حدیث نمبر: 11146
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ وَهُوَ يَبِيعُ زَبِيبًا لَهُ بِالسُّوقِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِمَّا أَنْ تَزِيدَ فِي السِّعْرِ وَإِمَّا أَنْ تَرْفَعَ مِنْ سُوقِنَا " فَهَذَا مُخْتَصَرٌ، وَتَمَامُهُ فِيمَا رَوَى الشَّافِعِيُّ عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ بِحَاطِبٍ بِسُوقِ الْمُصَلَّى، وَبَيْنَ يَدَيْهِ غَرَارَتَانِ فِيهِمَا زَبِيبٌ، فَسَأَلَهُ عَنْ سِعْرِهِمَا، فَسَعَّرَ لَهُ مُدَّيْنِ لِكُلِّ دِرْهَمٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَدْ حُدِّثْتُ بِعِيرٍ مُقْبِلَةٍ مِنَ الطَّائِفِ تَحْمِلُ زَبِيبًا، وَهُمْ يَعْتَبِرُونَ بِسِعْرِكَ، فَإِمَّا أَنْ تَرْفَعَ فِي السِّعْرِ، وَإِمَّا أَنْ تُدْخِلَ زَبِيبَكَ الْبَيْتَ فَتَبِيعَهُ كَيْفَ شِئْتَ، فَلَمَّا رَجَعَ عُمَرُ حَاسَبَ نَفْسَهُ، ثُمَّ أَتَى حَاطِبًا فِي دَارِهِ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ الَّذِي قُلْتُ لَيْسَ بِعَزْمَةٍ مِنِّي، وَلَا قَضَاءٍ، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ أَرَدْتُ بِهِ الْخَيْرَ لِأَهْلِ الْبَلَدِ، فَحَيْثُ شِئْتَ فَبِعْ، وَكَيْفَ شِئْتَ فَبِعْ وَهَذَا فِيمَا كَتَبَ إِلِيَّ أَبُو نُعَيْمٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أَنَّ أَبَا عَوَانَةَ أَخْبَرَهُمْ قَالَ: ثنا الْمُزَنِيُّ، ثنا الشَّافِعِيُّ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ بازار میں کشمش بیچ رہے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یا تو آپ نرخ کم کریں یا پھر ہمارے بازار سے چلے جائیں۔“ یہ مختصر ہے، یہ تمام حدیث امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کی ہے۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ عید گاہ کے بازار میں حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، ان کے سامنے دو ٹوکریاں کشمش کی بھری پڑی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ان کا نرخ پوچھا تو انھوں نے کہا: ”دو مد ایک درہم میں دے رہا ہوں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے: ”مجھے طائف سے آنے والے ایک قافلے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ آپ کے نرخ کا اعتبار کرتے ہیں، یا تو آپ نرخ کم کریں یا پھر گھر میں بیٹھ کر بیچیں جیسے چاہیں۔“ چنانچہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھر آئے اور سوچ بچار کی تو پھر حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کے گھر ان سے ملنے گئے اور ان سے کہا: ”جو کچھ میں نے آپ سے کہا وہ میری طرف سے کوئی زبردستی نہیں اور نہ میری طرف سے وہ فیصلہ تھا، میں نے یہ بات صرف شہریوں کی بھلائی کے لیے کی تھی۔ اب آپ جہاں چاہیں بیچیں اور جتنے میں چاہیں بیچیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11146