السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: التسعير باب: تسعیر (اشیائے خوردونوش کی قیمت مقرر کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 11144
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ الْفَامِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ مِنْ أَصْلِهِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَثَابِتٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَدْ غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ غَلَا السِّعْرُ فَسَعِّرْ لَنَا، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلِمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چیزوں کے نرخ بڑھ گئے تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نرخ بڑھ گئے ہیں، آپ ہمارے لیے کوئی نرخ مقرر کر دیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے، وہی نرخ کم کرنے والا اور بڑھانے والا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو اس حالت میں ملوں گا کہ مجھ سے کوئی ایک بھی خون یا مال کے بارے میں حق لینے والا نہیں ہو گا۔“