کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”رہن (گروی رکھی گئی چیز) کی ضمانت لازم ہے“۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حَسَّابٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ " قُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَكَ قَوْلَكَ: " لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ "، أَهُوَ الرَّجُلُ يَقُولُ: إِنْ لَمْ آتِكَ بِمَالِكَ فَهَذَا الرَّهْنُ لَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: وَبَلَغَنِي عَنْهُ بَعْدُ أَنَّهُ قَالَ: إِنْ هَلَكَ لَمْ يَذْهَبْ حَقُّ هَذَا، إِنَّمَا هَلَكَ مِنْ رَبِّ الرَّهْنِ لَهُ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گروی رکھی گئی چیز روکی نہ جائے“۔ معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے (امام زہری رحمہ اللہ سے) کہا: مجھے بتائیے! کیا آپ کے قول ”گروی رکھی گئی چیز روکی نہ جائے“ کا یہ مطلب ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اگر میں تجھے تیرا مال واپس نہ کروں تو یہ چیز تیری ہوگی؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ معمر کہتے ہیں: پھر مجھے ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ انہوں نے یہ کہا ہے: اگر وہ چیز ہلاک ہو جائے تو اس کا یہ حق ختم نہیں ہوگا، یہ تو رہن رکھنے والے کا نقصان ہوگا کیونکہ نفع بھی اس کا ہوتا ہے اور نقصان بھی اس کا ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الْحَنَفِيُّ بِهَرَاةَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ خَرْمٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ " قَالَ أَبُو حَازِمٍ: تَفَرَّدَ بِهِ حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْمَانِيُّ. ⦗٦٨⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَهُوَ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رہن اس چیز کے بدلے میں ہوتی ہے جس کے لیے وہ رکھی جائے، یعنی اگر وہ چیز گروی لینے والے کے پاس تباہ ہو جائے تو یہ اس کے مال کے بدلے میں ہو جائے گی۔“
ابو حازم فرماتے ہیں: اسے بیان کرنے میں حسان بن ابراہیم کرمانی منفرد ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ روایت عمرو بن دینار اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے۔
ابو حازم فرماتے ہیں: اسے بیان کرنے میں حسان بن ابراہیم کرمانی منفرد ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ روایت عمرو بن دینار اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أَبِي عَبَّادٍ الذَّارِعَ يَقُولُ: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ " قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَأَبُو عَبَّادٍ اسْمُهُ أُمَيَّةُ بَصْرِيٌّ، قَالَهُ زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ قِيلَ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الذَّارِعُ، وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوعًا قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ: إِسْمَاعِيلُ هَذَا يَضَعُ الْحَدِيثَ، وَهَذَا لَا يَصِحُّ، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ عَنْهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، وَالْأَصْلُ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ وَفِيهِ مِنَ الْوَهَنِ مَا فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رہن اسی چیز کے بدلے میں ہے جس کے لیے وہ رکھی جائے۔“ شیخ فرماتے ہیں: کہا گیا ہے کہ وہ اسماعیل بن ابی امیہ ذراع ہے۔ اسی طرح ایک اور روایت اس سے نقل کی گئی ہے اس سند سے عن سعید بن راشد عن حمید عن انس۔ یہ مرفوع روایت ہے۔ ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسماعیل حدیثیں وضع کرتا تھا اور یہ حدیث درست نہیں ہے۔
اس باب میں اصل ایک مرسل حدیث ہے اور اس میں بھی کمزوری موجود ہے۔
