کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اموال اور تحائف میں شراکت داری کا بیان۔
حدیث نمبر: 11420
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ لَا يُخَالِطُهُ شَيْءٌ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً، بِأَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا، فَفَشَتْ فِي ذَلِكَ الْمَقَالَةُ. قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا، قَالَ جَابِرٌ: فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: " بَلَغَنِي أَنَّ أَقْوَامًا يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا، وَاللهِ لَأَنَا أَتْقَى مِنْهُمْ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلَا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ "، قَالَ: فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هِيَ لَنَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ فَقَالَ: " لَا، بَلْ لِلْأَبَدِ "، قَالَ: وَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَحَدُهُمَا يَقُولُ: لَبَّيْكَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْآخَرُ: لَبَّيْكَ بِحِجَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَأَشْرَكَهُ فِي الْهَدْيِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ چوتھی ذی الحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ کہتے ہوئے اور اس کے ساتھ کوئی اور چیز نہ ملاتے ہوئے داخل ہوئے۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ ﷺ کے حکم سے ہم نے اپنے حج کو عمرہ کر ڈالا اور ہماری بیویاں بھی ہمارے لیے حلال ہو گئیں، اس پر لوگوں میں باتیں ہونے لگیں۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کچھ لوگ کہنے لگے: ”کیا ہم میں سے کوئی منیٰ اس طرح جائے گا کہ اس کی منی اس کے ذکر سے ٹپک رہی ہو؟“ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں، اللہ کی قسم! میں ان سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں، اگر مجھے وہ بات پہلے ہی معلوم ہوتی جو اب معلوم ہوئی ہے تو میں قربانی کے جانور اپنے ساتھ نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ قربانی کے جانور نہ ہوتے تو میں بھی احرام کھول دیتا۔“ اس پر سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”یا رسول اللہ! کیا یہ حکم خاص ہمارے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آئے۔ طاؤس اور عطاء رحمہ اللہ میں سے ایک کہتا ہے کہ انہوں نے «لَبَّيْكَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ» ”میں حاضر ہوں اس احرام کے ساتھ جس کا رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا“ کہا اور دوسرا کہتا ہے کہ انہوں نے کہا: «لَبَّيْكَ بِحَجَّةِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ» ”میں رسول اللہ ﷺ کے حج کی طرح حاضر ہوں“، نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے احرام پر قائم رہیں اور انہیں اپنی قربانی میں شریک کر لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشركة / حدیث: 11420
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 1564، مسلم 1240
تخریج حدیث «بخاري 1564، مسلم 1240»
حدیث نمبر: 11421
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوهْيَارٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَحَرْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً، الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرِكُوا فِي الْهَدْيِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى فِي كِتَابِ الْحَجِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے حدیبیہ کے دن ستر اونٹ ذبح کیے، ایک اونٹ سات کی طرف سے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”قربانی میں شریک ہو جاؤ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشركة / حدیث: 11421
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 3560، مسلم 1318
تخریج حدیث «بخاري 3560، مسلم 1318»
حدیث نمبر: 11422
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَيَّانَ بْنِ مُلَاعِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ، أَنَّهُ كَانَ ⦗١٣٠⦘ شَرِيكَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ فِي التِّجَارَةِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ قَالَ: " مَرْحَبًا بِأَخِي وَشَرِيكِي، لَا تُدَارِي وَلَا تُمَارِي ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سائب بن ابی سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ تجارت میں شروع میں نبی ﷺ کے شریک تھے، جب فتح مکہ کا دن تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے میرے بھائی! «مَرْحَبًا» ”مرحبا“ اور میرے شریک! نہ تم لڑتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشركة / حدیث: 11422
درجۂ حدیث محدثین: احمد 3095، ابو داؤد 4836
تخریج حدیث «احمد 3095، ابو داؤد 4836»
حدیث نمبر: 11423
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ، عَنِ السَّائِبِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيَّ وَيَذْكُرُونَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِهِ "، قُلْتُ: صَدَقْتَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، كُنْتَ شَرِيكِي فَنِعْمَ الشَّرِيكُ كُنْتَ، لَا تُدَارِي وَلَا تُمَارِي.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، لوگ میری تعریف اور میرا تذکرہ کر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔“ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے سچ کہا، آپ ﷺ میرے شریک تھے، کتنے ہی اچھے شریک۔ نہ آپ ﷺ لڑتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشركة / حدیث: 11423
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»