السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما ورد في غبن المسترسل باب: مسترسل (بھولے بھالے خریدار) کو دھوکہ دینے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10923
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ يَعْنِي الْمُحَارِبِيَّ، ثنا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اسْتَرْسَلَ إِلَى مُؤْمِنٍ فَغَبَنَهُ كَانَ غَبْنُهُ ذَلِكَ رِبًا " مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْقُرَشِيُّ هَذَا تَكَلَّمُوا فِيهِ، قَالَ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ: مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ عَامَّةُ مَا يَرْوِيهِ مِمَّا لَا يُتَابِعُهُ الثِّقَاتُ عَلَيْهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مَعْنَاهُ عَنْ يَعِيشَ بْنِ هِشَامٍ الْقَرْقِيسِيَانِيِّ، عَنْ مَالِكٍ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي إِسْنَادِهِ وَهُوَ أَضْعَفُ مِنْ هَذَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مومن پر بھروسہ کیا اس نے دھوکا کیا تو اس کا یہ دھوکا سود ہے۔“
موسیٰ بن عمیر قرشی پر محدثین نے کلام کیا ہے، ابن عدی فرماتے ہیں: موسیٰ بن عمیر کی اکثر روایات ایسی ہیں جن پر ثقہ راوی ان کی متابعت نہیں کرتے۔ اس کا مفہوم یعیش بن ہشام قرقیسیانی کی امام مالک سے روایت میں بھی آیا ہے، اس کی سند میں اختلاف ہے اور وہ اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