السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: لا يترك ذمي يحييه؛ لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم جعلها لمن أحياها من المسلمين باب: کسی ذمی کو اسے آباد کرنے کے لیے نہیں چھوڑا جائے گا؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے مسلمانوں میں سے اس شخص کے لیے قرار دیا ہے جو اسے آباد کرے۔
حدیث نمبر: 11783
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّجَّارِ بِالْكُوفَةِ، قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحْيَا مَيْتًا مِنْ مَوَتَانِ الْأَرْضِ فَلَهُ رَقَبَتُهَا، وَعَادِيُّ الْأَرْضِ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، ثُمَّ لَكُمْ مِنْ بَعْدِي " وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حُجَيْرٍ عَنْ طَاوُسٍ فَقَالَ: " ثُمَّ هِيَ لَكُمْ مِنِّي ".حافظ ثناء اللہ
ابن طاؤس رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین میں سے کچھ آباد کی تو اس کے لیے اس کی نگرانی ہے اور پہلے زمین اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے اور تمہارے لیے بعد میں ہے۔“
ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”پھر وہ تمہارے لیے ہے میری طرف سے۔“