کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: رہن (گروی رکھی ہوئی چیز) میں ہونے والے اضافے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11205
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَيُشْرَبُ لَبَنُ النَّاقَةِ إِذَا كَانَتْ مَرْهُونَةً، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ النَّفَقَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پشت پر سواری کی جائے گی اس کے نفقہ کی وجہ سے جب کہ وہ مرہون ہو اور اونٹنی کا دودھ پیا جائے گا جب کہ وہ مرہونہ ہو اور دودھ پینے والے اور سواری کرنے والے کے ذمے نفقہ ہے۔“
حدیث نمبر: 11206
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَيُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَيَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ وَسُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ زَكَرِيَّا، وَزَادَا فِي مَتْنِهِ: " الْمُرْتَهَنَ "، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَفِي رِوَايَةِ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيِّ: عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ: " إِذَا كَانَتِ الدَّابَّةُ مَرْهُونَةً فَعَلَى الَّذِي رَهَنَ عَلَفُهَا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ نَفَقَتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سفیان بن حبیب، زکریا سے روایت کرتے ہیں اور اس روایت میں «الْمُرْتَهَنُ» کے الفاظ ہیں جو کہ محفوظ نہیں ہیں اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جب جانور گروی رکھا جائے تو گروی رکھنے والے کے ذمہ گھاس ہے اور دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا اور جو شخص سواری کرے اور دودھ پیے تو خرچہ اس کے ذمہ ہے۔“
حدیث نمبر: 11207
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّهْنُ مَحْلُوبٌ وَمَرْكُوبٌ " قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: إِنْ كَانُوا لَيَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَمْتِعُوا مِنَ الرَّهْنِ بِشَيْءٍ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گروی جانور کا دودھ بھی پیا جاسکتا ہے اور سواری بھی کی جاسکتی ہے۔“ راوی کہتا ہے کہ میں نے یہ بات ابراہیم رحمہ اللہ کو بیان کی تو انہوں نے فرمایا: اگرچہ گروی رکھنے والے اسے ناپسند بھی کریں۔
حدیث نمبر: 11208
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا شَيْبَانُ يَعْنِي ابْنَ فَرُّوخَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ " فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَكَرِهَ أَنْ يُنْتَفَعَ بِشَيْءٍ مِنْهُ. وَرَوَاهُ الْجَمَاعَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گروی جانور کا دودھ بھی پیا جاسکتا ہے اور سواری بھی کی جاسکتی ہے۔“ راوی کہتا ہے کہ میں نے یہ بات ابراہیم کو بتائی تو انہوں نے گروی جانور سے نفع حاصل کرنے کو مکروہ ہی سمجھا۔
حدیث نمبر: 11209
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: يُشْبِهُ قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ مَنْ رَهَنَ ذَاتَ دَرٍّ وَظَهْرٍ لَمْ يَمْنَعِ الرَّاهِنَ دَرَّهَا وَظَهْرَهَا؛ لِأَنَّ لَهُ رَقَبَتَهَا، فَهِيَ مَحْلُوبَةٌ وَمَرْكُوبَةٌ كَمَا كَانَتْ قَبْلَ الرَّهْنِ، قَالَ: وَمَنَافِعُ الرَّهْنِ لِلرَّاهِنِ، لَيْسَ لِلْمُرْتَهِنِ مِنْهَا شَيْءٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”گروی جانور کی سواری بھی کی جاسکتی ہے اور دودھ بھی دوہا جاسکتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کوئی دودھ والا یا سواری والا جانور گروی رکھے تو جس کے پاس گروی رکھا گیا ہو اسے منع نہ کیا جائے کہ وہ دودھ پیے یا سواری کرے؛ کیونکہ وہ اس کی دیکھ بھال بھی تو کرتا ہے۔ چنانچہ اس پر اسی طرح سواری کی جائے گی اور دودھ دوہا جائے گا جیسے رہن سے پہلے کیا جاتا تھا، فرماتے ہیں: رہن رکھی گئی چیز کے منافع گروی رکھنے والے کے لیے ہوں گے نہ کہ گروی لینے والے کے لیے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کوئی دودھ والا یا سواری والا جانور گروی رکھے تو جس کے پاس گروی رکھا گیا ہو اسے منع نہ کیا جائے کہ وہ دودھ پیے یا سواری کرے؛ کیونکہ وہ اس کی دیکھ بھال بھی تو کرتا ہے۔ چنانچہ اس پر اسی طرح سواری کی جائے گی اور دودھ دوہا جائے گا جیسے رہن سے پہلے کیا جاتا تھا، فرماتے ہیں: رہن رکھی گئی چیز کے منافع گروی رکھنے والے کے لیے ہوں گے نہ کہ گروی لینے والے کے لیے۔
