السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في فضل الإقراض باب: قرض دینے کی فضیلت کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، يَعْنِي ابْنَ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَأَنَا سَأَلْتُهُ، ثنا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: قَرَأْتُهُ عَلَى فُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ كَانَ يَسْتَقْرِضُ مِنْ مَوْلًى لِلنَّخَعِ تَاجِرٍ فَإِذَا خَرَجَ عَطَاؤُهُ قَضَاهُ وَإِنَّهُ خَرَجَ عَطَاؤُهُ، فَقَالَ لَهُ الْأَسْوَدُ: إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتَ عَنَّا، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ عَلَيْنَا حُقُوقٌ فِي هَذَا الْعَطَاءِ، فَقَالَ لَهُ التَّاجِرُ: لَسْتُ فَاعِلًا فَنَقَدَهُ الْأَسْوَدُ خَمَسَمِائَةِ دِرْهَمٍ حَتَّى إِذَا قَبَضَهَا التَّاجِرُ، قَالَ لَهُ التَّاجِرُ: دُونَكَ فَخُذْهَا، فَقَالَ لَهُ الْأَسْوَدُ: قَدْ سَأَلْتُ هَذَا فَأَبَيْتَ، فَقَالَ لَهُ التَّاجِرُ: إِنِّي سَمِعْتُكَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " مَنْ أَقْرَضَ شَيْئًا مَرَّتَيْنِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ أَحَدِهِمَا لَوْ تَصَدَّقَ بِهِ " تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ أَبُو حَرِيزٍ قَاضِي سِجِسْتَانَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.اسود بن یزید رحمہ اللہ نخع قبیلے کے ایک آزاد کردہ غلام تاجر سے قرض لیا کرتے تھے اور جب ان کا وظیفہ نکلتا تو اسے قرض واپس کر دیتے۔ جب ان کا وظیفہ نکلا تو اسود نے اس سے کہا: اگر چاہو تو ہم سے مؤخر کر دو، کیونکہ اس وظیفے میں ہم پر اور بھی حقوق ہیں، تو تاجر نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا، تو اسود نے اس کو 500 درہم نقد دے دیے، جب تاجر نے وصول کر لیے تو تاجر نے کہا: یہ لو، انہیں واپس لے لو۔ تو اسود نے کہا: میں نے پہلے یہی کہا تو آپ نے انکار کر دیا، تو تاجر نے کہا: میں نے آپ سے سنا ہے کہ آپ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایک چیز کو دو مرتبہ قرضہ میں دیا تو اس کے لیے ایک مرتبہ صدقہ کرنے کے برابر ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں عبداللہ بن حسین ابوحریز قاضی سجستان منفرد ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں۔