حدیث نمبر: 12172
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، وَأنا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ: آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”علم تین ہیں، اس کے علاوہ فضول ہے: محکم آیات، صحیح سنت، فرائض جس سے ترکے کی تقسیم انصاف سے ہو سکے۔“
حدیث نمبر: 12173
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ، وَتَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ، وَتَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ؛ فَإِنَّ الْعِلْمَ سَيَنْقَضِي وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، حَتَّى يَخْتَلِفَ الِاثَنَانِ فِي الْفَرِيضَةِ فَلَا يَجِدَانِ مَنْ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا " وَقَدْ قِيلَ: عَنْ عَوْفٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن سیکھ لو اور لوگوں کو سکھاؤ، علم سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، فرائض کا علم سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، علم عنقریب ختم ہو جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ حصوں میں دو آدمی اختلاف کریں گے، وہ دونوں کوئی ایسا آدمی نہ پائیں گے جو ان کے درمیان فیصلہ کر سکے۔“
حدیث نمبر: 12174
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا الْمُثَنَّى بْنُ بَكْرٍ الْعَطَّارُ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ فَذَكَرَهُ مَرْفُوعًا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فَإِنِّي امْرُؤٌ مَقْبُوضٌ، وَإِنَّ الْعِلْمَ سَيُقْبَضُ حَتَّى يَخْتَلِفَ الرَّجُلَانِ فِي الْفَرِيضَةِ فَلَا يَجِدَانِ مَنْ يُخْبُرُهُمَا بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں فوت ہونے والا ہوں۔ عنقریب علم ختم ہوجائے گا، یہاں تک کہ دو آدمی فرائض میں اختلاف کریں گے، لیکن کسی ایسے آدمی کو نہ پائیں گے جو ان کو اس کی خبر دے۔“
حدیث نمبر: 12175
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِرَاسٍ الْمَالِكِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الضَّحَّاكِ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْعَطَّافِ مَوْلَى بَنِي سَهْمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمَدَنِيُّ، ⦗٣٤٤⦘ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ؛ فَإِنَّهُ نِصْفُ الْعِلْمِ، وَهُوَ يُنْسَى، وَهُوَ أَوَّلُ شَيْءٍ يُنْتَزَعُ مِنَ أُمَّتِي " تَفَرَّدَ بِهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”فرائض سیکھ لو اور لوگوں کو سکھاؤ، وہ نصف علم ہے اور وہ بھلا دیا جائے گا اور وہ پہلی چیز ہے جو میری امت سے کھینچ لی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 12176
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: " تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَاللَّحْنَ وَالسُّنَّةَ كَمَا تَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”فرائض، لحن اور سنت بھی اسی طرح سیکھو جس طرح قرآن سیکھتے ہو۔“
حدیث نمبر: 12177
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ؛ فَإِنَّهَا مِنْ دِينِكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: علم فرائض سیکھو، وہ تمہارے دین (کے علم) میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 12178
قَالَ: وَثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ: " إِذَا لَهَوْتُمْ فَالْهُوا بِالرَّمْيِ، وَإِذَا تَحَدَّثْتُمْ فَتَحَدَّثُوا بِالْفَرَائِضِ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا: جب تم کھیلو تو تیر اندازی کھیلو اور جب تم باتیں کرو تو فرائض کی باتیں کرو۔
حدیث نمبر: 12179
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَلْيَتَعَلَّمِ الْفَرَائِضَ، وَلَا يَكُنْ كَرَجُلٍ لَقِيَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللهِ، أَعْرَابِيٌّ أَمْ مُهَاجِرٌ؟ فَإِنْ قَالَ: مُهَاجِرٌ، قَالَ: إِنْسَانٌ مِنَ أَهْلِي مَاتَ فَكَيْفَ نُقَسِّمُ مِيرَاثَهُ، فَإِنْ عَلِمَ كَانَ خَيْرًا أَعْطَاهُ اللهُ إِيَّاهُ، وَإِنْ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: فَمَا فَضْلُكُمْ عَلَيْنَا، إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَلَا تَعْلَمُونَ الْفَرَائِضَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: جو قرآن سیکھتا ہے اسے چاہیے کہ فرائض بھی سیکھے اور وہ اس آدمی کی طرح نہ ہو کہ جسے کوئی دیہاتی ملے اور وہ کہے: اے اللہ کے بندے! کیا تم دیہاتی ہو یا مہاجر؟ اگر وہ کہے کہ میں مہاجر ہوں تو وہ دیہاتی کہے: میرے گھر والوں میں سے ایک انسان فوت ہو گیا ہے، اس کی وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟ پس اگر وہ جانتا ہو گا تو اس کے لیے بہتر ہے جو اللہ نے اسے دیا ہے اور اگر وہ کہے: میں نہیں جانتا، تو دیہاتی کہے گا کہ ہم پر تم کو کس چیز کی فضیلت ہے؟ تم قرآن سیکھتے ہو لیکن فرائض نہیں سیکھتے۔
