حدیث نمبر: 11404
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيَبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، وَيُوسُفُ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ هُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ ⦗١٢٤⦘ عَلَيْهَا، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهَا. ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، أَوْ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ " قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، قَالَ: " ثَلَاثَ كَيَّاتٍ "، قَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى، فَقِيلَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟ " قَالُوا: " نَعَمْ، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ "، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، عَلَيَّ دَيْنُهُ، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مُخْتَصَرًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
اس کا ترجمہ حدیث نمبر ۱۱۳۹۶ کے تحت گزر چکا ہے۔
حدیث نمبر: 11405
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ: قَالَ جَابِرٌ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ وَحَنَّطْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ، ثُمَّ أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا لَهُ: تُصَلِّي عَلَيْهِ؟ فَقَامَ فَخَطَا خُطًى ثُمَّ قَالَ: " عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قَالَ: فَقِيلَ: دِينَارَانِ، قَالَ: فَانْصَرَفَ. قَالَ: فَتَحَمَّلَهُمَا أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: الدِّينَارَانِ عَلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَقُّ الْغَرِيمِ، وَبَرِئَ مِنْهُمَا الْمَيِّتُ "، قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ: " مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ؟ " قَالَ: إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ، قَالَ: فَعَادَ إِلَيْهِ كَالْغَدِ قَالَ: قَدْ قَضَيْتُهُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
اس کا ترجمہ حدیث نمبر ۱۱۴۰۱ کے تحت گزر چکا ہے۔
حدیث نمبر: 11406
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِيسَى بْنُ صَدَقَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي وَإِمَامُ الْحِيِّ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالُوا لَهُ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْفَعُنَا اللهُ بِهِ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتُصَلِّي عَلَيْهِ؟ فَقَالَ: " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَفَيَضْمَنُهُ مِنْكُمْ أَحَدٌ حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَمَا يَنْفَعُكُمْ أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى رَجُلٍ مُرْتَهَنٍ فِي قَبْرِهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُحَاسِبَهُ؟ " وَرَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ عَنْ عِيسَى فَأَدْخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
عیسیٰ بن صدقہ فرماتے ہیں: میں، میرے والد اور محلے کے امام سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا کہ ہمیں حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، اللہ اسے ہمارے لیے نفع کا باعث بنائے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی فوت ہو گیا، رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے خبر دی۔ ہم نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس پر کوئی قرض ہے؟“ ہم نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اس کی ضمانت دے گا تاکہ میں نمازِ جنازہ پڑھاؤں؟“ انہوں نے نہ میں جواب دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس تمہیں یہ بات نفع نہیں دے گی کہ میں کسی ایسے آدمی کی نمازِ جنازہ پڑھاؤں جسے اس کی قبر میں رہن کے طور پر رکھا جا رہا ہو، یہاں تک کہ اللہ اسے قیامت کے دن اٹھائے اور اس سے حساب کتاب کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 11407
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ صَدَقَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ: شَهِدْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي حَبَسَ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، لَوْ حَدَّثْتَنَا حَدِيثًا عَسَى اللهُ أَنْ يَنْفَعَنَا بِهِ، قَالَ: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ ⦗١٢٥⦘ يَمُوتَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيَفْعَلْ؛ فَإِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ: " عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " فَمَا يَنْفَعُهُ أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى رَجُلٍ رُوحُهُ مُرْتَهَنٌ فِي قَبْرِهِ، لَا تَصْعَدُ رُوحُهُ إِلَى اللهِ، فَلَوْ ضَمِنَ رَجُلٌ دَيْنَهُ قُمْتُ فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِ؛ فَإِنَّ صَلَاتِي تَنْفَعُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالحمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ فرما رہے تھے: تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے آسمان کو زمین پر واقع ہونے سے روک رکھا ہے اپنی اجازت سے۔ ایک آدمی نے کہا: اے ابو حمزہ! اگر آپ ہمیں کوئی حدیث بیان کردیں تو ہوسکتا ہے کہ اللہ ہمیں اس سے نفع پہنچائے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تم میں سے جو طاقت رکھتا ہے کہ اس حالت میں فوت ہو کہ اس پر قرض نہ ہو تو ضرور ایسا کرے۔ بیشک میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا، ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ مقروض تو نہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا اس آدمی پر نماز پڑھانا اسے نفع نہیں دے گا جس کی روح اس کی قبر میں رہن رکھی ہوئی ہو۔ پھر اس کی روح اللہ کی طرف نہیں چڑھائی جاتی۔ پس اگر کوئی آدمی اس کی ضمانت دے اس کے قرض کی تو میں جنازہ پڑھا دیتا ہوں۔ میرا نماز جنازہ پڑھانا اسے نفع دے گا۔“
حدیث نمبر: 11408
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْفَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ قَالَ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: هُوَ ضَعِيفٌ، يَعْنِي عِيسَى بْنَ صَدَقَةَ، هَذَا وَخَالَفَهُمَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى فَقَالَ: صَدَقَةُ بْنُ عِيسَى، وَوَافَقَ يُونُسَ فِي ذِكْرِ سَمَاعِهِ مِنْ أَنَسٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 11409
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ عِيسَى قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَقَالَ: " عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " إِنْ ضَمِنْتُمْ دَيْنَهُ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ " قَالَ: الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: ثنا صَدَقَةُ أَبُو مُحْرِزٍ، سَمِعَ أَنَسًا.
حافظ ثناء اللہ
صدقہ بن عیسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا اس پر قرض تو نہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، (آپ ﷺ نے فرمایا:) ”اگر تم اس کی ضمانت دو تو میں نماز جنازہ پڑھا دیتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 11410
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا أَقْبَلَ قَالَ: " هَا هُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟ " فَسَكَتَ الْقَوْمُ، وَكَانَ إِذَا ابْتَدَأَهُمْ بِشَيْءٍ سَكَتُوا، ثُمَّ قَالَ: " هَا هُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ: هَذَا فُلَانٌ، فَقَالَ: " أَمَا إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ حُبِسَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ بِدَيْنٍ كَانَ عَلَيْهِ "، فَقَالَ رَجُلٌ: عَلَيَّ دَيْنُهُ، فَقَضَاهُ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ. وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِيُّ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ، عَنْ سَمُرَةَ. وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ فِي كِتَابِ التَّفْلِيسِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھائی پھر جب متوجہ ہوئے تو پوچھا: ”کیا بنی فلاں کا کوئی آدمی ادھر ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: یہ فلاں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا ساتھی جنت کے دروازے پر قرض کی وجہ سے رک گیا ہے۔“ ایک آدمی نے کہا: اس کا قرض مجھ پر ہے، پھر اس نے ادا کر دیا۔
حدیث نمبر: 11411
أَخْبَرَنَا أَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان کی جان اس کے قرض کی وجہ سے لٹکا دی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ ادا کر دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 11412
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ كَثِيرٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ مَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ ".
حافظ ثناء اللہ
”مسلمان کی جان اس وقت تک لٹکی رہتی ہے جب تک اس پر دَین (قرض) ہو۔“