کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس پر کوئی حق (قرض وغیرہ) ہو اسے خود پیش کرنے کی ضمانت (کفالۃ بالبدن) کے بارے میں کیا وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11413
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ أَلْفَ دِينَارٍ، قَالَ: ائْتِنِي بِالشُّهُودِ أُشْهِدْهُمْ عَلَيْكَ، قَالَ: كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا، قَالَ: فَأْتِنِي بِكَفِيلٍ، قَالَ: كَفَى بِاللهِ كَفِيلًا، قَالَ: فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، قَالَ: فَخَرَجَ فِي الْبَحْرِ وَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ الْتَمَسَ مَرْكَبًا يَقْدَمُ عَلَيْهِ لِلْأَجَلِ الَّذِي أَجَّلَهُ، فَلَمْ يَجِدْ مَرْكَبًا، فَأَخَذَ خَشَبَةً فَنَقَرَهَا فَأَدْخَلَ فِيهَا الدَّنَانِيرَ، وَصَحِيفَةً مِنْهُ إِلَى صَاحِبِهَا، ثُمَّ سَدَّ مَوْضِعَهَا، ثُمَّ أَتَى بِهَا الْبَحْرَ فَقَالَ: اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي تَسَلَّفْتُ مِنْ فُلَانٍ أَلْفَ دِينَارٍ، وَسَأَلَنِي كَفِيلًا فَقُلْتُ: كَفَى بِاللهِ كَفِيلًا، فَرَضِيَ بِكَ، وَسَأَلَنِي شُهُودًا فَقُلْتُ: كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا، فَرَضِيَ بِكَ، وَقَدْ جَهِدْتُ أَنْ أَجِدَ مَرْكَبًا أَبْعَثُ إِلَيْهِ الَّذِي لَهُ، فَلَمْ أَجِدْ مَرْكَبًا، وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُكَهَا، فَرَمَى بِهَا فِي الْبَحْرِ حَتَّى وَلَجَتْ فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَهُوَ فِي ذَلِكَ يَطْلُبُ مَرْكَبًا يَخْرُجُ إِلَى بَلَدِهِ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ سَلَّفَهُ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ مَرْكَبٌ قَدْ جَاءَ بِمَالِهِ، وَإِذَا هُوَ بِالْخَشَبَةِ، فَأَخَذَهَا لِأَهْلِهِ حَطَبًا، فَلَمَّا كَسَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ وَالصَّحِيفَةَ، ثُمَّ قَدِمَ الرَّجُلُ فَأَتَاهُ بِأَلْفِ دِينَارٍ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا زِلْتُ جَاهِدًا فِي طَلَبِ مَرْكَبٍ لِآتِيَكَ بِمَالِكَ، فَمَا وَجَدْتُ مَرْكَبًا قَبْلَ الَّذِي أَتَيْتُ فِيهِ، فَقَالَ: هَلْ كُنْتَ بَعَثْتَ إِلِيَّ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَدَّى عَنْكَ، فَانْصَرِفْ بِالْأَلْفِ دِينَارٍ رَاشِدًا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا تذکرہ فرمایا: ”اس نے بنی اسرائیل کے ایک دوسرے شخص سے ہزار دینار قرض مانگے۔ اس نے کہا: ایسے گواہ پیش کر جن پر مجھے اعتبار ہو، قرض مانگنے والا بولا: گواہ تو اللہ ہی کافی ہے، پھر اس نے کہا: کوئی ضامن لا، اس نے کہا: ضامن بھی اللہ ہی کافی ہے۔ اس نے ایک مقرر وقت کے لیے اسے قرض دے دیا۔ یہ قرض لے کر دریائی سفر پر روانہ ہوا۔ تلاش شروع کی تاکہ اس سے دریا پار کر کے اس مقرر مدت تک قرض دینے والے کے پاس پہنچ سکے، جو اس سے طے پائی تھی، لیکن کوئی سواری نہ ملی۔ آخر اس نے ایک لکڑی لی، اس میں ایک سوراخ کیا، پھر ایک ہزار دینار اور ایک خط رکھ دیا اور اس کا منہ بند کر دیا اور اسے دریا پر لے آیا، پھر کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لیے تھے، اس نے مجھ سے ضامن مانگا تو میں نے کہا: میرا ضامن اللہ ہے، وہ تجھ پر راضی ہوا اور اس نے مجھ سے گواہ مانگا تو میں نے یہی جواب دیا، وہ تجھ پر راضی ہوا اور میں نے بڑی کوشش کی کہ کوئی سواری ملے جس کے ذریعے میں اس کا قرض اس تک پہنچا سکوں، لیکن مجھے سواری نہ ملی، اس لیے میں اب اسے تیرے حوالے کرتا ہوں، چنانچہ اس نے وہ لکڑی دریا میں بہا دی۔ اب وہ دریا میں تھی اور وہ واپس آ گیا اور وہ اسی فکر میں تھا کہ کوئی کشتی ملے تاکہ وہ اپنے شہر جا سکے۔ دوسری طرف وہ آدمی جس نے قرض دیا تھا، اس تلاش میں آیا کہ ممکن ہے کوئی جہاز اس کا مال لایا ہو، لیکن وہاں اسے ایک لکڑی ملی، اس نے وہ لکڑی گھر کے ایندھن کے لیے لے لی۔ جب اسے چیرا تو اس میں سے دینار نکلے اور ایک خط بھی۔ پھر قرض خواہ اس کے گھر میں آیا اور ایک ہزار دینار اسے دیے اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے کوشش کی کہ کوئی سواری مل جائے اور تمہارا مال تمہیں واپس کر دوں، لیکن اس دن سے پہلے جب میں یہاں پہنچا ہوں، مجھے کوئی سواری نہ ملی۔ پھر اس آدمی نے پوچھا: تو نے پہلے میرے نام کوئی چیز بھیجی تھی؟ مقروض نے جواب دیا: ہاں۔ پھر اس نے کہا: اللہ نے آپ کا وہ قرض ادا کر دیا ہے جو آپ نے لکڑی میں بھیجا تھا۔ چنانچہ وہ اپنا ہزار دینار لے کر واپس آ گیا۔“
حدیث نمبر: 11414
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَخَذَ مِنْ مُتَّهَمٍ كَفِيلًا تَثَبُّتًا وَاحْتِيَاطًا " إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمٍ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو تہمت میں روکا اور دوسری مرتبہ تہمت والے سے احتیاط کے طور پر ضمانت لی۔
حدیث نمبر: 11415
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: " صَلَّيْتُ الْغَدَاةَ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَذَكَرَ قِصَّةَ ابْنِ النَّوَّاحَةِ وَأَصْحَابِهِ وَشَهَادَتِهِمْ لمُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ بِالرِّسَالَةِ، وَإِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَ بِقَتْلِ ابْنِ النَّوَّاحَةِ، ثُمَّ إِنَّهُ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي أُولَئِكَ النَّفَرِ، فَقَامَ جَرِيرٌ وَالْأَشْعَثُ فَقَالَا: اسْتَتِبْهُمْ وَكَفِّلْهُمْ عَشَائِرَهُمْ، فَاسْتَتَابَهُمْ فَتَابُوا، فَكفَّلَهُمْ عَشَائِرَهُمْ " ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّرْجَمَةِ بِلَا إِسْنَادٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا، فَوَقَعَ رَجُلٌ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَأَخَذَ حَمْزَةُ مِنَ الرَّجُلِ كُفَلَاءَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى عُمَرَ، وَكَانَ عُمَرُ قَدْ جَلَدَهُ مِائَةً، فَصَدَّقَهُمْ وَعَذَرَهُ بِالْجَهَالَةِ.
حافظ ثناء اللہ
حارثہ بن مضرب فرماتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، انہوں نے ابن نواحہ اور اس کے ساتھیوں کا قصہ بیان کیا اور مسیلمہ کذاب کے ساتھ ان کی شہادت بھی بیان کی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابن نواحہ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ پھر اس جماعت کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا۔ جریر اور اشعث رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور دونوں نے کہا: ان سے توبہ کراؤ اور ان کے قبیلے سے ضمانت مانگو۔ پھر انہوں نے توبہ کر لی اور ان کے قبیلے نے ان کی ضمانت دے دی۔
(ب) «قَالَ الْبُخَارِيُّ» ”بخاری نے کہا“: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو صدقہ وصول کرنے بھیجا، وہاں پہ ایک آدمی اپنی بیوی کی لونڈی پر واقع ہوا۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے آدمی سے ضمانت لی یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے 100 کوڑے لگائے، پھر اس نے قبول کیا اور جہالت کا عذر کیا۔
(ب) «قَالَ الْبُخَارِيُّ» ”بخاری نے کہا“: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو صدقہ وصول کرنے بھیجا، وہاں پہ ایک آدمی اپنی بیوی کی لونڈی پر واقع ہوا۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے آدمی سے ضمانت لی یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے 100 کوڑے لگائے، پھر اس نے قبول کیا اور جہالت کا عذر کیا۔
حدیث نمبر: 11416
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا السَّرَّاجُ، ثنا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الرَّجُلِ عَلَى شَهَادَةِ الرَّجُلِ فِي حَدٍّ، وَلَا كَفَالَةَ فِي حَدٍّ " وَرُوِّينَاهُ أَيْضًا عَنْ شُرَيْحٍ وَمَسْرُوقٍ وَإِبْرَاهِيمَ، وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حد میں کسی آدمی کی گواہی جائز نہیں اور نہ حد میں ضمانت جائز ہے۔
حدیث نمبر: 11417
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامَغَانِيُّ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ثنا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْكَلَاعِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَنْبَسَةَ الْحِمْصِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا كَفَالَةَ فِي حَدٍّ " ⦗١٢٨⦘ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: عُمَرُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الدِّمَشْقِيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ عَنِ الثِّقَاتِ قَالَ الشَّيْخُ: تَفَرَّدَ بِهِ بَقِيَّةُ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عُمَرَ بْنِ أَبِي عُمَرَ الْكَلَاعِيِّ، وَهُوَ مِنْ مَشَايِخِ بَقِيَّةَ الْمَجْهُولِينَ، وَرِوَايَاتُهُ مُنْكَرَةٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”حد میں ضمانت نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 11418
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبًا الَّذِي كَانَ يُقَدِّمُ الْخُصُومَ إِلَى شُرَيْحٍ قَالَ: خَاصَمَ رَجُلٌ ابْنًا لِشُرَيْحٍ إِلَى شُرَيْحٍ كَفَلَ لَهُ بِرَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَحَبَسَهُ شُرَيْحٌ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ قَالَ: " اذْهَبْ إِلَى عَبْدِ اللهِ بِفِرَاشٍ وَطَعَامٍ " وَكَانَ ابْنُهُ يُسَمَّى عَبْدَ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حبیب سے سنا، وہ جھگڑوں کو شریح رحمہ اللہ کی طرف لے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا: ایک آدمی اپنے بیٹے کو لے کر شریح رحمہ اللہ کے پاس گیا، وہ ایک آدمی کے قرض کا ضامن تھا۔ اسے شریح رحمہ اللہ نے روک لیا۔ جب رات ہوئی تو انہوں نے کہا: ”جاؤ عبداللہ کے پاس سونے اور کھانے کے لیے۔“ اور ان کے بیٹے کا نام عبداللہ تھا۔
حدیث نمبر: 11419
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا مُعَاذٌ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، وَحَمَّادٍ، أَنَّهُمَا قَالَا فِي رَجُلٍ تَكَفَّلَ بِنَفْسِ رَجُلٍ فَمَاتَ الرَّجُلُ، قَالَ أَحَدُهُمَا: " يَضْمَنُ الدَّرَاهِمَ "، وَقَالَ الْآخَرُ: " لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ، حکم اور حماد رحمہما اللہ سے نقل فرماتے ہیں، دونوں نے ایک آدمی کے بارے میں کہا جو کسی کا ضامن بنا تھا، دونوں میں سے ایک نے کہا: وہ درہموں کا ضامن ہے اور دوسرے نے کہا: اس پر کوئی چیز نہیں ہے۔