حدیث نمبر: 12180
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبِيدَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَلْيَتَعَلَّمِ الْفَرَائِضَ؛ فَإِنْ لَقِيَهُ أَعْرَابِيٌّ قَالَ: يَا مُهَاجِرُ، أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَإِنْ قَالَ: تُفْرِضُ؟ قَالَ: نَعَمْ، كَانَ ذَلِكَ، وَإِنْ قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَا فَضْلُكَ عَلَيَّ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عبیدہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: جو قرآن سیکھتا ہے اسے چاہیے کہ فرائض بھی سیکھے۔ اگر اسے کوئی دیہاتی ملے اور وہ کہے: اے مہاجر! کیا تو قرآن پڑھتا ہے؟ وہ کہے: ہاں۔ دیہاتی کہے گا: میں بھی قرآن پڑھتا ہوں، اگر وہ کہے: کیا تو فرائض کا علم جانتا ہے؟ وہ کہے گا: ہاں، تو ٹھیک ہے اور اگر کہے گا: نہیں، تو دیہاتی کہے گا: تجھے میرے اوپر کیا فضیلت ہے؟
حدیث نمبر: 12181
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أُرَى عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَتَعَلَّمِ الْفَرَائِضَ، وَلَا يَكُنْ كَرَجُلٍ لَقِيَهُ أَعْرَابِيٌّ فَيَقُولُ: يَا مُهَاجِرُ، أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ فَإِنْ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ⦗٣٤٥⦘ فَإِنَّ إِنْسَانًا مِنْ أَهْلِي مَاتَ، فَتَقُصُّ فَرِيضَتَهُ؟ فَإِنْ حَدَّثَهُ فَهُوَ عِلْمٌ عُلِّمَهُ وَزِيَادَةٌ زَادَهُ اللهُ، وَإِلَّا قَالَ: فَبِمَا تَفْضُلُونَنَا يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوعبیدہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: جو قرآن سیکھتا ہے اسے علم الفرائض بھی سیکھنا چاہیے اور اس آدمی کی طرح نہ ہو جسے کوئی ملے اور کہے: اے مہاجر! کیا تو قرآن پڑھتا ہے؟ اگر وہ جواب دے: ہاں، تو وہ کہے: ہمارے گھر کا ایک آدمی فوت ہو گیا ہے، پس تو اس کی وراثت تقسیم کر دے۔ اگر وہ کر دے تو یہ علم ہے جسے اس نے سیکھا اور زیادہ ہونا ہے جو اللہ نے اسے دیا ہے، ورنہ وہ کہے گا: اے مہاجرین! تم کو ہم پر کیا فضیلت ہے۔
حدیث نمبر: 12182
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَالْحَجَّ وَالطَّلَاقَ؛ فَإِنَّهُ مِنْ دِينِكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن ولید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”فرائض، حج اور طلاق کا علم حاصل کرو، وہ تمہارے دین میں سے ہے۔“
حدیث نمبر: 12183
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ " يَضَعُ الْكَبْلَ فِي رِجْلِيَّ، يُعَلِّمُنِي الْقُرْآنَ وَالْفَرَائِضَ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما میرے پاؤں میں بیڑی رکھتے اور مجھے قرآن اور علم الفرائض سکھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 12184
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَخْبَرَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ: " إِنَّمَا قِيلَ: الْفَرَائِضُ نِصْفُ الْعِلْمِ؛ لِأَنَّهُ يُبْتَلَى بِهِ النَّاسُ كُلُّهُمْ " قَالَ الشَّيْخُ: وَيُذْكَرُ عَنْ طَاوُسٍ وَقَتَادَةَ: الْفَرِيضَةُ ثُلُثُ الْعِلْمِ.
حافظ ثناء اللہ
بشر بن حکیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے:
کہا گیا ہے کہ فرائض نصف علم ہے، کیونکہ اس میں سارے لوگوں کو مبتلا کیا جاتا ہے۔
کہا گیا ہے کہ فرائض نصف علم ہے، کیونکہ اس میں سارے لوگوں کو مبتلا کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 12185
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ عَنِ الْفَرَائِضِ، قَالَ: " إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَعْلَمَهَا فَأَمِتْ جِيرَانَكَ، وَوَرِّثَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے علقمہ رحمہ اللہ سے فرائض کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: جب تو سیکھنے کا ارادہ کرے تو اپنے ہمسائے کو مار اور اس کی وراثت تقسیم کر۔