کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سفاتج (ہنڈی یا ڈرافٹ کے ذریعے رقم بھیجنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنِ ابْنِ جُعْدُبَةَ، عَنْ عُبَيْدٍ وَهُو ابْنُ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْنَبَ، قَالَتْ: أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسِينَ وَسْقًا تَمْرًا بِخَيْبَرَ وَعِشْرِينَ شَعِيرًا، قَالَتْ: فَجَاءَنِي عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ، فَقَالَ لِي: هَلْ لَكِ أَنْ أُوتِيَكِ مَالَكِ بِخَيْبَرَ هَا هُنَا بِالْمَدِينَةِ فَأَقْبَضَهُ مِنْكِ بِكَيْلِهِ بِخَيْبَرَ؟ فَقَالَتْ: لَا حَتَّى أَسْأَلَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَتْ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: " لَا تَفْعَلِي فَكَيْفَ لَكِ بِالضَّمَانِ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ " لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي غَرَزَةَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَتْ: فَجَاءَنِي عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي إِمَارَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ، وَرُوِيَ فِي حَدِيثٍ مَرْفُوعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُ؛ لِضَعْفِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے خیبر میں 50 وسق کھجوریں عطا کیں اور 20 وسق جو دیے، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: ”کیا میں آپ کو خیبر والے مال کے بدلے مدینہ میں خیبر کا ماپ ادا کروں؟“ میں نے کہا: ”میں سوال کر لوں“، پھر میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا: ”ایسا نہ کرنا، کیونکہ تم دونوں کے درمیان ضمانتی کون ہے؟“
(ب) ابن عبدالوہاب کی روایت میں ہے کہ عاصم میرے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں آئے۔
(ب) ابن عبدالوہاب کی روایت میں ہے کہ عاصم میرے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں آئے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بِالسَّفْتَجَاتِ بَأْسًا إِذَا كَانَ عَلَى الْوَجْهِ الْمَعْرُوفِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ چیک وغیرہ میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے جب وہ معروف طریقے سے ہو۔
قَالَ: وحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ ⦗٥٧٧⦘ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يَأْخُذُ مِنْ قَوْمٍ بِمَكَّةَ دَرَاهِمَ، ثُمَّ يَكْتُبُ بِهَا إِلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِالْعِرَاقِ فَيَأْخُذُونَهَا مِنْهُ، فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِكَ فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا، فَقِيلَ لَهُ: إِنْ أَخَذُوا أَفْضَلَ مِنْ دَرَاهِمِهِمْ، قَالَ: " لَا بَأْسَ إِذَا أَخَذُوا بِوَزْنِ دَرَاهِمِهِمْ " وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَإِنْ صَحَّ ذَلِكَ عَنْهُ، وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ إِذَا كَانَ ذَلِكَ بِغَيْرِ شَرْطٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ میں لوگوں سے رقم لیتے، پھر عراق میں مصعب بن زبیر کو خط لکھ دیتے، یہ لوگ ان سے رقم وصول کر لیتے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال ہوا۔ وہ بھی کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے۔ ان سے کہا گیا: وہ اس سے بہتر وصول کر لیں؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، جب وہ اپنے درہموں کے وزن کے مطابق وصول کریں۔
(ب) یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اگر یہ ان سے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح ثابت ہو تو اس سے ان کی مراد، واللہ اعلم، یہ ہے جو بغیر شرط کے ہو۔
(ب) یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اگر یہ ان سے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح ثابت ہو تو اس سے ان کی مراد، واللہ اعلم، یہ ہے جو بغیر شرط کے ہو۔