کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: قرض دینے کی فضیلت کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: " لَأَنْ أُقْرِضَ دِينَارَيْنِ مَرَّتَيْنِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِمَا؛ لِأَنِّي أُقْرِضُهُمَا فَيَرْجِعَانِ إِلِيَّ فَأَتَصَدَّقَ بِهِمَا فَيَكُونُ لِي أَجْرُهُمَا مَرَّتَيْنِ " وَرُوِّينَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: " لَأَنْ أُقْرِضَ مَرَّتَيْنِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُعْطِيَهُ مَرَّةً "، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: " لَأَنْ أُقْرِضَ مَرَّتَيْنِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَرَّةً "، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْهُ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سالم، ابودرداء رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر میں دو مرتبہ دو دینار قرض دوں تو یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں ان دونوں کو صدقہ کروں، کیونکہ دونوں دینار جو میں نے قرض دیے ہیں وہ میری طرف لوٹ آئیں گے، پھر میں ان دونوں کو صدقہ کر دوں تو میرے لیے دوہرا اجر ہو گا۔
(ب) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں دو مرتبہ قرض دوں، مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں صرف ایک مرتبہ صدقہ یا عطیہ کر دوں۔
(ج) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں دو مرتبہ قرض دوں تو یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک مرتبہ صدقہ کر دوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10951
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، بِحَلَبَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يُسَيْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ رُومِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أُذُنَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَقْرَضَ وَرِقًا مَرَّتَيْنِ كَانَ كَعَدْلِ صَدَقَةٍ مَرَّةً " كَذَا رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ يُسَيْرٍ النَّخَعِيُّ أَبُو الصَّبَّاحِ الْكُوفِيُّ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ. وَرَوَاهُ الْحَكَمُ وَأَبُو إِسْحَاقَ وَإِسْرَائِيلُ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أُذُنَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ قَوْلِهِ، وَرَوَاهُ دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْكِنْدِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ، ⦗٥٧٩⦘ وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَرْفُوعًا، وَرَفْعُهُ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے چاندی دو مرتبہ قرض میں دی تو یہ ایک مرتبہ صدقہ کرنے کے برابر ہے“۔
اسے سلیمان بن یسیر نے اسی طرح روایت کیا ہے، امام بخاری فرماتے ہیں: وہ قوی نہیں ہے۔ دوسرے راویوں نے اسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اپنا قول روایت کیا ہے اور اس کا مرفوع ہونا ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10952
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ اخرجه ابن ماجه 2430»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، يَعْنِي ابْنَ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَأَنَا سَأَلْتُهُ، ثنا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: قَرَأْتُهُ عَلَى فُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ كَانَ يَسْتَقْرِضُ مِنْ مَوْلًى لِلنَّخَعِ تَاجِرٍ فَإِذَا خَرَجَ عَطَاؤُهُ قَضَاهُ وَإِنَّهُ خَرَجَ عَطَاؤُهُ، فَقَالَ لَهُ الْأَسْوَدُ: إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتَ عَنَّا، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ عَلَيْنَا حُقُوقٌ فِي هَذَا الْعَطَاءِ، فَقَالَ لَهُ التَّاجِرُ: لَسْتُ فَاعِلًا فَنَقَدَهُ الْأَسْوَدُ خَمَسَمِائَةِ دِرْهَمٍ حَتَّى إِذَا قَبَضَهَا التَّاجِرُ، قَالَ لَهُ التَّاجِرُ: دُونَكَ فَخُذْهَا، فَقَالَ لَهُ الْأَسْوَدُ: قَدْ سَأَلْتُ هَذَا فَأَبَيْتَ، فَقَالَ لَهُ التَّاجِرُ: إِنِّي سَمِعْتُكَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " مَنْ أَقْرَضَ شَيْئًا مَرَّتَيْنِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ أَحَدِهِمَا لَوْ تَصَدَّقَ بِهِ " تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ أَبُو حَرِيزٍ قَاضِي سِجِسْتَانَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
اسود بن یزید رحمہ اللہ نخع قبیلے کے ایک آزاد کردہ غلام تاجر سے قرض لیا کرتے تھے اور جب ان کا وظیفہ نکلتا تو اسے قرض واپس کر دیتے۔ جب ان کا وظیفہ نکلا تو اسود نے اس سے کہا: اگر چاہو تو ہم سے مؤخر کر دو، کیونکہ اس وظیفے میں ہم پر اور بھی حقوق ہیں، تو تاجر نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا، تو اسود نے اس کو 500 درہم نقد دے دیے، جب تاجر نے وصول کر لیے تو تاجر نے کہا: یہ لو، انہیں واپس لے لو۔ تو اسود نے کہا: میں نے پہلے یہی کہا تو آپ نے انکار کر دیا، تو تاجر نے کہا: میں نے آپ سے سنا ہے کہ آپ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایک چیز کو دو مرتبہ قرضہ میں دیا تو اس کے لیے ایک مرتبہ صدقہ کرنے کے برابر ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں عبداللہ بن حسین ابوحریز قاضی سجستان منفرد ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10953
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابن حبان 1155»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، رَفَعَهُ، قَالَ: " قَرْضُ الشَّيْءِ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَتِهِ " قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَجَدْتُهُ فِي الْمُسْنَدِ مَرْفُوعًا فَهِبْتُهُ فَقُلْتُ: رَفَعَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت فرماتے ہیں کہ: ”کسی چیز کو قرض میں دینا صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10954
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»