کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: تجارتی سامان لے کر آنے والوں سے (منڈی پہنچنے سے پہلے) آگے بڑھ کر ملنے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سامان فروخت کرنے والوں کو شہر سے باہر نہ ملو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَغَيْرُهُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ تَلَقِّي السِّلَعِ حَتَّى يُهْبَطَ بِهَا الْأَسْوَاقَ "، أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ نَافِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ”تجارتی قافلوں سے سامان منڈی میں آنے سے پہلے نہ خریدا کرو۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَزِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، لَفْظُهُ، قَالُوا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ، وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ " قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: " مَا قَوْلُهُ: لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ؟ قَالَ: لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ”تجارتی قافلوں کو شہر سے باہر ملا جائے اور شہری دیہاتی کے لیے فروخت نہ کرے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اس قول «لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ» ”کوئی شہری دیہاتی کے لیے فروخت نہ کرے“ کا کیا معنی ہے؟ فرمانے لگے کہ وہ اس کا دلال نہ بنے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَلَقَّوَا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ " وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم تجارتی قافلوں کو شہر سے باہر نہ ملو۔“
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتَلَقَّوَا الرُّكْبَانَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ سَمِعْتُ فِي هَذَا الْحَدِيثَ فَمَنَ تَلَقَّاهَا فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ بِالْخِيَارِ بَعْدَ أَنْ يَقْدَمَ السُّوقَ وَبِهَذَا نَأْخُذُ إِنْ كَانَ ثَابِتًا وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا تَلَقَّى السِّلْعَةَ فَاشْتَرَاهَا، فَالْبَيْعُ جَائِزٌ غَيْرَ أَنَّ لِصَاحِبِ السِّلْعَةِ بَعْدَ أَنْ يَقْدَمَ السُّوقَ الْخِيَارَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم تجارتی قافلوں کو شہر سے باہر نہ ملو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے شہر سے باہر جا کر سامان خریدا تو سامان والا بازار میں آنے کے بعد اختیار سے ہے، اگر یہ ثابت ہو تو ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی بیع درست ہے لیکن صاحبِ مال کو اختیار بھی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے شہر سے باہر جا کر سامان خریدا تو سامان والا بازار میں آنے کے بعد اختیار سے ہے، اگر یہ ثابت ہو تو ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی بیع درست ہے لیکن صاحبِ مال کو اختیار بھی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زُهَيْرٍ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ⦗٥٧٠⦘ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَلَقَّوَا الْجَلَبَ فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَيْئًا فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ إِذَا جَاءَ السُّوقَ " - وَفِي رِوَايَةِ الْأَوْزَاعِيِّ - " إِذَا أَتَى السُّوقَ بِالْخِيَارِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم تجارتی قافلوں کو شہر سے باہر نہ ملو، جو باہر جا کر ملا، اس سے سامان خریدا تو صاحبِ سامان کو اختیار ہے جب وہ بازار میں آئے۔“
اوزاعی کی روایت میں ہے: ”جب وہ بازار میں آئے تو اس کو اختیار ہے۔“
اوزاعی کی روایت میں ہے: ”جب وہ بازار میں آئے تو اس کو اختیار ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشََامٌ الْقُرْدُوسِيُّ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام فردوسی رحمہ اللہ اسی طرح ذکر کرتے ہیں کہ ”جب سامان کا مالک بازار آئے گا تو اس کو اختیار ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبَ، قَالَ: " فَإِنْ تَلَقَّاهُ مُتَلَقٍّ فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ فِيهَا بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَتِ السُّوقَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ”تجارتی قافلوں کو (شہر سے باہر) ملا جائے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کوئی ملنے والا ملتا ہے تو سامان کے مالک کو بازار آنے کے بعد اختیار ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ " فَإِنْ تَلَقَّاهُ مُتَلَقٍّ مُشْتَرٍ فَاشْتَرَاهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو توبہ ربیع بن نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شہر سے باہر جا کر سامان فروخت کرنے والے سے سامان خرید لیتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنِي عَمِّي، جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُ " أَنَّهُمْ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الطَّعَامَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرُّكْبَانِ فَنَهَاهُمْ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِ الَّذِي ابْتَاعُوهُ فِيهِ حَتَّى يَنْقُلُوهُ إِلَى سُوقِ الطَّعَامِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ وَقَالَ فِي مَتْنِهِ: " كُنَّا نَتَلَقَّى الرُّكْبَانَ فَنَشْتَرِيَ مِنْهُمُ الطَّعَامَ فَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى نَبْلُغَ بِهِ سُوقَ الطَّعَامِ "، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى صِحَّةِ الِابْتِيَاعِ مِنَ الرُّكْبَانِ وَإِنَّمَا مُنِعُوا مِنْ بَيْعِهِ بَعْدَ الْقَبْضِ حَتَّى يَنْقُلُوهُ إِلَى سُوقِ الطَّعَامِ؛ لِئَلَّا يُغْلُوا هُنَاكَ عَلَى مَنْ يُقَدِّرُ أَنَّهُ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ أَرْخَصُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں تجارتی قافلوں سے سامان خریدتے تھے، آپ ﷺ نے ان کو منع فرما دیا کہ وہ اس جگہ فروخت کریں جہاں سے انہوں نے خریدا ہے، یہاں تک کہ بازار منتقل کیا جائے۔
(ب) جویریہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم تجارتی قافلوں کو شہر سے باہر ملتے، ان سے غلہ خریدتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بازار لے جانے سے پہلے فروخت نہ کرو۔“
نوٹ: تجارتی قافلوں سے سامان خریدنا درست ہے، صرف قبضے کی وجہ سے منع کیا گیا کہ وہ اس کو منتقل کر لیں، ممکن ہے اس جگہ سے دوسری جگہ غلہ زیادہ قیمت کا ہو۔
(ب) جویریہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم تجارتی قافلوں کو شہر سے باہر ملتے، ان سے غلہ خریدتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بازار لے جانے سے پہلے فروخت نہ کرو۔“
نوٹ: تجارتی قافلوں سے سامان خریدنا درست ہے، صرف قبضے کی وجہ سے منع کیا گیا کہ وہ اس کو منتقل کر لیں، ممکن ہے اس جگہ سے دوسری جگہ غلہ زیادہ قیمت کا ہو۔