السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: لا يترك ذمي يحييه؛ لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم جعلها لمن أحياها من المسلمين باب: کسی ذمی کو اسے آباد کرنے کے لیے نہیں چھوڑا جائے گا؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے مسلمانوں میں سے اس شخص کے لیے قرار دیا ہے جو اسے آباد کرے۔
حدیث نمبر: 11785
وَبِهِ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " إِنَّ عَادِيَّ الْأَرْضِ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلَكُمْ مِنْ بَعْدُ، فَمَنْ أَحْيَا شَيْئًا مِنْ مَوَتَانِ الْأَرْضِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ”پہلے زمین اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے اور تمہارے لیے بعد میں ہے، پس جس نے بنجر زمین کو آباد کیا وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔“