السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرهن— رہن کا بیان
باب: الرهن غير مضمون باب: رہن (گروی رکھی گئی چیز) کا ضمان (تاوان) لازم نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11221
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، فَذَكَرَهُ. قَالَ عَلِيٌّ: زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ الثِّقَاتِ، وَهَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مُتَّصِلٌ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زِيَادٍ مُرْسَلًا، وَهُوَ الْمَحْفُوظُ، وَرَوَاهُ أَبُو عُمَرَ وَالْأَوْزَاعِيُّ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ مُرْسَلًا، إِلَّا أَنَّهُمَا جَعَلَا قَوْلَهُ: " لَهُ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ "، مِنْ قَوْلِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
علی (دارقطنی) فرماتے ہیں: زیاد بن سعد ثقہ حفاظ میں سے ہیں اور یہ سند حسن اور متصل ہے۔
شیخ کہتے ہیں کہ ایک اور راوی نے سفیان عن زیاد سے مرسل روایت کیا ہے اور وہ محفوظ ہے۔ ابو عمرو اوزاعی اور یونس بن یزید ایلی نے زہری سے، انہوں نے ابن مسیب سے مرسل روایت کیا ہے، مگر ان دونوں نے «لَهُ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ» ”نفع اس کا ہے اور نقصان بھی اسی کے ذمے ہے“ کو سعید بن مسیب کا قول بنا دیا ہے۔ واللہ اعلم۔