کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: رہن (گروی رکھی گئی چیز) کا ضمان (تاوان) لازم نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ، الرَّهْنُ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي رَهَنَهُ، لَهُ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَقَالَ فِي مَتْنِهِ: " الرَّهْنُ مِمَّنْ رَهَنَهُ، وَلَهُ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ "، وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، فَوَصَلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گروی رکھنے والے سے گروی روکی نہ جائے۔ اس کا نفع بھی اسی کے لیے ہے اور نقصان بھی اسی کے لیے ہے۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”ضمانت اس کی طرف سے ہے جو گروی رکھے، نفع بھی اسے ملے گا اور نقصان بھی اسی کا شمار ہوگا۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفِ بْنِ سُفْيَانَ الطَّائِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ، لِصَاحِبِهِ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ " وَرُوِيَ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گروی رکھنے والے سے گروی چیز روکی نہ جائے، فائدہ اور نفع بھی اس کا ہے اور نقصان بھی اس کا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَيَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عِمْرَانَ الْعَابِدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ، لَهُ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رہن ضبط نہ کیا جائے، رہن کے لیے نفع بھی ہے اور نقصان بھی اسی کا ہو گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، فَذَكَرَهُ. قَالَ عَلِيٌّ: زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ الثِّقَاتِ، وَهَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مُتَّصِلٌ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زِيَادٍ مُرْسَلًا، وَهُوَ الْمَحْفُوظُ، وَرَوَاهُ أَبُو عُمَرَ وَالْأَوْزَاعِيُّ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ مُرْسَلًا، إِلَّا أَنَّهُمَا جَعَلَا قَوْلَهُ: " لَهُ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ "، مِنْ قَوْلِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
علی (دارقطنی) فرماتے ہیں: زیاد بن سعد ثقہ حفاظ میں سے ہیں اور یہ سند حسن اور متصل ہے۔
شیخ کہتے ہیں کہ ایک اور راوی نے سفیان عن زیاد سے مرسل روایت کیا ہے اور وہ محفوظ ہے۔ ابو عمرو اوزاعی اور یونس بن یزید ایلی نے زہری سے، انہوں نے ابن مسیب سے مرسل روایت کیا ہے، مگر ان دونوں نے «لَهُ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ» ”نفع اس کا ہے اور نقصان بھی اسی کے ذمے ہے“ کو سعید بن مسیب کا قول بنا دیا ہے۔ واللہ اعلم۔
شیخ کہتے ہیں کہ ایک اور راوی نے سفیان عن زیاد سے مرسل روایت کیا ہے اور وہ محفوظ ہے۔ ابو عمرو اوزاعی اور یونس بن یزید ایلی نے زہری سے، انہوں نے ابن مسیب سے مرسل روایت کیا ہے، مگر ان دونوں نے «لَهُ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ» ”نفع اس کا ہے اور نقصان بھی اسی کے ذمے ہے“ کو سعید بن مسیب کا قول بنا دیا ہے۔ واللہ اعلم۔