کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مسترسل (بھولے بھالے خریدار) کو دھوکہ دینے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ يَعْنِي الْمُحَارِبِيَّ، ثنا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اسْتَرْسَلَ إِلَى مُؤْمِنٍ فَغَبَنَهُ كَانَ غَبْنُهُ ذَلِكَ رِبًا " مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْقُرَشِيُّ هَذَا تَكَلَّمُوا فِيهِ، قَالَ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ: مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ عَامَّةُ مَا يَرْوِيهِ مِمَّا لَا يُتَابِعُهُ الثِّقَاتُ عَلَيْهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مَعْنَاهُ عَنْ يَعِيشَ بْنِ هِشَامٍ الْقَرْقِيسِيَانِيِّ، عَنْ مَالِكٍ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي إِسْنَادِهِ وَهُوَ أَضْعَفُ مِنْ هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مومن پر بھروسہ کیا اس نے دھوکا کیا تو اس کا یہ دھوکا سود ہے۔“
موسیٰ بن عمیر قرشی پر محدثین نے کلام کیا ہے، ابن عدی فرماتے ہیں: موسیٰ بن عمیر کی اکثر روایات ایسی ہیں جن پر ثقہ راوی ان کی متابعت نہیں کرتے۔ اس کا مفہوم یعیش بن ہشام قرقیسیانی کی امام مالک سے روایت میں بھی آیا ہے، اس کی سند میں اختلاف ہے اور وہ اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔
موسیٰ بن عمیر قرشی پر محدثین نے کلام کیا ہے، ابن عدی فرماتے ہیں: موسیٰ بن عمیر کی اکثر روایات ایسی ہیں جن پر ثقہ راوی ان کی متابعت نہیں کرتے۔ اس کا مفہوم یعیش بن ہشام قرقیسیانی کی امام مالک سے روایت میں بھی آیا ہے، اس کی سند میں اختلاف ہے اور وہ اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ النَّسَوِيِّ الْفَقِيهُ بِالدَّامَغَانِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ النَّسَوِيُّ، أَمَلَّهُ عَلَيْنَا إِمْلَاءً، ثنا خِدَاشُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا يَعِيشُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَبْنُ الْمُسْتَرْسِلُ رِبًا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قابل بھروسہ آدمی کا دھوکا کرنا سود ہے۔“
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ ظَفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الدَّقَّاقُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَنْبِجِيُّ، ثنا يَعِيشُ بْنُ هِشَامٍ الْقَرْقِيسِيَانِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " غَبْنُ الْمُسْتَرْسِلِ رِبًا " وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " غَبْنُ الْمُسْتَرْسِلِ رِبًا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قابل اعتماد آدمی کا دھوکا کرنا سود ہے۔“
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”قابل بھروسہ آدمی کا دھوکا کرنا سود ہے۔“
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”قابل بھروسہ آدمی کا دھوکا کرنا سود ہے۔“