السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: لا يترك ذمي يحييه؛ لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم جعلها لمن أحياها من المسلمين باب: کسی ذمی کو اسے آباد کرنے کے لیے نہیں چھوڑا جائے گا؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے مسلمانوں میں سے اس شخص کے لیے قرار دیا ہے جو اسے آباد کرے۔
حدیث نمبر: 11784
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَادِيُّ الْأَرْضِ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ثُمَّ لَكُمْ مِنْ بَعْدُ، فَمَنْ أَحْيَا شَيْئًا مِنْ مَوَتَانِ الْأَرْضِ فَلَهُ رَقَبَتُهَا ".حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پہلے زمین اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے، پھر بعد میں تمہارے لیے ہے۔ پس جس نے بنجر زمین کو آباد کیا اس کی نگرانی کا وہی حق دار ہے۔“