اس باب میں اصل ایک مرسل حدیث ہے اور اس میں بھی کمزوری موجود ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يُحَدِّثُ، أَنَّ رَجُلًا رَهَنَ فَرَسًا، فَنَفَقَ فِي يَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُرْتَهِنِ: " ذَهَبَ حَقُّهُ " وَقَدْ كَفَانَا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بَيَانَ وَهَنِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَذَلِكَ فِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ حَدَّثَهُمْ قَالَ: أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: زَعَمَ الْحَسَنُ كَذَا، ثُمَّ حَكَى هَذَا الْقَوْلَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: كَانَ عَطَاءٌ يَتَعَجَّبُ مِمَّا رَوَى الْحَسَنُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَخْبَرَنِيهِ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مُصْعَبٍ، عَنْ عَطَاءٍ عَنِ الْحَسَنِ، وَأَخْبَرَنِي مَنْ أَثِقُ بِهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ رَوَاهُ عَنْ مُصْعَبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَكَتَ عَنِ ⦗٦٩⦘ الْحَسَنِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَصْحَابُ مُصْعَبٍ يَرْوُونَهُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ الْحَسَنِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، كَذَلِكَ حُدِّثْنَا، وَلَكِنْ عَطَاءٌ مُرْسَلٌ اتَّفَقَ مِنَ الْحَسَنِ مُرْسَلٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمِمَّا يَدُلُّكَ عَلَى وَهَنِ هَذَا عِنْدَ عَطَاءٍ، إِنْ كَانَ رَوَاهُ، أَنَّ عَطَاءً يُفْتِي بِخِلَافِهِ، وَيَقُولُ فِيهِ بِخِلَافِ هَذَا كُلِّهِ، يَقُولُ: فِيمَا ظَهَرَ هَلَاكُهُ أَمَانَةٌ، وَفِيمَا خَفِي هَلَاكُهُ يَتَرَادَّانِ الْفَضْلَ، وَهَذَا أَثْبَتُ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ يَتَرَادَّانِ مُطْلَقَةً، وَمَا شَكَكْنَا فِيهِ، فَلَا يُشَكُّ أَنَّ عَطَاءً إِنْ شَاءَ اللهُ لَا يَرْوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُثْبَتًا عِنْدَهُ وَيَقُولُ بِخِلَافِهِ، مَعَ أَنِّي لَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا يَرْوِي هَذَا عَنْ عَطَاءٍ يَرْفَعُهُ إِلَّا مُصْعَبًا، وَالَّذِي رَوَى عَنْ عَطَاءٍ رَفَعَهُ مُوَافِقٌ قَوْلَ شُرَيْحٍ أَنَّ الرَّهْنَ بِمَا فِيهِ، وَقَدْ يَكُونُ الْفَرَسُ أَكْثَرَ مِمَّا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ وَمِثْلَهُ وَأَقَلَّ، فَلَمْ يَرْوِ أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنْ قِيمَةِ الْفَرَسِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ غَيْرِهِ عَنْ عَطَاءٍ يَرْفَعُهُ: " الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت مصعب بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی نے گھوڑا گروی رکھا تو وہ اس (گروی لینے والے) کے پاس مر گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص سے جس کے پاس گھوڑا گروی تھا، فرمایا: ”تیرا حق ختم ہو گیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی کمزوری بیان کر کے ہمیں کفایت کر دی ہے۔ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: حسن رحمہ اللہ نے یہ دعویٰ کیا، پھر یہ قول بیان کیا۔ ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ، حسن رحمہ اللہ کی اس روایت پر تعجب کیا کرتے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے کئی لوگوں نے یہ روایت مصعب سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے حسن سے بیان کی ہے، اور مجھے ایک قابلِ اعتماد شخص نے بتایا کہ اہل علم میں سے ایک آدمی نے اسے مصعب سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے اور حسن کا ذکر نہیں کیا۔ میں نے اس سے کہا: مصعب کے شاگرد تو اسے عطاء سے، وہ حسن سے روایت کرتے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، ہمیں اسی طرح بیان کیا گیا ہے، لیکن عطاء کی روایت مرسل ہے جو حسن کی مرسل کے موافق ہو گئی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء کے نزدیک اس روایت کے کمزور ہونے کی دلیل، اگر انہوں نے اسے روایت کیا ہو، یہ ہے کہ عطاء اس کے خلاف فتویٰ دیتے ہیں اور اس سب کے برعکس کہتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: جس چیز کا ہلاک ہونا ظاہر ہو وہ امانت ہے اور جس کا ہلاک ہونا پوشیدہ ہو اس میں دونوں فریق زائد رقم ایک دوسرے کو لوٹائیں گے۔ ان سے یہی روایت سب سے زیادہ ثابت ہے، اور ان سے مطلقاً یہ بھی مروی ہے کہ دونوں زائد رقم ایک دوسرے کو لوٹائیں گے۔ ہمیں جس بات میں بھی شک ہو، اس میں کوئی شک نہیں کہ عطاء ان شاء اللہ نبی ﷺ سے کوئی ایسی بات روایت نہیں کریں گے جو ان کے نزدیک ثابت ہو اور پھر اس کے خلاف کہیں۔ مزید یہ کہ میرے علم میں مصعب کے سوا کوئی ایسا شخص نہیں جو اسے عطاء سے مرفوعاً روایت کرتا ہو۔ اور جس نے اسے عطاء سے مرفوعاً روایت کیا ہے وہ شریح کے اس قول کے موافق ہے کہ رہن اسی چیز کے بدلے میں ہے جس کے لیے وہ رکھا گیا، حالانکہ گھوڑا کبھی اس قرض سے زیادہ قیمت کا ہوتا ہے، کبھی برابر اور کبھی کم، اور یہ روایت نہیں کیا گیا کہ آپ ﷺ نے اس سے گھوڑے کی قیمت کے بارے میں پوچھا ہو۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ بات ایک دوسرے راوی سے بھی عطاء کے واسطے سے مرفوعاً مروی ہے: ”رہن اسی چیز کے بدلے میں ہے جس کے لیے وہ رکھا گیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی کمزوری بیان کر کے ہمیں کفایت کر دی ہے۔ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: حسن رحمہ اللہ نے یہ دعویٰ کیا، پھر یہ قول بیان کیا۔ ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ، حسن رحمہ اللہ کی اس روایت پر تعجب کیا کرتے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے کئی لوگوں نے یہ روایت مصعب سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے حسن سے بیان کی ہے، اور مجھے ایک قابلِ اعتماد شخص نے بتایا کہ اہل علم میں سے ایک آدمی نے اسے مصعب سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے اور حسن کا ذکر نہیں کیا۔ میں نے اس سے کہا: مصعب کے شاگرد تو اسے عطاء سے، وہ حسن سے روایت کرتے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، ہمیں اسی طرح بیان کیا گیا ہے، لیکن عطاء کی روایت مرسل ہے جو حسن کی مرسل کے موافق ہو گئی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء کے نزدیک اس روایت کے کمزور ہونے کی دلیل، اگر انہوں نے اسے روایت کیا ہو، یہ ہے کہ عطاء اس کے خلاف فتویٰ دیتے ہیں اور اس سب کے برعکس کہتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: جس چیز کا ہلاک ہونا ظاہر ہو وہ امانت ہے اور جس کا ہلاک ہونا پوشیدہ ہو اس میں دونوں فریق زائد رقم ایک دوسرے کو لوٹائیں گے۔ ان سے یہی روایت سب سے زیادہ ثابت ہے، اور ان سے مطلقاً یہ بھی مروی ہے کہ دونوں زائد رقم ایک دوسرے کو لوٹائیں گے۔ ہمیں جس بات میں بھی شک ہو، اس میں کوئی شک نہیں کہ عطاء ان شاء اللہ نبی ﷺ سے کوئی ایسی بات روایت نہیں کریں گے جو ان کے نزدیک ثابت ہو اور پھر اس کے خلاف کہیں۔ مزید یہ کہ میرے علم میں مصعب کے سوا کوئی ایسا شخص نہیں جو اسے عطاء سے مرفوعاً روایت کرتا ہو۔ اور جس نے اسے عطاء سے مرفوعاً روایت کیا ہے وہ شریح کے اس قول کے موافق ہے کہ رہن اسی چیز کے بدلے میں ہے جس کے لیے وہ رکھا گیا، حالانکہ گھوڑا کبھی اس قرض سے زیادہ قیمت کا ہوتا ہے، کبھی برابر اور کبھی کم، اور یہ روایت نہیں کیا گیا کہ آپ ﷺ نے اس سے گھوڑے کی قیمت کے بارے میں پوچھا ہو۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ بات ایک دوسرے راوی سے بھی عطاء کے واسطے سے مرفوعاً مروی ہے: ”رہن اسی چیز کے بدلے میں ہے جس کے لیے وہ رکھا گیا۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، أنبأ الْوَلِيدُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ رَجُلًا رَهَنَ فَرَسًا، فَنَفَقَ الْفَرَسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ " وَرَوَاهُ أَيْضًا بِهَذَا اللَّفْظِ دُونَ الْقِصَّةِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا، وَزَمْعَةُ غَيْرُ قَوِيٍّ وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَخْذَهُ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ بِمُرْسَلِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ دُونَ غَيْرِهِ؛ لِأَنَّ مَرَاسِيلَهُ أَصَحُّ مِنْ مَرَاسِيلِ غَيْرِهِ؛ وَلَأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے گھوڑا گروی رکھا تو وہ ہلاک ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رہن اسی چیز کے بدلے میں ہوتی ہے جس میں وہ ہو۔“ اس حدیث کو انہی الفاظ کے ساتھ زمعہ بن صالح، ابن طاؤس سے اور وہ اپنے والد سے مرسل بیان کرتے ہیں، البتہ اس میں قصہ مذکور نہیں ہے اور زمعہ غیر قوی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس مسئلہ میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی مرسل مقبول ہے کیونکہ ان کی مرسل دوسروں کی مرسل سے قوی ہوتی ہے اور اس لیے بھی کہ یہ روایت موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي أَبَا عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: " مُرْسَلَاتُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ صِحَاحٌ، لَا نَرَى أَصَحَّ مِنْ مُرْسَلَاتِهِ، وَأَمَّا الْحَسَنُ وَعَطَاءٌ فَلَيْسَ هِيَ بِذَلِكَ، هِيَ أَضْعَفُ الْمُرْسَلَاتِ؛ لِأَنَّهُمَا كَانَا يَأْخُذَانِ عَنْ كُلٍّ ".