حدیث نمبر: 11210
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ، الرَّهْنُ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي رَهْنَهُ لَهُ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: غُنْمُهُ: زِيَادَتُهُ، وَغُرْمُهُ: هَلَاكُهُ وَنَقْصُهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گروی رکھنے والے سے گروی چیز کا نفع نہ روکا جائے۔ اسی کے لیے نفع ہے اور اسی کے لیے نقصان ہے۔“
حدیث نمبر: 11211
قَالَ: وَأنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الثِّقَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، أَوْ مِثْلَ مَعْنَاهُ، لَا يُخَالِفُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11212
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ وَيُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ: إِنِّي أَسْلَفْتُ رَجُلًا خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ، وَرَهَنَنِي فَرَسًا، فَرَكِبْتُهَا، أَوْ أَرْكَبْتُهَا، قَالَ: " مَا أَصَبْتَ مِنْ ظَهْرِهَا فَهُوَ رِبًا ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: میں نے ایک آدمی کو پانچ سو درہم ادھار دیے اور اس نے مجھے اپنا گھوڑا گروی دیا، میں نے اس پر سواری کی یا کہا: کسی کو سواری کے لیے دیا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو کچھ تو نے اس کی سواری کی ہے وہ سود ہے۔
حدیث نمبر: 11213
وَعَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ، فِي رَجُلٍ ارْتَهَنَ جَارِيَةً فَأَرْضَعَتْ لَهُ، قَالَ: " يَغْرَمُ لِصَاحِبِ الْجَارِيَةِ قِيمَةَ إِرْضَاعِ اللَّبَنِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص کسی کے ہاں کوئی لونڈی گروی رکھے اور وہ اس کے لیے کسی کو دودھ پلائے تو گروی لینے والا اس کی قیمت ادا کرے گا۔
حدیث نمبر: 11214
وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " لَا يَنْتَفِعُ مِنَ الرَّهْنِ بِشَيْءٍ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گروی سے کسی قسم کا نفع حاصل نہیں کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 11215
وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ قَالَ: سُئِلَ شُرَيْحٌ عَنْ رَجُلٍ ارْتَهَنَ بَقَرَةً فَشَرِبَ مِنْ لَبَنِهَا، قَالَ: " ذَلِكَ شَرِبَ الرِّبَا ".
حافظ ثناء اللہ
امام شریح رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: کیا گروی رکھی گئی گائے کا دودھ پیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ سود ہے۔
حدیث نمبر: 11216
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَقُولُ فِي النَّخْلِ: " إِذَا رَهَنَهُ فَيَخْرُجُ فِيهِ ثَمَرَةٌ فَهُوَ مِنَ الرَّهْنِ " هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَكَذَلِكَ حَدِيثُ ابْنِ سِيرِينَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جو کھجور گروی رکھی جائے، پھر اس کا پھل آ جائے تو وہ بھی گروی ہے۔
حدیث نمبر: 11217
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ قَالَ: أنبأ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ " قَضَى فِيمَنِ ارْتَهَنَ نَخْلًا مُثْمِرًا فَلْيَحْسِبِ الْمُرْتَهِنُ ثَمَرَتَهَا مِنْ رَأْسِ الْمَالِ " قَالَ: وَذَكَرَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ شَبِيهًا بِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَحْسِبُ مُطَرِّفًا قَالَ فِي الْحَدِيثِ: مِنْ عَامِ حَجِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رہن رکھی گئی کھجوروں میں، جو بعد میں پھل لے آئیں، یہ فیصلہ فرماتے تھے کہ مرتہن اصل مال سے اس کے چھوہاروں کا حساب لگا لے۔