کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کسی ذمی کو اسے آباد کرنے کے لیے نہیں چھوڑا جائے گا؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے مسلمانوں میں سے اس شخص کے لیے قرار دیا ہے جو اسے آباد کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّجَّارِ بِالْكُوفَةِ، قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحْيَا مَيْتًا مِنْ مَوَتَانِ الْأَرْضِ فَلَهُ رَقَبَتُهَا، وَعَادِيُّ الْأَرْضِ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، ثُمَّ لَكُمْ مِنْ بَعْدِي " وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حُجَيْرٍ عَنْ طَاوُسٍ فَقَالَ: " ثُمَّ هِيَ لَكُمْ مِنِّي ".
حافظ ثناء اللہ
ابن طاؤس رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین میں سے کچھ آباد کی تو اس کے لیے اس کی نگرانی ہے اور پہلے زمین اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے اور تمہارے لیے بعد میں ہے۔“
ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”پھر وہ تمہارے لیے ہے میری طرف سے۔“
ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”پھر وہ تمہارے لیے ہے میری طرف سے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَادِيُّ الْأَرْضِ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ثُمَّ لَكُمْ مِنْ بَعْدُ، فَمَنْ أَحْيَا شَيْئًا مِنْ مَوَتَانِ الْأَرْضِ فَلَهُ رَقَبَتُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پہلے زمین اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے، پھر بعد میں تمہارے لیے ہے۔ پس جس نے بنجر زمین کو آباد کیا اس کی نگرانی کا وہی حق دار ہے۔“
وَبِهِ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " إِنَّ عَادِيَّ الْأَرْضِ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلَكُمْ مِنْ بَعْدُ، فَمَنْ أَحْيَا شَيْئًا مِنْ مَوَتَانِ الْأَرْضِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ”پہلے زمین اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے اور تمہارے لیے بعد میں ہے، پس جس نے بنجر زمین کو آباد کیا وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَوَتَانِ الْأَرْضِ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، فَمَنْ أَحْيَا مِنْهَا شَيْئًا فَهِيَ لَهُ " تَفَرَّدَ بِهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ مَرْفُوعًا مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنجر زمین اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے۔ پس جس نے بنجر زمین آباد کی وہ اسی کی ہے۔“