حافظ ثناء اللہ
حنبل بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے چچا ابو عبداللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا: حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی مرسل روایات صحیح کے درجے میں ہیں۔ ہمارے خیال میں ان کی مرسل سے کسی اور کی مرسل صحیح نہیں ہے اور رہی حسن اور عطاء رحمہما اللہ کی مرسل، تو یہ سب سے ضعیف ہیں؛ کیونکہ وہ تمام لوگوں سے لے لیتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ، ثنا مَطَرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي الرَّجُلِ يَرْتَهِنُ الرَّهْنَ فَيَضِيعُ قَالَ: " إِنْ كَانَ أَقَلَّ مِمَّا فِيهِ يَرُدُّ عَلَيْهِ تَمَامَ حَقِّهِ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَمِينٌ " هَذَا لَيْسَ بِمَشْهُورٍ عَنْ عُمَرَ، وَاخْتَلَفَتِ الرِّوَايَاتُ فِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَرُوِيَ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو کوئی چیز گروی لے، پھر وہ اس کے پاس ضائع ہو جائے: اگر وہ اس قرض سے کم قیمت کی ہو جس کے بدلے میں تھی تو (گروی رکھنے والا) اسے اس کا باقی حق پورا کرے گا اور اگر اس کی قیمت اس سے زیادہ ہو تو وہ امین ہے، یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مشہور نہیں ہے اور اس بارے میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایات مختلف ہیں۔
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ شَبَّانٍ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا كَانَ فِي الرَّهْنِ فَضْلٌ، فَإِنْ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَالرَّهْنُ بِمَا فِيهِ، فَإِنْ لَمْ تُصِبْهُ جَائِحَةٌ فَإِنَّهُ يَرُدُّ الْفَضْلَ. " مَا رَوَى خِلَاسٌ عَنْ عَلِيٍّ أَخَذَهُ مِنْ صَحِيفَةٍ، قَالَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ مِنَ الْحُفَّاظِ، وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُطْلَقًا: " يَتَرَادَّانِ الْفَضْلَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر گروی رکھی گئی چیز قیمت میں زیادہ ہو اور وہ چیز تباہ ہو جائے تو یہ اس قرض کے بدلے میں ہو گئی اور اگر وہ تباہ نہ ہو تو زائد قیمت واپس کر دی جائے گی۔ خلاس نے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہ انہوں نے ایک صحیفے سے لیا تھا۔ یہ بات یحییٰ بن معین رحمہ اللہ وغیرہ نے کہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک زائد قیمت لوٹائے گا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبَّانَ، ثنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ، فِي الرَّهْنِ إِذَا هَلَكَ: " يَتَرَادَّانِ الْفَضْلَ ".
