۔
حجاج بن منہال کی روایت میں ہے: سات سال تک آپ ﷺ روشنی دیکھتے اور آواز سنتے تھے، اور آٹھ سال آپ ﷺ پر وحی کی جاتی رہی اور مدینہ میں آپ ﷺ نے دس سال قیام کیا۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مکہ میں نبی ﷺ پر وحی کی مدت کے بارے میں حسن بھی اسی طرح کی رائے رکھتے ہیں۔ اس تفصیل کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اسلام ان سات سالوں کے بعد ہے، یعنی نبی ﷺ پر وحی آنے کے بعد، تو وحی کے بعد آپ ﷺ کا مکہ میں قیام آٹھ سال ہوا۔ پس جو کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہجرتِ رسول ﷺ کے چالیسویں سال کے آخر میں تریسٹھ برس کی عمر میں شہید ہوئے، ان کے قول کے مطابق جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کی عمر پندرہ سال تھی، جیسا کہ ہم نے حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، البتہ وحی کے بعد نبی ﷺ کے مکہ میں قیام کے بارے میں مشہور روایات اس سے زیادہ مدت پر دلالت کرتی ہیں۔ واللہ اعلم۔