کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: تسعیر (اشیائے خوردونوش کی قیمت مقرر کرنے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، سَعِّرْ، قَالَ: " بَلِ ادْعُ اللهَ "، ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، سَعِّرْ، قَالَ: " بَلِ اللهُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللهَ وَلَيْسَتْ لِأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلِمَةٌ " وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، وَرَوَاهُ أَيْضًا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الْعَلَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ریٹ مقرر کر دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔“ پھر ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا: ریٹ مقرر کر دیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ ہی نرخ بڑھاتا اور کم کرتا ہے، اور میں تمنا اور امید کرتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کو اس حالت میں ملوں کہ میں نے کسی پر ظلم نہ کیا ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11143
درجۂ حدیث محدثین: مسند احمد 8243،8635
تخریج حدیث «مسند احمد 8243،8635»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ الْفَامِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ مِنْ أَصْلِهِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَثَابِتٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَدْ غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ غَلَا السِّعْرُ فَسَعِّرْ لَنَا، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلِمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چیزوں کے نرخ بڑھ گئے تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نرخ بڑھ گئے ہیں، آپ ہمارے لیے کوئی نرخ مقرر کر دیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے، وہی نرخ کم کرنے والا اور بڑھانے والا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو اس حالت میں ملوں گا کہ مجھ سے کوئی ایک بھی خون یا مال کے بارے میں حق لینے والا نہیں ہو گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11144
درجۂ حدیث محدثین: مسند احمد 2863،14103
تخریج حدیث «مسند احمد 2863،14103»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ الْخَالِقُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ الْمُسَعِّرُ " أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَفَّانَ. وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي.
حافظ ثناء اللہ
گزشتہ حدیث کی طرح ہے، اس میں صرف یہ زیادتی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے، وہی روزی تنگ اور فراخ کرنے والا ہے، رزق دینے والا اور نرخ مقرر کرنے والا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11145
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ وَهُوَ يَبِيعُ زَبِيبًا لَهُ بِالسُّوقِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِمَّا أَنْ تَزِيدَ فِي السِّعْرِ وَإِمَّا أَنْ تَرْفَعَ مِنْ سُوقِنَا " فَهَذَا مُخْتَصَرٌ، وَتَمَامُهُ فِيمَا رَوَى الشَّافِعِيُّ عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ بِحَاطِبٍ بِسُوقِ الْمُصَلَّى، وَبَيْنَ يَدَيْهِ غَرَارَتَانِ فِيهِمَا زَبِيبٌ، فَسَأَلَهُ عَنْ سِعْرِهِمَا، فَسَعَّرَ لَهُ مُدَّيْنِ لِكُلِّ دِرْهَمٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَدْ حُدِّثْتُ بِعِيرٍ مُقْبِلَةٍ مِنَ الطَّائِفِ تَحْمِلُ زَبِيبًا، وَهُمْ يَعْتَبِرُونَ بِسِعْرِكَ، فَإِمَّا أَنْ تَرْفَعَ فِي السِّعْرِ، وَإِمَّا أَنْ تُدْخِلَ زَبِيبَكَ الْبَيْتَ فَتَبِيعَهُ كَيْفَ شِئْتَ، فَلَمَّا رَجَعَ عُمَرُ حَاسَبَ نَفْسَهُ، ثُمَّ أَتَى حَاطِبًا فِي دَارِهِ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ الَّذِي قُلْتُ لَيْسَ بِعَزْمَةٍ مِنِّي، وَلَا قَضَاءٍ، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ أَرَدْتُ بِهِ الْخَيْرَ لِأَهْلِ الْبَلَدِ، فَحَيْثُ شِئْتَ فَبِعْ، وَكَيْفَ شِئْتَ فَبِعْ وَهَذَا فِيمَا كَتَبَ إِلِيَّ أَبُو نُعَيْمٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أَنَّ أَبَا عَوَانَةَ أَخْبَرَهُمْ قَالَ: ثنا الْمُزَنِيُّ، ثنا الشَّافِعِيُّ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ بازار میں کشمش بیچ رہے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یا تو آپ نرخ کم کریں یا پھر ہمارے بازار سے چلے جائیں۔“ یہ مختصر ہے، یہ تمام حدیث امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کی ہے۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ عید گاہ کے بازار میں حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، ان کے سامنے دو ٹوکریاں کشمش کی بھری پڑی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ان کا نرخ پوچھا تو انھوں نے کہا: ”دو مد ایک درہم میں دے رہا ہوں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے: ”مجھے طائف سے آنے والے ایک قافلے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ آپ کے نرخ کا اعتبار کرتے ہیں، یا تو آپ نرخ کم کریں یا پھر گھر میں بیٹھ کر بیچیں جیسے چاہیں۔“ چنانچہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھر آئے اور سوچ بچار کی تو پھر حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کے گھر ان سے ملنے گئے اور ان سے کہا: ”جو کچھ میں نے آپ سے کہا وہ میری طرف سے کوئی زبردستی نہیں اور نہ میری طرف سے وہ فیصلہ تھا، میں نے یہ بات صرف شہریوں کی بھلائی کے لیے کی تھی۔ اب آپ جہاں چاہیں بیچیں اور جتنے میں چاہیں بیچیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11146