حافظ ثناء اللہ
حکم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رہن میں اگر شیءِ مرہونہ ہلاک ہو جائے تو دونوں زیادتی کو واپس کریں گے۔
قَالَ: وَثنا عَبْدُ الْبَاقِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ فِي الرَّهْنِ: " يَتَرَادَّانِ الزِّيَادَةَ وَالنُّقْصَانَ " ⦗٧٢⦘ هَذَا مُنْقَطِعٌ، الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْحَجَّاجِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
حکم رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”دونوں زیادتی اور نقصان کو پورا کریں گے۔“ یہ منقطع ہے کیونکہ حکم بن عتبہ رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا، موصولاً بھی یہ روایت آتی ہے لیکن سنداً ضعیف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: " إِذَا كَانَ الرَّهْنُ أَفْضَلَ مِنَ الْقَرْضِ، أَوْ كَانَ الْقَرْضُ أَفْضَلَ مِنَ الرَّهْنِ، ثُمَّ هَلَكَ يَتَرَادَّانِ الْفَضْلَ ".
حافظ ثناء اللہ
حارث کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب رہن قرض سے زیادہ قیمتی ہو یا قرض رہن سے زیادہ ہو، پھر رہن رکھی ہوئی چیز ہلاک ہو جائے تو دونوں زیادہ مال واپس کریں گے۔
وَعَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: كَانَ يُقَالُ: يَتَرَادَّانِ الْفَضْلَ بَيْنَهُمَا. الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَمَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِمْ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ ثَالِثٍ عَنْ عَلِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کہا جاتا تھا کہ دونوں (فریق) زائد مال ایک دوسرے کو واپس کریں گے۔
حارث اعور، حجاج بن ارطاۃ اور معمر بن سلیمان قابلِ حجت نہیں ہیں۔ تیسری سند سے بھی یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے۔
حارث اعور، حجاج بن ارطاۃ اور معمر بن سلیمان قابلِ حجت نہیں ہیں۔ تیسری سند سے بھی یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبَّانَ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، ثنا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا كَانَ الرَّهْنُ أَقَلَّ رَدَّ الْفَضْلَ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ بِمَا فِيهِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: الرِّوَايَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَنْ يَتَرَادَّانِ الْفَضْلَ أَصَحُّ عَنْهُ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَقَدْ رَأَيْنَا أَصْحَابَكُمْ يُضَعِّفُونَ رِوَايَةَ عَبْدِ الْأَعْلَى الَّتِي لَا يُعَارِضُهَا مُعَارِضٌ تَضْعِيفًا شَدِيدًا، فَكَيْفَ بِمَا عَارَضَهُ فِيهِ مَنْ هُوَ أَقْرَبُ مِنَ الصِّحَّةِ وَأَوْلَى بِهَا مِنْهُ، وَهَذَا الْكَلَامُ فِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رہن قرض سے کم قیمت کا ہو تو ضائع ہونے پر باقی ادا کرنا ہوگا اور اگر رہن زیادہ قیمتی ہو تو یہ قرض کے بدلے میں چلا جائے گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وہ روایت جس میں ہے کہ دونوں اضافی قیمت واپس کریں گے عبدالاعلیٰ کی روایت کی بہ نسبت زیادہ صحیح ہے اور ہم نے آپ کے ساتھیوں کو دیکھا ہے کہ وہ عبدالاعلیٰ کی اس روایت کو، جس کے معارض کوئی روایت نہ ہو، شدید ضعیف قرار دیتے ہیں، تو اس روایت کا کیا حال ہوگا جس کے معارض وہ روایت ہو جو اس سے زیادہ صحت کے قریب اور اس کی زیادہ حقدار ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ابْنُ ابْنَةِ الْعَبَّاسِ بْنِ حَمْزَةَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الرَّخِّيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ: ⦗٧٣⦘ سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، فَقَالَ: " تَعْرِفُ وَتُنْكِرُ " فَقَالَ يَحْيَى: " قُلْتُ لِسُفْيَانَ يَعْنِي الثَّوْرِيَّ فِي أَحَادِيثِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، فَوَهَّنَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
امام علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ سے پوچھا: عبدالاعلیٰ ثعلبی کیسا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اس کی بعض روایات معروف ہیں اور بعض منکر۔ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے عبدالاعلیٰ کی محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ سے روایات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے انہیں کمزور کہا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ: " ذَهَبَتِ الرُّهُونُ بِمَا فِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ
قاضی شریح رحمہ اللہ کہتے ہیں: جس چیز کے عوض گروی رکھی جائے، پھر گروی چیز ہلاک ہو جائے تو وہ اس قرض کے بدلے میں ہو جائے گی۔